BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 April, 2007, 13:36 GMT 18:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک اور پیشی، ایک اور میلہ

احتجاج
اسلام آباد میں ملک کی اعلی ترین عدالت کے اندر ایک اور پیشی کے موقع پر مزید احتجاج اور ایک دن کا ایک اور سیاسی میلہ منعقد ہوا۔

سپریم کورٹ میں پچھلی سماعت کے مقابلے میں اس مرتبہ سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کم رہی تاہم وکلا کے جوش و جذبے میں کوئی کمی دکھائی نہیں دی۔ تاہم اس مرتبہ سیاسی کارکن اور وکلاء پانی کے کولر اور بوتلوں اور کھانے کی اشیاء کے ساتھ ’مسلح، ہو کر آئے تھے۔

مقامی اور ملک کے مختلف علاقوں سے آئے سیاہ کوٹوں میں ملبوس وکلا نعرہ بازی اور بینرز پر لکھی عبارتوں سے خصوصی طور پر فوج اور جرنیلوں کو نشانہ بناتے رہے۔ ایک بینر پرلکھی عبارت ’اس وطن کے سجیلے جرنیلوں، یہ رقبے تمھارے لیئے ہیں‘ خصوصی طور ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہی۔ ہر پیشی پر نت نئے نعرے سننے کو ملتے ہیں۔

طویل قانونی جنگ میں احتجاج میں کمی بیشی اسی طرز کی ہوتی ہے۔ شاید پولیس کی راستوں میں موجودگی اور کارکنوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی وجہ سے تعداد میں کمی آئی ہو۔
ایاز امیر
منفرد انداز میں احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایک موقع ہے ہر کوئی اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیئے نئے نئے حلیے اور انداز اپناتے ہیں۔ مسلم لیگ کے ایک کارکن منہ کالا اور گلے میں پٹہ ڈالے گھومتے نظر آئے۔ ماتھے پر ’مشرف کا’حرف لکھا تھا باقی وضاحت صلاح الدین نے خود کی کہ ’مشرف کا منہ کالا اور یہ گلے میں پٹہ امریکہ کا ہے جس سے انہیں جہاں کھینچتا ہے وہ کھنچے چلے جاتے ہیں۔‘

عدالت کے باہر حکومت مخالفین کا تقریباً کنٹرول رہتا ہے۔ ایک سیدھا سادھا شخص مشرف کی تصویر لے کر آیا تو صدر کے مخالفین نے اسے مار بھگایا۔

’سیاسی الو‘ سیدھا کرنے والوں کے علاوہ لاپتہ افراد کے لواحقین بھی اپنے پیاروں کی تصاویر عدالت کے باہر سجائے اپنی جانب حکام بالا کی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن اکثر میڈیا کے لیئے زیادہ اہم سیاسی جماعتوں کااحتجاج تھا۔

جماعتوں کی کم نمائندگی کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ آیا یہ گرم موسم کا اثر تھا یا اس تمام معاملے سے کارکنوں میں اکتاہٹ پیدا ہو رہی ہے۔ جماعت اسلامی کا رنگ غالب رہا تاہم جعمیت کے پرچم کم رہے۔

مسلم لیگ (ن) ، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم حقیقی اور دیگرجماعتیں بھی شریک رہیں تاہم پیپلز پارٹی نے بھی احتجاج میں شریک ہوکر حکومت سے ہونے والی مبینہ ڈیل سے متعلق ابہام کو دوام دیا۔ یہی سوال وہاں موجود پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی فخر امام سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ کوئی ابہام نہیں ہے حکومت سے ڈیل نہیں صرف بات چیت ہو رہی ہے۔

ابھی ان سے بات جاری تھی کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ’گو مشرف گو‘ کے نعرے بلند کرنے شروع کر دیئے۔ فخر امام کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اور اشارہ کر کے کہنے لگے دیکھیں اگر ڈیل ہوتی تو اس قسم کے نعرے کیا لگائے جاتے۔

سیاسی تجزیہ نگار ایاز امیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک طویل قانونی جنگ میں احتجاج میں کمی بیشی اسی طرز کی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید پولیس کی راستوں میں موجودگی اور کارکنوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی وجہ سے تعداد میں کمی آئی ہو۔

سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر ابہام برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کی حکومت سے ڈیل کی افواہیں اور متحدہ مجلس عمل کا غیر واضح کردار اس بےیقینی کی وجوہات ہیں۔

اب اگلی پیشی چوبیس اپریل کو طے ہوئی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ اس روز سیاسی جماعتیں کیسا میلہ لگانے میں کامیاب ہوتی ہیں۔

 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری’اوپن ٹرائل کریں‘
معطل چیف جسٹس کا پہلا انٹرویو
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
اخبارات’نہ جھکنے پر فارغ‘
چیف جسٹس کی معطلی پر اخبارات کے اداریے
اسی بارے میں
طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ
13 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد