سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف درخواست پر سماعت شروع ہو گئی ہے۔ دورانِ سماعت چیف جسٹس کے وکلاء کونسل کی تشکیل پر اپنے اعتراضات بیان کریں گے۔ گزشتہ سماعت کے دوران سپریم جوڈیشل کونسل میں دو سپریم کورٹ کے ججوں اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی موجودگی پر اعتراض کیا جا چکا ہے۔ معطل چیف جسٹس کے وکیل نے کہا تھا کہ ان تینوں ججوں کو اس مقدمے کے فیصلے سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تینوں جج صاحبان کا مقدمے میں ذاتی مفاد وابستہ ہونے کی وجہ سے ان کو سپریل جوڈیشل کونسل کا رکن نہیں ہونا چاہیے۔ اس بار معطل چیف جسٹس کے وکلاء سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل پر اپنے مزید اعتراضات کے حق میں دلائل دیں گے۔ جسٹس افتخار چودھری کا پینل چھ وکلاء پر مشتمل ہے جن میں اعتزاز احسن، حامد خان، جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود، منیر اے ملک، علی احمد کرد اور قاضی محمد انور شامل ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبد الحمید ڈوگر، جسٹس چودھری افتخار حسین (چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ)، جسٹس صبیح الدین (چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ) پر مشتمل ہے۔ تیرہ اور اکیس مارچ کو کونسل کی سماعت کے دوران سربراہی جسٹس جاوید اقبال نے کی جبکہ تین اور تیرہ اپریل کو کونسل کی سماعت کے دوران سربراہی قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے کی۔ | اسی بارے میں جلوس، تلخ کلامی اور ہاتھا پائی 13 April, 2007 | پاکستان عدلیہ کو آزادی دی جائے: جسٹس افتخار14 April, 2007 | پاکستان جج چیف جسٹس کا ساتھ دیں:بار17 April, 2007 | پاکستان وسیم سجاد بار روم چھوڑنے پر مجبور12 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||