قلات کالج کے پرنسپل کی ’واپسی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قلات ایلیمنٹری کالج کے پرنسپل مصری خان مری اور دیگر دو افراد ایک سال غائب رہنے کے بعد جمعہ کو ملتان میں منظر عام پر آ گئے ہیں۔ مری اتحاد کے ترجمان نے بتایا ہے کہ مصری خان مری ان کا ڈرائیور مراد اور گل خان مری آج ملتان میں سامنے آئے ہیں ۔ مصری خان مری کے رشتہ دار اس بارے میں کوئی بات نہیں کر رہے ہیں۔ مصری خان مری کوہلو کے ضلعی ناظم انجینیئر علی گل مری کے بڑے بھائی ہیں اور غائب ہونے سے پہلے مصری خان قلات ایلیمنٹری کالج میں پرنسپل کے عہدے پر تعینات تھے۔ مصری خان مری اور ان کے ڈرائیور دو فروری کو ڈیرہ غازی خان کے قریب سے غائب ہوئے تھے اور اس کے بعد مری قبیلے کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور الزام عائد کیا تھا کہ مصری خان سمیت کئی لوگوں کو خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اٹھایا ہے۔ مری اتحاد کے ترجمان نے بتایا کہ کوئی ایک ہفتہ پہلے اسی سالہ وڈیرہ جان محمد مری کو بھی آدھی رات کے وقت سریاب کے علاقے میں چھوڑدیا گیا تھا۔ وڈیرہ جان محمد مری کو کوئی دس ماہ پہلے اٹھایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ منظرِعام پر آنے پر معلوم ہوا کہ یہ لوگ ذہنی اور جسمانی حوالے سے انتہائی کمزور ہیں۔ مری اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس وقت بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ غائب ہیں جو ان کے مطابق خفیہ ایجنسیوں کے پاس موجود ہیں۔ مری اتحاد کے ترجمان نے یہ بھی دعوٰی کیا ہے کہ کل رات سکیورٹی فورسز نے کوہلو کاہان روڈ پر کوئی چار دیہاتوں کو گھیرے میں لے کر حملے کیے ہیں جہاں بارہ افراد ہلاک اور انیس زخمی ہوئے ہیں جبکہ اڑتیس کو گرفتار کرکے ساتھ لے گئے ہیں۔ سرکاری سطح پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ | اسی بارے میں احتجاجاً اسناد میں آگ لگا دی22 January, 2007 | پاکستان پشاور:مغوی صحافی رہائی میں کامیاب 21 February, 2007 | پاکستان ’لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ‘06 February, 2007 | پاکستان دو لاپتہ افراد کی حراست کا اعتراف13 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||