وکلاء کے خلاف ’انتقامی‘ کارروائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں عملی طور پر معطل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حمایتی وکلاء نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے وہ ان کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنارہی ہے۔ معطل چیف جسٹس کے حمایتی راولپنڈی بار ایسو سی ایشن کے ایک رکن غلام مصطفیٰ کندوال نے الزام عائد کیا کہ جمعہ کی رات کوئی نامعلوم افراد نے انہیں گھر پہنچتے ہی اغوا کیا اور زد و کوب کیا۔ کندوال نے کہا کہ ’میں اپنے دفتر سے چکلالہ اسکیم ٹو میں واقع اپنے گھر کے دروازے پر پہنچا ہی تھا کہ پولیس کی وردی میں ملبوس چار پانچ اہلکاروں نے مجھے زبردستی گاڑی سے اتار کر اپنے گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کی۔‘ انہوں نے کہا کہ میری آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور ہتھکڑی لگا کر میرے بازوں پیچھے باندھ دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مجھے ایک گھنٹے تک مارتے اور گالیاں دیتے رہے اور یہ کہتے کہ تم وکیل احتجاج میں پیش پیش ہوتے ہو اور یہ آپ کو مزہ چکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ’بعد میں مجھے چکلالہ ائیرپورٹ کے قریب ایک ویران علاقے میں چھوڑ دیا گیا اور مجھے کہا کہ یہاں سے بھاگو۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ خفیہ ادارے کے لوگ تھے اور یوں لگتا ہے کہ یہ وکلاء کو پیغام دینا چاہتے تھے کہ اگر وہ احتجاج سے پیچھے نہ ہٹے تو ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ’وہاں قریب ہی ایک پبلک کال آفس تھا جہاں سے میں نے گھر بات کی اور راولپنڈی کے بار کے صدر کو مطلع کیا اور وہ اور کچھ اور وکیل وہاں پہنچے پھر انہوں نے مجھے اپنے ہمراہ لایا۔‘ کوئٹہ سے اغوا کی کوشش
لیکن ان کا کہنا ہے کہ وکلاء کی طرف سے مزاحمت اور احتجاج پر پولیس اہلکار وہاں سے چلے گئے۔ کرد کا کہنا ہے کہ’حکومت ان کو چیف جسٹس کی حمایت سے دور رکھنے کے لئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے لیکن حکومت اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگی۔‘ ساتھ ہی کرد کا کہنا تھا کہ’اس واقعہ کے بعد انسپکڑ جنرل پولیس طارق کھوسہ نے ان کو ٹیلیفون کرکے معذرت کی اور کہا کہ یہ اقدام ان کے علم کے بغیر کیا گیا اور یہ کہ وہ اس پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی کریں گے اور اس کے علاوہ ڈپٹی انسپکڑ جنرل پولیس بھی ان کے پاس گئے اور معذرت کی۔‘ پولیس کا کہنا کہ وہ اکبر بگٹی کی ہلاکت کے روز کوئٹہ شہر میں بلوے اور تھوڑ پھوڑ کے مقدمے میں مطلوب ہیں اور یہ مقدمہ سیشن کورٹ میں زیرسماعت ہے۔ سنیچر کے روز اس مقدمے میں پیشی تھی۔ پولیس نے اس مقدمے میں پہلے ہی کئی لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ لیکن ڈپٹی انسپکڑ جنرل پولیس رحمت اللہ نیازی نے اس کی تردید کی کہ پولیس نے علی احمد کرد کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا پولیس کے تحقیقاتی افسر ان کے پاس یہ مشورہ دینے گئے تھے کہ ان کو سیشن کورٹ کے وارنٹ کی ضمانت قبل از گرفتاری کرالینی چاہیے۔ وزیر داخلہ آفتاب افتاب شیرپاؤ نے بھی علی احمد کرد کے اس دعوے کو غلط بتایا ہے کہ ان کو حراست میں رکھا گیا یا ان کو ہراساں کیا گیا۔ انہوں نے کہا اگر وہ اس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہیں تو یہ غلط بات ہے۔ ان مبینہ دو الگ الگ واقعات کے خلاف وکلاء نے راولپنڈی اور کوئٹہ میں احتجاج کیے۔ اسی دوران معطل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ایک اور وکیل جسٹس ریٹائرڈ طارق محممود نے حکومت پر چیف جسٹس کے حامی وکلاء کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||