ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | جسٹس افتخار کو حیدر آباد بار نے کنوینشن میں شرکت کی دعوت دی تھی |
پاکستان کے’غیرفعال‘ چیف جسٹس افتخار چودھری سکھر سے بذریعہ سڑک حیدرآباد پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اتوار کو وکلاء کنوینشن سے خطاب کریں گے۔ سکھر سے حیدرآباد کے راستے میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور عام افراد نے قومی شاہراہ کے دونوں اطراف کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا اور ان پر پھول نچھاور کیے۔ حیدرآباد میں ہونے والے وکلاء کنوینشن میں شہر اور اس کے آس پاس کے اضلاع کے وکلاء، سندھ ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کے جج شریک ہوں گے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کو حیدر آباد بار نے کنوینشن میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ اس سے قبل سنیچر کو سکھر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا تھا کہ اگر سارے اختیارات ایک شخصیت میں جمع ہو جائیں تو اختیارات کا ناجائز استعمال بڑھ جاتا ہے۔ نو مارچ کو ’غیر فعال‘ بنائے جانے کے بعد جسٹس افتخار محمد چودھری کا یہ پہلا دورہ سندھ تھا اور کسی بار ایسوسی ایشن سے یہ ان کا دوسرا خطاب تھا۔ اس سے پہلے انہوں نے راولپنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا تھا۔ واضح رہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کو سکھر ہائیکورٹ کی جانب سے سالانہ ڈنر کی دعوت بیس فروری کو دی گئی تھی۔ مارچ میں ان کی معطلی اور جوڈیشل کونسل کی سماعت کے بعد چیف جسٹس کو سکھر بائیکورٹ بار کی طرف سے دوبارہ مدعو کیاگیا۔ |