سہیل قلندر کی بازیابی کے لیے احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں بدھ کے روز صحافیوں، اخبار فروشوں اور سیاستدانوں نے صحافی سہیل قلندر کی بازیابی کے لیئے ایک مرتبہ پھر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا بھی دیا۔ اردو روزنامہ ایکسپریس کے پشاور میں ریزیڈینٹ ایڈیٹر سہیل قلندر کو پشاور کے حیات آباد علاقے سے دو جنوری کو نامعلوم افراد نے ان کے ایک ساتھی کے ساتھ اغوا کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے صحافتی تنظیمیں مختلف شہروں میں احتجاج کرتی رہی ہیں لیکن بظاہر سہیل کی بازیابی میں کوئی پیش رفت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ منگل کو پشاور میں اس اغوا کو تقریباً ایک ماہ مکمل ہونے پر ایک مرتبہ پھر صحافتی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام یہ مظاہرہ ہوا۔ پشاور پریس کلب سے گورنر ہاؤس تک احتجاج مارچ اور دھرنے میں صحافیوں کے علاوہ حقوق انسانی کی تنظیموں کے نمائندوں، اخبار فروش یونین کے عہدیداروں اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور حکومت مخالف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے نعرہ بازی بھی کی۔ گورنر ہاؤس کے سامنے ’جاگ گورنر جاگ‘ جیسے نعروں کے بعد مقررین نے اس اغوا کو صحافیوں کو کمزور کرنے کی ایک حکومتی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل قلندر کی بازیابی بظاہر حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے چترال سے رکن قومی اسمبلی عبدالاکبر چترالی نے گورنر سرحد اور وزیر اعلی سے اب تک بازیابی میں ناکامی پر مشتعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے عبدالاکبر خان نے بھی خطاب کیا اور صحافیوں کو ہر ممکن امداد کی یقین دہانی کرائی۔ مظاہرین نے یہ احتجاج سہیل کی باحفاظت بازیابی تک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اڑتیس سالہ سہیل قلندر پشاور سے ایکسپریس کی اشاعت کے آغاز یعنی ستمبر دو ہزار دو سے منسلک تھے۔ ان کی اغوا کی وجوہات ابھی تک پوری طرح واضع نہیں ہیں۔ | اسی بارے میں سینیٹ: صحافیوں کا دوبارہ واک آؤٹ24 January, 2007 | پاکستان ایڈیٹر کے خلاف رپورٹر کا مقدمہ 20 July, 2006 | پاکستان بات کرنے سے روکا گیا ہے: مکیش23 June, 2006 | پاکستان حکومت کے کان پر جو تک نہیں رینگی16 June, 2006 | پاکستان صحافی کا قتل، سیکرٹری فاٹا معطل28 April, 2006 | پاکستان ’کشمیری تقسیم نہیں چاہتے‘01 December, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||