احتجاجاً اسناد میں آگ لگا دی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں ایک ماہر تعلیم مصری خان کے بھتیجے نےاپنی اسناد کو آگ لگا دی اور کہا کہ وہ اپنے چچا کی ’غیر قانونی حراست‘ کے خلاف ایسا بطوراحتجاج کر رہے ہیں۔ فتح خان مری نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے اپنی اسناد کو آگ لگائی۔ فتح خان مری نے بلوچستان یونیورسٹی سے بی اے کیا ہے اور وہ ایک وکیل بننا چاہتے تھے۔ فتح خان مری نے بتایا کہ مصری خان کو گزشتہ سال فروری کے پہلے ہفتے میں ڈیرہ غازی سے آتے ہوئے راستے میں اٹھا لیا گیا تھا۔فتح خان نےالزام لگایا ہے کہ مصری خان کو خفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں اور اب سال پورا ہونے کو ہے لیکن انھیں پتہ نہیں ہے کہ ان کے چچا کہاں ہیں۔ مصری خان مری گمشدگی کے وقت ایلیمنٹری کالج قلات میں پرنسپل کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ وہ کوہلو کےضلعی ناظم انجینیئر علی گل مری کے بڑے بھائی ہیں ۔ فتح خان نے بتایا کہ مصری خان کا ایک بیٹا فوج میں سیکنڈ لفٹیننٹ کے عہدے کے لیے تربیت حاصل کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان:گرفتاریاں اور مظاہرے27 November, 2006 | پاکستان ’ہمارے کارکن غائب ہیں‘05 December, 2006 | پاکستان کوئٹہ: انجمن ِ تاجران کا احتجاج18 December, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا مظاہرہ29 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||