BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 April, 2007, 17:03 GMT 22:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدلیہ کی آزادی، ICJ کوتشویش

داتو پرام کمارا سوامے
وفد کے سربراہ داتو پرام کمارا سوامے ہیں
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ’انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس، کے وفد نے پاکستان میں عدلیہ کی آزادی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

عالمی کمیشن کے اعلیٰ سطح کے وفد نے اپنے سربراہ داتو پرام کمارا کی قیادت میں جمعہ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملاقات کی۔

وفد کے سربراہ داتو پرام کمارا نے اس ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ’نو مارچ کو چیف جسٹس کی معطلی کے بعد جو بھی واقعات ہوئے ہیں عدلیہ کی آزادی پر ان کے اثرات کے بارے میں ہمیں تشویش ہے‘۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چیف جسٹس نے اپنے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کے بارے میں خود کچھ نہیں بتایا اور کہا کہ ان کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ تاہم ان کے مطابق جو کچھ ان کے ساتھ روا رکھا گیا ہے اس بارے میں ان کے وکلاء نے تفصیل بتائی ہے‘۔

چیف جسٹس سے ملاقات میں انسانی حقوق کے کمیشن کے جنرل سیکریٹری اور چیف جسٹس کے وکیل منیر اے ملک بھی موجود تھے۔ وفد نے بعد میں اعتزاز احسن سے ملاقات کی اور بعض آئینی نکات اور مقدمے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

مسٹر داتو کا کہنا تھا کہ ’چیف جسٹس سے ملنے کے بعد عدالتی بحران کے بارے میں صورتحال کافی واضح ہوئی ہے لیکن اس کا درست تجزیہ وزراء اور حکومتی نمائندوں سے ملنے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے‘۔

جسٹس افتخار
جسٹس افتخار اپنے وکیل اعتزاز احسن کے ساتھ

جب ان سے پوچھا کہ گیا کہ کیا آرمی ہاؤس میں ہونے والی بدسلوکی کے بارے میں چیف جسٹس کے وکلاء نے انہیں کچھ بتایا تو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بھی معلومات ملی ہیں لیکن وہ اس پر تفصیل سے تبصرہ حکومتی نمائندوں سے ملنے کے بعد کریں گے۔

آئی سی جے پاکستان میں جاری عدالتی بحران اور اس کے عدلیہ کی آزادی پر پڑنے والے اثرات پر معلومات حاصل کرکے اپنی رپورٹ شائع کرے گا۔

وفد کے سربراہ داتو پرام کمارا سوامے نے اتوار کو کراچی پہنچنے پر سابق ججوں ناصر اسلم زاہد اور رشید اے رضوی، سردار شیر باز مزاری اور سندھ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار حسن سمیت وکلا کے نمائندوں سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔

وفد کی ایک رکن لیلیٰ کریمی نے بتایا کہ وہ وزیر قانون اور وزیر اطلاعات سمیت بعض حکومتی اہم شخصیات ، قانونی ماہرین اور وکلاء کے نمائندوں سے بھی ملیں گے۔ ان کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف سے ملنے کی بھی درخواست کی گئی ہے لیکن تاحال اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔

لیلیٰ کریمی نے بتایا کہ وہ مبینہ طور پر وکلاء اور میڈیا کے خلاف پابندیوں اور کارروائیوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کریں گے۔

واضح رہے کہ وفد ایسے وقت پاکستان پہنچا ہے جب چیف جسٹس نے اپنی معطلی کو سپریم کورٹ میں چیلینج کیا ہے اور اپنے خلاف اختیارات کے غلط استعمال پر صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والے ادارے سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل پر سخت اعتراضات کیے ہیں۔

اس کے علاوہ وفد کی آمد کے موقع پر چیف جسٹس کا دفاع کرنے والے چھ رکنی پینل کے دو اہم اراکین منیر اے ملک اور علی احمد کرد نے کہا ہے کہ انہیں نامعلوم افراد دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ چیف جسٹس کے مقدمے سے علحدہ ہوجائیں ورنہ انہیں جان سے مار دیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد