شہزادی کی انصاف کے لیے اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے وسطی ضلع نوشہرو فیروز میں مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون شہزادی ناگور نے کہا ہے کہ مقدمے کے تین اہم ملزمان کو پولیس نے ابھی گرفتار نہیں کیا ہے اور معاملہ جرگہ کے ذریعے نمٹانے پر زور دے رہے ہیں۔ شہزادی ناگور کے مطابق انہیں ضلع نوشہرو فیروز کے قصبے محراب پور میں چالیس روز قبل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ کراچی میں بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ وہ کپاس کی فصل میں کام کر رہی تھیں کہ پانچ افراد نے اچانک ان کو اور پانچ نے ان کے شوہر جمال الدین کو پکڑلیا اور پھر دو افراد نے ان کے ساتھ زیادتی کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان سے زیادتی کرنے والے ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ نوشہرو فیروز پولیس نے اس واردات کا مقدمہ دائر کرکے تیرہ ملزموں کو گرفتار کیا ہے، مگر متاثرین نے الزام عائد کیا ہے کہ اصل ملزموں کو پولیس تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ اخباری کانفرنس میں شہزادی ناگور کے بھتیجے عبدالرزاق ناگور نے بتایا کہ ایف آئی آر کے لیے جو درخواست دی گئی تھی اس پر ان ملزمان کے نام درج تھے مگر جب ایف آئی آر درج ہوئی تو اس میں ان افراد کے نام ہی نہیں تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اس بات کا اس وقت علم ہوا جب انہیں ایف آئی آر کی نقل فراہم کی گئی۔ شہزادی ناگور کے ساتھ پریس کانفرنس میں موجود این جی او ’عورت فاؤنڈیشن‘ کی ریجنل ڈائریکٹر انیس ہارون کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب میں مختاراں مائی کا واقعہ ہوتا ہے تو اس کو بین الاقوامی معاملہ بنایا جاتا ہے مگر سندھ میں ایسے واقعات ہوتے ہیں تو ان کا نوٹس بھی نہیں لیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا ’صدر مشرف یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ ہم نے حقوق نسواں کا بل پاس کروالیا ہے مگر یہ کس قسم کا تحفظ ہے؟‘ انہوں نے کہا ’اسی لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں تحفظ نہیں انصاف چاہیئے‘۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ اس معاملے کا نوٹس لے اور پولیس تینوں ملزمان کو گرفتار کرے۔ پولیس کا موقف انہوں نے کہا کہ متاثر فریق نے مقامی لوگوں کے کہنے پر تین اور لوگوں کے نام ایف آئی آر میں شامل کرنے کے لیے کہا۔ یہ لوگ علاقے کے بڑے ہیں جو اس واردات میں شامل نہیں ہیں مگر متاثرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ بندی میں شامل تھے۔ ڈی پی او کے مطابق ’میں نے انہیں کہا کہ اگر نام دینا چاہتے ہیں تو بھلے دیں مگر اس سے کیس خراب ہوجائے گا، جس کے بعد یہ پیچھے ہٹ گئے۔‘ ان کے مطابق ان لوگوں نے ایف آئی آر سے قبل ایسی کوئی درخواست نہیں دی تھی جس میں ان ناموں کا ذکر ہو۔ | اسی بارے میں نوشہرو فیروز میں گینگ ریپ03 November, 2006 | پاکستان پولیس: ملزم بہنوں سے جنسی زیادتی16 June, 2006 | پاکستان خطا کاالزام چچا پر اور سزا بھتیجی کو24 September, 2006 | پاکستان زیادتی نہیں ہوئی،ورثا مُکر گئے10 December, 2005 | پاکستان پولیس پر جنسی زیادتی کا مقدمہ06 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||