پچاس روز سے لاپتہ صحافی کے لیےمظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافتی، سیاسی اور سماجی تنظیموں نے صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں حکومت کو دھمکی دی ہے کہ ایک گمشدہ مقامی صحافی کی بازیابی میں مزید تاخیر کی صورت میں ان کی احتجاجی تحریک پرتشدد شکل اختیار کر سکتی ہے۔ پشاور کے ایک صحافی سہیل قلندر اور ان کے ایک ساتھی محمد نیاز دو جنوری سے لاپتہ ہیں۔ سوموار کے روز ان کی گمشدگی کو پچاس روز مکمل ہونے پر ملک بھر میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی اپیل پر یوم احتجاج منایا گیا۔ پشاور پریس کلب میں منعقد ہونے والے احتجاج میں صحافیوں کے علاوہ سرکاری اور غیرسرکاری اداروں، تاجر تنظیموں، واپڈا، اساتذہ، پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن، اخبار فروش یونین اور فنکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں مقررین نے حکومت سے صحافی اور اس کے ساتھی کی فل الفور بازیابی کا مطالبہ کیا۔ ان کا الزام تھا کہ ملک میں امن عامہ کی موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں نا کام ہو چکی ہے۔ بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے شرکاء نے بعد میں پریس کلب کے باہر سڑک پر مظاہرہ بھی کیا اور نعرہ بازی کی۔ اس موقع پر ایک قرار داد میں مظاہرین نے حکومت کو متنبہ کہا کہ اب تک ان کی تحریک پرامن رہی لیکن صحافی کی بازیابی میں مزید تاخیر سے اس میں نہ صرف شدت آئے گی بلکہ یہ پرامن بھی نہیں رہی گی جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ پشاور کے صحافیوں نے بطور احتجاج پہلے ہی تمام سرکاری پریس کانفرنسوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ صحافتی اور دیگر عوامی حلقوں میں سہیل قلندر کی بازیابی میں دن بدن تاخیر سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کراچی کراچی میں سہیل قلندر کی بازیابی کے لیے صحافیوں نےاحتجاجی جلوس نکالا اور گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا۔ جلوس پریس کلب سے ہوتے ہوا گورنر ہاؤس پہنچا جہاں صحافیوں نے دھرنا دیا اور گورنر کے نمائندے کو یادداشت نامہ پیش کیا گیا۔ اس سے قبل کراچی پریس کلب میں جلسہ منعقد کیا گیا، جسے صحافی تنظیموں کے رہنما مظہر عباس، شفیع الدین اشرف اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات اور وزیر داخلہ کا ابھی تک کوئی واضح بیان نہیں آیا ہے جس سے وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ سہیل قلندر ریاستی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ سہیل قلندر سے بھی ایسا کچھ نہ کیا جائے جو صحافی حیات اللہ کے ساتھ سلوک کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد کی صوبائی حکومت نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، یہ واقعہ ان کی حدود میں ہوا ہے ان کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ سہیل قلندر ان کے ماتحت کسی ادارے کی تحویل میں نہیں ہے۔ صحافی رہنماؤں نے بتایا کہ اکیس فروری کو بین الاقوامی صحافیوں کی ایک ٹیم پاکستان آرہی ہے جو یہاں صحافیوں پر ہونے والے مظالم کے حقائق کی چھان بین کرے گی، یہ ٹیم اپنی رپورٹ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کو بھی پیش کرے گی۔ | اسی بارے میں اخبار کا ایڈیٹر کئی روز سے ’لاپتہ‘18 January, 2007 | پاکستان سہیل قلندر کی بازیابی کے لیے احتجاج31 January, 2007 | پاکستان پشاور میں حکومت پر عدم اعتماد16 February, 2007 | پاکستان دو لاپتہ افراد تیرہ ماہ بعد برآمد09 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||