BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 February, 2007, 14:33 GMT 19:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تشدد کے خلاف صحافیوں کا مظاہرہ

صحافیوں نے سہیل قلندر کی بازیابی کا بھی مطالبہ کیا
وفاقی دارالحکومت کے صحافیوں کی مقامی تنظیم کی اپیل پر صحافیوں پر تشدد کے خلاف جمعرات کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمینٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور دھرنا دے کر مصروف ترین شاہراہ بند کردی۔

صحافیوں کے نمائندوں سی آر شمسی، مشتاق منہاں اور دیگر صحافیوں نے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھبیس جنوری کو اسلام آباد کے ایک ہوٹل پر خود کش بم حملے کی کوریج کرنے والے صحافیوں اور فوٹو گرافرز پر تشدد کا حکم دینے والے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈاکٹر معین مسعود کو معطل کرنے تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

مقررین نے کہا کہ صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض ادا کرنے سے روکنا خلاف آئین ہے۔ ان کے مطابق پولیس نے متعلقہ افسر کے حکم پر صحافیوں پر لاٹھیاں برسائیں اور انہیں زخمی کردیا جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔

صحافیوں نے اس موقع پر حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے اور متعلقہ افسر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

سہیل قلندر کئی ہفتوں سے لاپتہ ہیں
صحافیوں کے نمائندوں نے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانا اور انہیں اغوا کرنا ایک معمول بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور سے ایک اخبار کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر سہیل قلندر کو ایک ماہ سے اغوا کیا گیا ہے اور تاحال انہیں بازیاب نہیں کرایا گیا۔

مظاہرہ کرنے والے صحافی خاصے مشتعل تھے اور انہوں نے بعد میں تین گھنٹے تک زیرو پوائنٹ کے سامنے آبپارہ جانے والی شہر کی مصروف ترین سڑک پر دھرنا دیا اور ٹریفک معطل ہوگئی۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم صحافیوں سے ملنے آئے اور کہا کہ انتظامیہ نے ایک ڈی ایس پی اور تھانہ سیکریٹریٹ کے انچارج افسر کو معطل کردیا ہے۔

اس پر صحافیوں کے نمائندوں نے کہا کہ متعلقہ افسران کو صحافیوں پر تشدد کی وجہ سے نہیں بلکہ ڈیوٹی پر موجود نہ ہونے کی بنا پر معطل کیا گیا ہے۔

وزیر نے بعد میں صحافیوں کو ڈی آئی جی سطح کے سینیئر پولیس افسر سے تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ لیکن صحافیوں نے ان سے کہا کہ وہ زبانی کلامی یقین دہانی نہیں تسلیم کریں گے اور بلکہ حکومت ٹھوس اقدام کرے۔

کافی دیر کی بحث وتکرار کے بعد فریقین میں معاملات طے نہیں ہوئے اور صحافیوں کا دھرنا آخری اطلاعات تک جاری تھا۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اسلام آباد کی کوئی مصروف شاہراہ پانچ گھنٹے سے زیادہ دیر تک مسلسل بند رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد