BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 January, 2007, 20:05 GMT 01:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احتجاجاً اسناد میں آگ لگا دی

مصری خان
مصری خان ایک کالج کے پرینسپل ہیں
کوئٹہ میں ایک ماہر تعلیم مصری خان کے بھتیجے نےاپنی اسناد کو آگ لگا دی اور کہا کہ وہ اپنے چچا کی ’غیر قانونی حراست‘ کے خلاف ایسا بطوراحتجاج کر رہے ہیں۔

فتح خان مری نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے اپنی اسناد کو آگ لگائی۔ فتح خان مری نے بلوچستان یونیورسٹی سے بی اے کیا ہے اور وہ ایک وکیل بننا چاہتے تھے۔

فتح خان مری نے بتایا کہ مصری خان کو گزشتہ سال فروری کے پہلے ہفتے میں ڈیرہ غازی سے آتے ہوئے راستے میں اٹھا لیا گیا تھا۔فتح خان نےالزام لگایا ہے کہ مصری خان کو خفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں اور اب سال پورا ہونے کو ہے لیکن انھیں پتہ نہیں ہے کہ ان کے چچا کہاں ہیں۔

مصری خان مری گمشدگی کے وقت ایلیمنٹری کالج قلات میں پرنسپل کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ وہ کوہلو کےضلعی ناظم انجینیئر علی گل مری کے بڑے بھائی ہیں ۔ فتح خان نے بتایا کہ مصری خان کا ایک بیٹا فوج میں سیکنڈ لفٹیننٹ کے عہدے کے لیے تربیت حاصل کر رہا ہے۔

اسی بارے میں
’ہمارے کارکن غائب ہیں‘
05 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد