پشاور میں حکومت پر عدم اعتماد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں صحافتی برادری نے اپنے ایک ساتھی کی گمشدگی کے معاملے میں حکومتی کردار پر عدم اطمینان کے اظہار کے طور پر تمام سرکاری پریس کانفرنسوں کے بائیکاٹ کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ اردو روزنامہ ’ایکسپریس‘ کے ایڈیٹر سہیل قلندر اور ان کے ایک ساتھی کو نامعلوم افراد نے پینتالیس روز قبل پشاور کے رہائشی علاقے حیات آباد سے اغوا کر لیا تھا۔ ان کی بازیابی کے لیے اب تک کی سرکاری کوششیں بےسود ثابت ہوئی ہیں۔ بائیکاٹ کا اعلان پشاور کے صحافیوں کی تنظیم ’خیبر یونین آف جرنلسٹس‘ اور پشاور پریس کلب کے عہدیداروں پر مشتمل ایکشن کمیٹی نے جعمہ کو ایک اجلاس میں کیا۔ کمیٹی نے صحافیوں کو وفاقی و صوبائی وزراء، انتظامی سیکرٹریوں، پولیس اور تمام سرکاری محکموں کے سربراہان کی اخباری کانفرنسوں میں شریک نہ ہونے کی ہدایت دی ہے۔ کمیٹی کے سربراہ شمیم شاہد کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں حکومت کے رویے کو بےحسی قرار دیتے ہوئے اس پر غم وغصے کا اظہار کیا گیا۔ صحافیوں نے سہیل کی بحفاظت بازیابی تک اپنی احتجاجی مہم جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔ صحافی کی بازیابی کے لیے پشاور پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی احتجاجی کیمپ گیارہویں روز بھی جاری رہا۔ زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا۔ احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے پشاور کے صحافیوں کے بچے سنیچر کو بھوک ہڑتالی کیمپ میں حصہ لیں گے۔ اڑتیس سالہ سہیل قلندر پشاور میں روزنامہ ایکسپریس سے اس کی اشاعت کے آغاز یعنی ستمبر دو ہزار دو سے منسلک تھے۔ | اسی بارے میں سینیٹ: صحافیوں کا دوبارہ واک آؤٹ24 January, 2007 | پاکستان سہیل قلندر کی بازیابی کے لیے احتجاج31 January, 2007 | پاکستان تشدد کے خلاف صحافیوں کا مظاہرہ01 February, 2007 | پاکستان سامی الحاج کے حق میں احتجاج15 February, 2007 | پاکستان پیمرا کا ترمیم شدہ بِل منظور15 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||