BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 February, 2007, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیمرا کا ترمیم شدہ بِل منظور

سیٹلائٹ
بل کے تحت پاکستان میں اخبارات کے مالکان کو کو نجی ٹیلی ویژن چینل چلانے کی اجازت مل جائے گی
قومی اسمبلی نے پاکستان میں میڈیا کے نگران ادارے پیمرا کا ترمیمی بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت پاکستان میں اخبارات کے مالکان کو کو نجی ٹیلی ویژن چینل چلانے کی اجازت مل جائے گی۔ صدر پاکستان کے دستخط کے بعد یہ ترمیمی بل قانون کا حصہ بن جائے گا۔

اجلاس کے دوران حزب اختلاف کے اراکین نے کہا کہ حکومت اس بل کے ذریعے میڈیا پر اپنا کنٹرول بڑھانا چاہتی ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے تمام اعتراضات مسترد کردیے۔

 اس نئے مجوزہ قانون میں پمرا کو نشریات کی نگرانی کا اختیار دیا گیا ہے جس کے تحت پولیس چھاپہ مار کر چینل کے سٹیشن کو سیل کر سکے گی اور آلات قبضے میں لے سکے گی

پیپلز پارٹی کے ظفر علی شاہ کی وہ ترمیم بھی مسترد کر دگئی جس میں کہا گیا تھا کہ پیمرا کی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش ہونی چاہیے، رائے شماری کے بعد بل کو منظور کر لیا گیا۔

اس نئے مجوزہ قانون میں پمرا کو نشریات کی نگرانی کا اختیار دیا گیا ہے جس کے تحت پولیس چھاپہ مار کر چینل کے سٹیشن کو سیل کر سکے گی اور آلات قبضے میں لے سکے گی۔

اس نئے بل میں پیمرا بورڈ کے اراکین کی تعداد بڑھا کر نو کی بجائے تیرہ کر دی گئی ہے جبکہ کسی چینل کے خلاف کارروائی کی صورت میں پمرا صرف قواعد کے تحت کارروائی کر سکے گا۔

یہ بل حکومت نے سنہ دو ہزار چار میں پیش کیا تھا اور یہ قومی اسمبلی سے منظوری کی بعد سینٹ میں بھیجا گیا۔ اپوزیشن کے تحریری اعتراضات کے بعد یہ التوا کا شکار ہوگیا لیکن بعد ازاں سینٹ کی ثالث کمیٹی نے صحافیوں، چینل و اخبارات کے مالکان کا موقف سننے کے بعد اس میں کئی اہم ترامیم کیں جس کے بعد یہ دوبارہ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

ایک بین الاقوامی این جی او ’انٹر نیوز‘ کے میڈیا لاء اینڈ پالیسی ایڈوائزر متیع اللہ جان نے بعد ازاں بتایا کہ اس تمام عرصے میں جو ترامیم ہوئیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ پولیس اب بغیر وارنٹ صحافی، کارکن یا مالک کو گرفتار نہیں کر سکےگی۔

پاکستان میں اس وقت ٹی وی ون، آج، اے ٹی وی اور ورچول ٹی وی سمیت درجن بھر سے زائد ایسے ٹی چینل ہیں جو عارضی لائسنس پر چل رہے ہیں۔

 ایک بین الاقوامی این جی او ’انٹر نیوز‘ کے میڈیا لاء اینڈ پالیسی ایڈوائزر متیع اللہ جان نے بعد ازاں بتایا کہ اس تمام عرصے میں جو ترامیم ہوئیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ پولیس اب بغیر وارنٹ صحافی کارکن یا مالک کو گرفتار نہیں کر سکےگی۔

متیع اللہ جان کہتے ہیں کہ اس قانون کے بن جانے کے بعد ان پر عارضی لائسنس ہونے کی لٹکتی تلوار ہٹ جائے گی اور انہیں باقاعدہ لائسنس جاری ہوجائیں گے جبکہ وقت، سینچری، اور ڈان ٹی وی جیسے جو چینل نشریات شروع کرنے کے لیے پر تول رہے تھے انہیں آسانی ہوگی اور وہ مقامی طور پر اپ لنکنگ کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ’جیو‘ کی طرح چند چینل اس پابندی کی وجہ سے بیرون ملک سے نشریات جاری کرنے پر مجبور تھے اور انہیں اکثر ڈاؤن لنکنگ کے مسائل کا سامنا رہتا تھا۔

’آج ٹی وی‘ کے ڈائریکٹر نیوز طلعت حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نئے قانون کے آنے سے اس پرانے قضیے کا تو تصفیہ ہوگیا جس کے تحت اخبارات کے مالکان کو چینل کی اجازت پر روک ٹوک تھی تاہم دوسری طرف پیمرا کو چینلز کی نگرانی کے جو انتظامی اختیارات تھے انہیں اب قانونی حثیت حاصل ہوگئی ہے اور اس حوالے سے ایک طرح سے اس کے اختیارات میں اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں
میڈیا بِل: ثالثی کمیٹی کے پاس
22 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد