سماعت روکنے کی درخواست مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس افتخار محمدچودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت جمعرات کی صبح تک کے لیے ملتوی ہوگئی ہے۔سماعت کے موقع پر اسلام آباد اور دیگر شہروں میں وکلاء نے پھر احتجاج کیا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے ’معطل’ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے کہ صدراتی ریفرنس کی سماعت اس وقت تک روک دی جائے جب تک سپریم کورٹ ان کی پیٹشن کا فیصلہ نہیں کر دیتی۔ بدھ کے روز سپریم جوڈیشل کونسل نے جب بند کمرے میں جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت شروع کی تو جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے ایک تحریری درخواست سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے رکھی جس میں استدعا کی کہ کونسل اپنی کارروائی روک دے۔ جسٹس افتخار چودھری کے وکلاء نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس کے اختیار ہے کہ وہ ریفرنس کی سماعت اس وقت تک روک دے جب تک سپریم کورٹ میں دائر پیٹشنوں پر کوئی فیصلہ نہیں آ جاتا۔ وکلاء نے کہا کہ چونکہ سپریم کورٹ نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست سمیت دو درجن ایسی درخواستوں کی سماعت کرنے کے لیے پانچ ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دے دیا ہے جن میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ سات مئی سے ان درخواستوں کی سماعت شروع کرے گا۔ جسٹس افتخار محمد کے وکلاء پینل کے ایک ممبر منیر اے ملک نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کی درخواست نہیں مانی ہے اور انہیں اپنے دلائل جاری رکھنے کا کہا۔ بدھ کے روز جسٹس افتخار محمد چوہدری کے وکلاء نے سارا دن دلائل دیے اور کونسل کو بتایا کہ وہ جمعرات کو گیارہ بجے تک اپنے دلائل مکمل کر لیں گے۔جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے کونسل کو بتایا کہ کسی جج کے خلاف ریفرنس دائر کیے جانے کے باوجود اس کو ’غیر فعال‘ نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جج اس وقت تک جج رہے گا جب تک اس کے خلاف کوئی فیصلہ نہ آ جائے۔ جسٹس افتخار چودھری کے وکلاء کا موقف تھا کہ چیف جسٹس کی غیر موجودگی میں سپریم جوڈیشل کونسل غیر مکمل ہے اور ایسی کونسل جس کی سربراہی چیف جسٹس نہ کر رہے ہوں اس کے کسی فیصلے کی کوئی حثیت نہیں ہے۔ صدر جنرل مشرف کی طرف سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی آج ساتویں سماعت تھی۔ ریفرنس میں لگائے گئے الزامات پر بحث ابھی شروع نہیں ہوئی ہے اور کونسل ابھی تک چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے دائر کی جانے والی مختلف درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء کا موقف تھا کہ چیف جسٹس کو جس قانون کے تحت جبری رخصت پر بھیجا گیا ہے وہ آئین کی دفعات سے متصادم ہے اور کوئی ایسا قانون جو آئین کی دفعات کے خلاف ہو اس کے تحت جاری کیا جانا والا حکم بھی غیر موثر تصور کیا جائے گا۔ سپریم جوڈیشل کونسل قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس جاوید اقبال (سپریم کورٹ) جسٹس عبد الحمید ڈوگر (سپریم کورٹ) جسٹس افتخار حسین چودھری (لاہور ہائی کورٹ) اور جسٹس صبیح الدین (سندھ ہائی کورٹ) پر مشتمل ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کا موقف ہے کہ انہیں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس افتخار حسین چودھری سے کسی انصاف کی توقع نہیں ہے۔ جسٹس افتخار کے خلاف ریفرنس کی سماعت جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔ |
اسی بارے میں ریفرنس پر سماعت دو مئی تک ملتوی24 April, 2007 | پاکستان سماعت: حکم امتناعی کی اپیل27 April, 2007 | پاکستان گرفتاریاں،گرمی، بائیکاٹ، مظاہرے 02 May, 2007 | پاکستان جسٹس پیٹیشن، اہم قانونی نکات 26 April, 2007 | پاکستان آئینی پٹیشن اور ریفرنس، تصادم کا خطرہ24 April, 2007 | پاکستان ’ایسا انوکھا واقعہ پہلے نہیں دیکھا‘26 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||