BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 June, 2006, 15:20 GMT 20:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بات کرنے سے روکا گیا ہے: مکیش


جیکب آباد کے صحافی مکیش روپیٹا اور کیمرہ مین سنجیو کمار ضمانت پر رہائی پانے کے بعد اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جیکب آباد میں امریکی افواج کے زیر استعمال شہباز ایئر بیس کی خفیہ فلمبندی کی۔


انہیں جمعہ کے روز مقامی عدالت کے جج قیصر خان کی عدالت نے پچیس پچیس ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ اس موقع پر ہندو برداری اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا اور انہیں پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور پھول نچھاور کیے گئے۔

اس موقع پر ایک یگانہ ڈھول والا بھی موجود تھا جو اس رہائی کو بڑی کامیابی سمجھ کر ڈھول بجا رہا تھا۔ مکیش روپیٹا اور کیمرہ مین سنجیو کمار سمیت پورا جلوس عدالت سے مقامی مندر پہنچا جہاں پوجا کی گئی۔

مکیش روپیٹا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی صحت تشدد کی وجہ سے نہیں بلکہ بچوں کے فکر نے خراب کردی ہے۔ بظاہر خوفزدہ مکیش نے مختصر بات کی اور اس میں ایک بار بھی کسی خفیہ ادارے کا نام نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں کچھ دنوں کے لیے بات کرنے سے روکا گیا ہے۔

خدا کا شکر۔۔۔۔
 مکیش کی گمشدگی ہمارے خاندان کے لیے اس طرح تھی جیسے جسم کا کوئی حصہ کاٹ دیا گیا ہو۔ خدا کا شکر ہے ہمارا مکیش واپس آگیا ہے۔
مکیش کے بڑے بھائی گھنشام

مکیش کے بڑے بھائی ڈاکٹر گھنشام نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مکیش کی گمشدگی ہمارے خاندان کے لیے اس طرح تھی جیسے جسم کا کوئی حصہ کاٹ دیا گیا ہو۔ خدا کا شکر ہے ہمارا مکیش واپس آگیا ہے۔‘

ٹی وی چینل جیو کے لیے کام کرنے والے مکیش کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی۔ عمومی طور پر وہ کلین شیو رہتے تھے۔ ایک ان دیکھا خوف بہرحال مکیش اور ان کے دوستوں پر طاری تھا۔

رہائی کے بعد مکیش نے مختصر بات کی

مکیش کے ساتھ رہائی پانے والے کیمرہ مین سنجیو نے بات کرنے سے معذرت کی ان کے بڑے بھائی راجیش نے روایتی طور پر خدا کا شکر ادا کیا کہ ان کا بھائی واپس آگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سنجیو کے انتظار میں ان کی ماں بیمار پڑ گئی تھی اور انہوں نے پورے گھر سے سنجیو کی تصاویر ہٹا دیں تھیں تاکہ سنجیو کی یاد کو کم کیا جاسکے۔

جیکب آباد شہر میں ہندو برادری کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر ہے، جو تجارت سے وابستہ ہے۔ ان میں سے صرف مکیش ہی صحافت سے منسلک ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مکیش نے بتایا کہ مرشد کی زیارت کے بعد وہ نئے سر سے صحافت کا آغاز کریں گے اور اس طرح سے صحافت کریں گے کہ ’لوگوں کو یہ محسوس نے ہو کہ میں ڈر گیا ہوں۔‘

حیات اللہ’صحافتی آزادی قتل‘
حیات اللہ کے قتل کی شدید مذمت ہوئی ہے
میرے احساسات
حیات اللہ کو مددگار پایا: ہارون رشید
اسی بارے میں
مکیش اور سنجے کی ضمانت
23 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد