BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 March, 2007, 09:02 GMT 14:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خفیہ اداروں کو جواب دینا ہوگا‘

سپریم کورٹ کا ایک تین رکنی بنچ لاپتہ افراد سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کر رہا ہے
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک کے خفیہ ادارے اگر کسی وزارتِ کو جوابدہ نہیں ہیں تو انہیں اعلیٰ عدالتوں کے سامنے جواب دینا ہوگا اور عدالت عظمٰی لاپتہ افراد کے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔

سپریم کورٹ میں پیر کو لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ کچھ خفیہ ادارے حکومت کی کسی وزارت کو جوابدہ نہیں ہیں۔

اٹارنی جنرل کے بیان پر سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جاوید اقبال نے کہا کہ اگر یہ خفیہ ادارے کسی وزارت کو جوابدہ نہیں ہیں لیکن انہیں سپریم کورٹ کو ضرور جواب دینا ہوگا اور عدالت لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائے گی۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم جاری کیا کہ حکومت لاپتہ افراد سے متعلق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور لاپتہ افراد سے متعلق دیگر درخواستوں کا تحریری جواب داخل کرے جس میں یہ واضح کیا جائے کہ ان افراد کو کس قانون کے تحت حراست میں رکھا جا رہا ہے اور ان کو حراست میں رکھنے والے ادارے کس کو جوابدہ ہیں۔

 عدالت اس مقدمے کی کارروائی میں انتہائی سنجیدہ ہے اور اس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔عدالت کا مقصد کسی کو قصوروار یا بےگناہ ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرانا ہے۔
جسٹس جاوید اقبال

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ لاپتہ افراد کا معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہے اور اس مقدمے کو سرد خانے میں نہیں ڈالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ادارہ بھی آئین اور قانون سے بالا تر نہیں ہے اور عدالت اپنے تمام احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔

لاپتہ افراد کی بازیابی سےمتعلق ایک درخواست گزار آمنہ جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں خفیہ ادارے دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر انہوں نے سپریم کورٹ سے اپنی درخواست واپس نہ لی تو وہ زیرِ حراست لوگوں کو ہلاک کر دیں گے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان میں کچھ لاپتہ لوگوں کا الزام خفیہ ادراوں پر لگا دیا گیا تھا لیکن وہ لوگ افغانستان کی پل چرخی جیل سے برآمد ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا مقصد کسی کو قصور وار یا بے گناہ ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرانا ہے۔

لاپتہ افراد کے لواحقین کا سپریم کورٹ کے باہر احتجاج(فائل فوٹو)

لاپتہ افراد سے متعلق ہیومن رائٹس کمیش آف پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ممتاز قانون دان فخرالدین جی ابراہیم نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ لاپتہ افراد کے مقدمات کی تحقیات کرنے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دے۔

فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ وہ وہ اپنی 79 سالہ زندگی میں کبھی اتنے خوفزدہ نہیں ہوئے جتنے آج ہیں۔ انہوں نے کہا ’لوگوں کے بچے غائب ہو رہے ہیں اور ان کو بتایا بھی نہیں جا رہا کہ ان کا قصور کیا ہے‘۔ انہوں نے عدالت سے سوال کیا کہ کیا پاکستان پولیس سٹیٹ ہے؟ اور جہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے فخرالدین سے کہا کہ عدالت اس مقدمے کی کارروائی میں انتہائی سنجیدہ ہے اور اس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

سابق اٹارنی جنرل سید اقبال حیدر اس مقدمے میں ہیومن رائٹس کمیشن کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہیومین رائٹس کمیشن نے اپنی درخواست میں وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو مقدمے کا فریق بنایا ہے اور درخواست میں 138 افراد کی فہرست دی ہے جنہیں مبینہ طور پر حکومتی اداروں نے اپنی تحویل میں لے رکھا ہے لیکن ان افراد کو نہ تو ان کو کسی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کے عزیزوں کو بتایا جا رہا ہے کہ ان کا جرم کیا ہے۔

سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدل حمید ڈوگر اور جسٹس شاکر اللہ جان پر مشتمل تھا۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ مقدمے کو صرف پندرہ روز کے لیےملتوی کیا جا رہا ہے کیونکہ حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ارشاد کو یہ مقدمہ سمجھنے کے لیے وقت کی ضرورت ہے۔مقدمے کی اگلی سماعت دس اپریل کو ہو گی۔

لاپتہ افراد کے مقدمے میں حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے ڈپٹی اٹارنی جنرل ناصر سعید شیخ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ ہونے والے حکومتی سلوک کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہو چکے ہیں اور ڈپٹی اٹارنی راجہ ارشاد پہلی مرتبہ اس مقدمے میں پیش ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد