وکلا احتجاج، کھوکھوں کی چاندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس چوہدری افتخار کی ہر پیشی کے موقع پر سیاسی جماعتوں کے کارکن، وکلا اور حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے ارکان کاسپریم کورٹ کے باہر جمع ہونا ایک معمول بن چکا ہے۔ لیکن احتجاج کے لیے آنے والوں کی وجہ سے اردگرد کے کھوکھوں اور چھابڑی والوں کا کاروبار چمک جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے قریب ریڈیو پاکستان کی عمارت کے سامنے واقع ایک کھوکھے کے مالک سفارت عباسی کا کہنا تھا کہ عام دنوں میں تو صرف اردگرد کے دفاتر میں کام کرنے والے لوگ ہی چائے اور کھانا کھانے آتے ہیں لیکن احتجاج کے دوران بڑی تعداد میں سیاسی پارٹیوں کے کارکن، وکلا اور پولیس اہلکاروں بھی آتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ چائے، مشروبات اور سگریٹ زیادہ فروخت ہوتے ہیں تاہم ان کہ ہاں لوگ کھانا نہیں کھاتے۔
احتجاج کے دوران بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ کے بالکل سامنے کئی چھابڑی والے نمکو اور پانی بھی فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔ اسلام آْباد کی میلوڈی مارکیٹ میں ایک ہوٹل کے مینجر عاشق عباسی کا کہنا تھا کہ جس دن احتجاج ہوتا ہے بڑی تعداد میں سیاسی جماعتوں کے کارکن اُن کے ہوٹل پر کھانا کھانے آتے ہیں۔ عاشق عباسی کے ہوٹل کے سامنے ہی لسی اور جوس بیچنے والے ذاکر حُیسن شاہ کا بھی کہنا تھا کہ اُن کے پاس لسی پینے اور پانی خریدنے کے لیے صبح کے وقت کافی لوگ آئے تھے۔ گوجرانوالہ سے آنے والے تحریک انصاف کے ایک کارکن زاہد پرویز کا جو میلوڈی مارکیٹ کے ہی ایک ہوٹل پر کھانے کے انتظار میں بیٹھے تھے، کہنا تھا کہ وہ گزشتہ رات گیارہ بجے گوجرانوالہ سے نکلے تھے اور صبح اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز کے وقت اسلام آباد پہنچے اور یہیں ناشتہ کرنے کے بعد وہ سپریم کورٹ چلے گئے تھے۔ زاہد پرویز کا کہنا تھا کہ اُن کے ساتھ کافی تعداد میں لوگ گوجرانوالہ سے آئے ہیں اور سب ہی نے یہیں ناشتہ کیا اور اب کھانا بھی یہیں کھائیں گے۔ زاہد پرویز کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد میں گوجرانولہ کی نسبت کھانا بہت مہنگا ہے۔
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سید قمر عباس جو سپریم کورٹ کے نذدیک ہی ایک کھوکھے پر اپنے دوستوں کے ساتھ لکڑی کے بنے بینچوں پر بیٹھے چائے پی رہے تھے کا کہنا تھا کہ عام دنوں کی نسبت زیادہ لوگوں کے آنے کی وجہ سے چائے اچھی نہیں ملتی۔ لیکن جب اس بارے میں کھوکھے کے مالک سفارت عباسی سے پوچھا تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ پوری کوشش کرتے ہیں کہ اچھی چیز بیچیں کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو اُن کے کاروبار پر فرق پڑے گا۔ سپریم کورٹ کے قریب واقع کھوکھوں کے باہر کھڑی گاڑیوں اور وہاں چائے اور کھانے کے لیے بیٹھے لوگوں کی موجودگی سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حالیہ سپریم کورٹ بحران کے بعد ہونے والے احتجاج سے اور کسی کو فائدہ ہو نہ ہو قریبی ہوٹلوں اور کھوکھوں کی چاندی ضرور ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں ’آزاد عدلیہ نہیں، آزاد جج چاہئیں‘11 April, 2007 | پاکستان صدارتی ریفرنس اگلی سماعت اٹھارہ کو 13 April, 2007 | پاکستان جلوس، تلخ کلامی اور ہاتھا پائی 13 April, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کو تلاش کر رہے ہیں: شیرپاؤ06 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||