BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 March, 2007, 19:14 GMT 00:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ افراد، ورثاء کو معاوضہ دیا جائے

عوامی عدالت میں متاثرہ افراد کے ورثاء نے بیانات قلمبند کروائے (فائل فوٹو)
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جمعرات کے روز پشاور میں ایک عوامی عدالت نےمبینہ طور پر خفیہ اداروں کے ہاتھوں غائب کیے جانے والے افراد کے معاملے میں حکومت کو ذمہ دار قراردیا ہے۔

عوامی عدالت نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ افراد کے ورثاء کو معاوضہ ادا کیا جائے اور لاپتہ افراد کے مقدمات کے اخراجات بھی حکومت ہی برداشت کرے۔

’پاکستانی عورت کا مقدمہ بنام سرکار‘ کے عنوان سے منعقدہ اس عوامی عدالت کا اہتمام جمعرات کو پشاور پریس کلب میں انسانی حقوق کےلیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد (اے پی ایچ آر) نے کیا۔ جس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ این جی اوز کے اہلکاروں، صحافیوں اور وکلاء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر جبری گمشدگیوں، امن وامان اور خواتین کو ہراساں کرنے کے بارے میں تین الگ الگ سیشن منعقد ہوئے جس میں متاثرہ افراد کے ورثاء، غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکاروں اور صحافیوں نے ججوں کے پینل کے سامنے پیش ہوکر بیانات قلمبند کروائے۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان یا ایچ آر سی پی کے سنئیر اہلکار آئی اے رحمان اور سنئیر صحافی شمیم شاہد لاپتہ افراد کے حوالے سے پیش کیے گئے کیس کے جج تھے ۔

قابل مذمت اور شرمناک
 یہ بات قابل مذمت اور شرمناک ہے کہ جو لوگ لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھاتے ہیں حکومت کی طرف سے ان کو بھی ہراساں کرنے کی کوششیں ہورہی ہے۔ بلوچستان کے ان علاقوں سے بھی لوگوں کو غائب کیا گیا ہے جہاں پر کسی قسم کی دہشتگردی یا کشیدگی کی اطلاعات کبھی نہیں ملی ہیں۔
آئی اے رحمان

سماعت کے اختتام پر آئی اے رحمان نے کہا کہ یہ بات قابل مذمت اور شرمناک ہے کہ جو لوگ لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھاتے ہیں حکومت کی طرف سے ان کو بھی ہراساں کرنے کی کوششیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ان علاقوں سے بھی لوگوں کو غائب کیا گیا ہے جہاں پر کسی قسم کی دہشتگردی یا کشیدگی کی اطلاعات کبھی نہیں ملی ہیں۔ ’انسانی حقوق کی تنظیم نے 2006 میں ملک بھر میں لاپتہ افراد کے ننانوے کیسزز کی تحقیقات کی تھیں جس میں پینسٹھ بلوچستان سے تعلق رکھتے تھے۔‘

آئی اے رحمان کا کہنا تھا کہ جو لوگ رہا ہوکر آئے ہیں ان کی شہادتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد سرکاری اداروں کے تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔

ایچ ار سی پی کے اہلکار نے اس بات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا کہ رہا ہونے والوں میں بعض افراد کی دماغی حالت تشدد کی وجہ سے خراب ہوئی ہے اور مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کا علاج سرکاری طورپر کیا جائے جبکہ تمام لاپتہ افراد کے خاندانوں کو معاوضہ بھی ادا کیاجائے۔

عدالت کے اختتام پر تین قراردادیں بھی متفقہ طورپر منظور کی گئی جن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جبری طور پرغائب کئے جانے والے افراد کو فوری طورپر بازیاب کرایا جائے جبکہ ان کے ورثاء کو معاوضہ ادا کیاجائے۔

ایک اور قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ خواتین کے خلاف جرائم کو ریاست کے خلاف جرم قرار دیا جائے۔

پروگرام کی منتظم اور پشاور میں غیر سرکاری تنظیم ایکشن ایڈ کی خاتون اہلکار شازیہ حنا نے بتایا کہ تقریب میں ہونے والی تمام کاروائی بعد میں دنیا بھر میں انسانی حقوق کےلیے کام کرنی والی تنظیموں کو بھیجی جائے گی۔

اسی بارے میں
سندھ: ’475 خواتین کا قتل‘
28 December, 2006 | پاکستان
لاپتہ افراد کے لیے مظاہرہ
09 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد