BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ افراد کو تلاش کر رہے ہیں: شیرپاؤ

شیرپاؤ
شیرپاؤ کے مطابق تینتیس لاپتہ افراد میں سے چھبیس پہلے ہی آزاد ملے ہیں
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے کہا ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کی پیش کردہ فہرستوں کے مطابق ان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

پہلی بار حکومت کی جانب سے بیسیوں پراسرار گمشدہ افراد کے بارے میں باضابطہ بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے نام سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں نہیں ہیں وہ وزارت داخلہ سے رابطہ کرکے معلومات فراہم کریں۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں، انٹیلیجنس اور سکیورٹی ایجنسیز کو لاپتہ افراد کی فہرستیں بھجوادی ہیں اور انہیں فوری معلومات حاصل کرنے کا کہا گیا ہے۔

پاکستان میں کچھ سخت گیر مذہبی سوچ رکھنے والے افراد اور بلوچستان اور سندھ کی قومپرست سیاسی جماعتوں کے بیسیوں رہنماؤں اور کارکنوں کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے پیاروں کو انٹیلیجنس ایجنسیز نے ’اغوا‘ کیا ہوا ہے۔ تاہم حکومت ہمیشہ اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے۔

رابطہ کریں
 جن لوگوں کے نام سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں نہیں ہیں وہ وزارت داخلہ سے رابطہ کرکے معلومات فراہم کریں
وزیر داخلہ

وزیر داخلہ نے بتایا کہ آمنہ مسعود نے ابتداء میں سولہ لاپتہ افراد کی فہرست سپریم کورٹ کو دی تھی، لیکن حکومت نے چاروں صوبوں کے ہائی کورٹس اور دیگر ذرائع سے معلوم کیا تو تینتالیس ایسے افراد کی نشاندہی ہوئی جو لاپتہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آمنہ مسعود کی پیش کردہ سولہ افراد کی فہرست کی جب چھان بین کی تو ان میں سے دو گوانتانامو بے میں قید ہیں جبکہ ایک کو امریکہ میں سزا ملی ہے اور وہ وہاں قید کاٹ رہا ہے۔

ان کے مطابق آمنہ مسعود کی فہرست کے باقی تیرہ افراد سمیت سپریم کورٹ میں جن تینتالیس افراد کا مقدمہ زیر سماعت ہے ان میں سے تینتیس افراد کا پتہ چلایا لیا گیا۔

آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ ان تینتیس افراد میں سے چھبیس پہلے ہی آزاد ملے ہیں جبکہ سات کو مقدمات کا سامنا ہے اور وہ حکومت کی تحویل میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جن تینتالیس افراد کے بارے میں معلومات چاہی تھیں اس میں سے مسعود جنجوعہ سمیت دس افراد کے بارے میں تاحال کوئی معلومات نہیں ملی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ چھبیس افراد جو حکومت کو آزاد ملے ہیں ان میں سے بیشتر نے سپریم کورٹ میں بیان حلفی دیا ہے کہ وہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کی قید سے رہا ہوئے ہیں تو وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کے بیانات درست نہیں۔

لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ ان کے پیاروں کو خفیہ ایجنسیوں نے اغواء کر رکھا ہے

آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں انسانی حقوق کے کمیشن کی جانب سے جن ایک سو اڑتالیس گمشدہ افراد کی فہرست دی گئی ہے اس میں سے صحافی سہیل قلندر سمیت پانچ افراد بازیاب ہوچکے ہیں، جبکہ اس فہرست میں شامل باقی ایک سو تینتالیس لاپتہ افراد کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ انسانی حقوق کمیشن کی فہرست میں صرف چھ فیصد افراد کے نام اور پتے مکمل ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے کمیشن سے رابطہ کیا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے مکمل کوائف فراہم کرے۔

جب پوچھا گیا کہ بلوچستان میں کئی ایسے افراد ہیں جن کو عدالتوں تک رسائی نہیں تو وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسے افراد کو حکومت سے رجوع کرنا چاہیے۔

آفتاب شیر پاؤ نے مزید بتایا کہ مسعود جنجوعہ کے والد نے جو مقدمہ درج کرایا ہے اس میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے بیٹے کا تعلق جہادی تنظیموں سے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصل فراز اور مسعود جنجوعہ دونوں صوبہ سرحد سے غائب ہوئے ہیں اور دونوں کا تعلق شدت پسند تنظیموں سے ہے۔

لاپتہ کی ’واپسی‘
ایک سال سے لاپتہ مصری خان منظرِ عام پر
احتجاجاسلام آباد میں مظاہرہ
لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے احتجاج کی تصاویر
احتجاجی دھرنا
’لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے‘
خالد خواجہخالد خواجہ ’برآمد‘
انسانی حقوق کے لاپتہ کارکن پولیس تحویل میں
انصاف’بے بسی‘
غائب ہونے والے افراد کو انصاف کی توقع نہیں
محمد حسین ’ کچھ پتہ نہیں‘
چودہ ماہ سے شوہر لاپتہ ہیں: ملتان کی نسرین
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد