BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 January, 2007, 22:48 GMT 03:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لا پتہ ہونے والوں کا وکیل بھی لاپتہ‘

لاپتہ
سی ایم فاروق اور ان کے ایک دوست، ایک پرانی تصویر
پاکستان میں پراسرار طور پر لاپتہ ہو جانے والوں کے مقدمات لڑنے والے ایک وکیل سی ایم فاروق خود بھی مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں۔
لاپتہ ہو جانے والے وکیل کے بھائی محمد عمر کے مطابق ان کے بھائی کو نامعلوم سادہ پوش مسلح افراد نے اغواء کیا ہے اور انہیں شبہ ہے کہ یہ کام کسی سرکاری خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے کا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد عمر نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ ان کے بھائی کو شاید اسلام آباد میں جمعہ کو ہونے والے بم دھماکے کی تفتیش کے سلسلے میں ’اٹھایا‘ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تیس سالہ سی ایم فاروق ہائی کورٹ کے قریب واقع چراغ بلڈنگ میں اپنے دفتر سے ایک ساتھی وکیل کے ہمراہ اس کی کار میں سوار گھر کے لیے روانہ تھے کہ راستے میں سِول سیکریٹریٹ کے قریب ایک ٹریفک سگنل پر گاڑی رکی تو ڈبل کیبن (فور بائی فور) گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے انہیں زبردستی اتارا، منہ پر کپڑا ڈالا اور ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے جائے وقوعہ سے غائب ہو گئے۔

محمد عمر نے کہا کہ ان کے بھائی کے پکڑے جانے کی اطلاع ان کے اس ساتھی وکیل نے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ فاروق کے ساتھی وکیل گھبرائے ہوئے تھے اور وہ اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔

محمد عمر بتاتے ہیں
 بھائی کے پکڑے جانے کی اطلاع ان کے اس ساتھی وکیل نے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ فاروق کے ساتھی وکیل گھبرائے ہوئے تھے اور وہ اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے

محمد عمر کےمطابق ان کے بھائی کو ’اغواء‘ کرنے والے پانچ گاڑیوں میں سوار تھے اور انہوں نے گاڑی سے ان کے بھائی کا لیپ ٹاپ کمپیوٹر اور فائلیں بھی قبضہ میں لے لیں۔ ان کے ساتھی وکیل کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے فاروق کو بھرے مجمع میں تشدد کا نشانہ بنایا اور یہ کہتے ہوئے سنے گئے ’تم سے کہا تھا کہ حملہ آوروں کا بتا دو لیکن تم نہیں بتایا اور اسلام اباد میں حملہ ہو گیا‘۔

سی ایم فاروق پراسرار طور پر لاپتہ ہوجانے اور پھر بازیاب ہوجانے والے متعدد افراد کے مقدمات لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے وائس فار ہیومن اینڈ پرزنرز رائٹس کے نام سے ایک تنظیم بھی بنا رکھی ہے، جو لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے مہم چلارہی ہے۔

محمد عمر کے مطابق ان کے بھائی چھ برس کشمیر میں اور چار برس افغانستان میں رہے، جہاں وہ ان کے بقول پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لیے کام کرتے تھے اور جہاد کے لیے جانے والے افراد کے معاملات کو ترتیب دیتے تھے۔

سی ایم فاروق کے چھوٹے بھائی نے کہا کہ انہیں آئی ایس آئی کے ایک کرنل سے اس بات پر اختلاف ہوا کہ بعض نوجوانوں کو بغیر کسی رابطہ کے کشمیر کیوں بھیجا جاتا ہے، جہاں ’لا وارث‘ ہوتے ہوئے وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔

محمد عمر نے کہا کہ اس اختلاف کے بعد وہ ایجنسیوں کو چھوڑ کر واپس آگئے اور پاکستان میں خفیہ ایجنسیوں کا شکار بننے والے افراد کے حق کے لیےقانونی جنگ لڑنے لگے۔ انہوں نے کہا ’میرے بھائی جن ایجنسیوں کے لیے کام کرتے تھے آج انہوں نے ہی انہیں پکڑ لیا ہے‘۔

خفیہ ایجنسی کے اہلکار آئے تھے
 چار روز قبل خفیہ ایجنسی کے چند اہلکار ان کے گھر آئے تھے اور وہ سی ایم فاروق سے پانچ عرب باشندوں کے بارے میں پوچھتے رہے جن میں قاری ظفر عرف ابوکفانہ، ڈاکٹر عبدالرؤف، حارث اور ابوضرار مجید وغیرہ شامل ہیں

محمد عمر نے کہا کہ اب سی ایم فاروق کا کسی تنظیم سےکوئی رابطہ نہیں تھا اور وہ صرف وکالت کرتے تھے۔ انہوں نے فاروق کی اہلیہ کا حوالہ دے کر بتایا کہ چار روز قبل خفیہ ایجنسی کے چند اہلکار ان کے گھر آئے تھے اور وہ سی ایم فاروق سے پانچ عرب باشندوں کے بارے میں پوچھتے رہے جن میں قاری ظفر عرف ابوکفانہ، ڈاکٹر عبدالرؤف، حارث اور ابوضرار مجید وغیرہ شامل ہیں۔

ان کے بقول ان کی بھابھی نے بتایا ہے کہ سادہ پوش اہلکار کہتے تھے کہ پانچ عرب باشندوں نے ایک گاڑی میں بارود بھر کر وانا سے بھجوایا ہے اور وہ جاننا چاہتے ہیں ان کا ہدف کیا ہے۔

عمر کا کہنا تھا کہ انہیں یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ فائرنگ کےدوران سی ایم فاروق زخمی ہوگئے تھے، تاہم یہ اطلاع غلط بھی ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد