BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ خالد خواجہ پولیس تحویل میں
خالد خواجہ
اخباری اطلاعات کے مطابق خالد خواجہ پہلے خفیہ ادارے آئی ایس آئی میں کام کرتے تھے
پراسرار طور پر لاپتہ ہو جانے والے افراد کی بازیابی کے لیے اسلام آباد میں متحرک انسانی حقوق کے خود بھی ’لاپتہ‘ ہو جانے والے ایک کارکن کو پولیس نے سنیچر کو عدالت میں پیش کر دیا۔

ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے خالد خواجہ جمعہ (چھبیس جنوری) کی صبح سے غائب تھے اور ان کے اہل خانہ اس شبہ کا اظہار کر رہے تھے کہ انہیں کسی حکومتی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ’اغواء‘ کیا ہے۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار مسعود عالم کے مطابق خالد خواجہ کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے پولیس نے الزام لگایا کہ وہ فرقہ واریت پر مبنی لٹریچر تقسیم کرنے کے مرتکب پائے گئے ہیں اور ان کا آزاد رہنا امن و امان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا۔

اس پر عدالت نے خالد خواجہ کو ریمانڈ پر تین روز کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

بیماری اور طبی امداد
 وہ بیمار ہیں اور انہیں طبی امداد کی اشد ضرورت ہے، جو پولیس انہیں فراہم نہیں کر رہی
اہل خانہ

خالد خواجہ کو عدالت میں پیش کرنے کے موقع پر ان کے بیٹے حذیفہ بن خالد بھی موجود تھے۔ انہوں نے ہمارے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اپنے والد سے ملاقات کرائی گئی ہے، جس میں انہوں نے بتایا کہ جمعہ کو فجر کی نماز کے لیے وہ گھر سے نکلے تھے کہ عام کپڑوں میں ملبوس کچھ حملہ آور انہیں اغواء کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے اور تفتیش کرتے رہے۔

حذیفہ کے مطابق ’اغوا کار‘ جمعہ کی رات ان کے والد کو آبپارہ تھانے لے آئے، جہاں کی پولیس نے بعد میں انہیں عدالت میں پیش کیا۔

خالد خواجہ کے اہل خانہ کے مطابق وہ بیمار ہیں اور انہیں طبی امداد کی اشد ضرورت ہے، جو پولیس انہیں فراہم نہیں کر رہی۔

اخباری اطلاعات کے مطابق انسانی حقوق کے لیے متحرک ہونے سے پہلے خالد خواجہ پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی میں ملازمت کرتے تھے۔ تاہم لوگوں کی پراسرار گمشدگیوں کے حوالے سے وہ آجکل حکومت پر کھل کر تنقید کر رہے تھے۔

جمعہ کو لاہور سے بھی ایک وکیل سی ایم فاروق کو مبینہ طور اغواء کیا گیا ہے اور تا حال ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔ اطلاعات کے مطابق سی ایم فاروق بھی پہلے آئی ایس آئی کے لیے کام کرتے تھے اور آجکل ’لاپتہ‘ افراد کی وکالت کرنے میں مصروف تھے۔

اسی بارے میں
’گمشدگیوں‘ کا سلسلہ جاری
17 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد