BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہزادی کی انصاف کے لیے اپیل

شہزادی
پریس کانفرنس کراچی میں کی گئی
سندھ کے وسطی ضلع نوشہرو فیروز میں مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون شہزادی ناگور نے کہا ہے کہ مقدمے کے تین اہم ملزمان کو پولیس نے ابھی گرفتار نہیں کیا ہے اور معاملہ جرگہ کے ذریعے نمٹانے پر زور دے رہے ہیں۔

شہزادی ناگور کے مطابق انہیں ضلع نوشہرو فیروز کے قصبے محراب پور میں چالیس روز قبل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

کراچی میں بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ وہ کپاس کی فصل میں کام کر رہی تھیں کہ پانچ افراد نے اچانک ان کو اور پانچ نے ان کے شوہر جمال الدین کو پکڑلیا اور پھر دو افراد نے ان کے ساتھ زیادتی کی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان سے زیادتی کرنے والے ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔

 شہزادی ناگور کے ساتھ پریس کانفرنس میں موجود این جی او عورت فاؤنڈیشن کی ریجنل ڈائریکٹر انیس ہارون کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب میں کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کو بین الاقوامی معاملہ بنایا جاتا ہے مگر سندھ میں ایسے واقعات ہوتے ہیں تو ان کا نوٹس بھی نہیں لیا جاتا

نوشہرو فیروز پولیس نے اس واردات کا مقدمہ دائر کرکے تیرہ ملزموں کو گرفتار کیا ہے، مگر متاثرین نے الزام عائد کیا ہے کہ اصل ملزموں کو پولیس تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

اخباری کانفرنس میں شہزادی ناگور کے بھتیجے عبدالرزاق ناگور نے بتایا کہ ایف آئی آر کے لیے جو درخواست دی گئی تھی اس پر ان ملزمان کے نام درج تھے مگر جب ایف آئی آر درج ہوئی تو اس میں ان افراد کے نام ہی نہیں تھے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں اس بات کا اس وقت علم ہوا جب انہیں ایف آئی آر کی نقل فراہم کی گئی۔

شہزادی ناگور کے ساتھ پریس کانفرنس میں موجود این جی او ’عورت فاؤنڈیشن‘ کی ریجنل ڈائریکٹر انیس ہارون کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب میں مختاراں مائی کا واقعہ ہوتا ہے تو اس کو بین الاقوامی معاملہ بنایا جاتا ہے مگر سندھ میں ایسے واقعات ہوتے ہیں تو ان کا نوٹس بھی نہیں لیا جاتا۔

 ’ان لوگوں کو بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے، انہوں نے پہلے ایف آئی آر میں بارہ لوگوں کے نام دیے تھے جنہیں ہم نے گرفتار کیا اور عدالت میں چالان بھی پیش کیا جا چکا ہے
عرفان بلوچ، ڈی پی او

ان کا کہنا تھا ’صدر مشرف یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ ہم نے حقوق نسواں کا بل پاس کروالیا ہے مگر یہ کس قسم کا تحفظ ہے؟‘

انہوں نے کہا ’اسی لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں تحفظ نہیں انصاف چاہیئے‘۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ اس معاملے کا نوٹس لے اور پولیس تینوں ملزمان کو گرفتار کرے۔

پولیس کا موقف
نوشہرو فیروز پولیس کے سربراہ عرفان بلوچ نے اخباری کانفرنس میں کیے گئے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ’ان لوگوں کو بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے، انہوں نے پہلے ایف آئی آر میں بارہ لوگوں کے نام دیے تھے جنہیں ہم نے گرفتار کیا اور عدالت میں چالان بھی پیش کیا جا چکا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ متاثر فریق نے مقامی لوگوں کے کہنے پر تین اور لوگوں کے نام ایف آئی آر میں شامل کرنے کے لیے کہا۔ یہ لوگ علاقے کے بڑے ہیں جو اس واردات میں شامل نہیں ہیں مگر متاثرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ بندی میں شامل تھے۔

ڈی پی او کے مطابق ’میں نے انہیں کہا کہ اگر نام دینا چاہتے ہیں تو بھلے دیں مگر اس سے کیس خراب ہوجائے گا، جس کے بعد یہ پیچھے ہٹ گئے۔‘

ان کے مطابق ان لوگوں نے ایف آئی آر سے قبل ایسی کوئی درخواست نہیں دی تھی جس میں ان ناموں کا ذکر ہو۔

اسی بارے میں
نوشہرو فیروز میں گینگ ریپ
03 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد