کونسل سماعت، ملک گیر احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی معطلی کے خلاف بدھ کو پاکستان کےتمام بڑے شہروں میں سیاسی کارکنوں نے پرامن جلسے اور مظاہرے کئے۔ اس دوران وکلاء کا ہڑتالی احتجاج اور عدالتی کارروائی کا علامتی بائیکاٹ بھی جاری رہا۔ دارالحکومت اسلام آباد میں غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوھدری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی پانچویں سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے صدر جنرل پرویز مشرف کا ایک بڑا پوسٹر اٹھائے جب حکمران مسلم لیگ (ق) کے کارکن عدالت کے سامنے پہنچے تو ڈنڈا بردار خواتین نے جہاں صدر کا پوسٹر پھاڑا اور اس پرجوتیاں برسائیں وہیں سرکاری جماعت کے کارکنوں کی مرمت بھی کی۔ ایک جج کی گاڑی کو سیاسی کارکنوں نے روکا تو پولیس اور کارکنوں میں ہاتھا پائی ہوئی اور بعد میں وکلاء کی مداخلت پر معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ اسلام آباد میں سکیورٹی کے انتظامات سخت تھے اور حکام کے مطابق اسلام آباد، پنجاب پولیس اور رینجرز کے تین ہزار اہلکار تعینات کئے گئے لیکن عدالت کی عمارت کے سامنے جانے سے کسی کو روکا نہیں گیا۔ وکلاء اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں بھی اپنے پیاروں کی تصاویر سجائے احتجاج میں شریک تھے۔ کراچی کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پریس کلب کے باہر اتحاد برائے بحالی جمہوریت کی جانب سے بھوک ہڑتال کی گئی، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، مہاجر قومی موومنٹ اور دیگر جماعتوں کے کارکن شامل تھے۔ وکلا نے سٹی کورٹس سے ہائی کورٹ کی عمارت تک احتجاجی جلوس نکالا جہاں مزید وکلا جلوس میں شامل ہوگئے اور نعرے لگاتے ہوئے وزیراعلیٰ ہاؤس تک مارچ کیا اور دھرنا دیا۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے، داخلی دروازے پر ٹینکر کھڑے کئے گئے اور چھتوں پر پولیس اہلکار تعینات تھے۔وکلا رہنماؤں نے ٹینکر کو اسٹیج کے طور پر استعمال کیا۔ مشتعل وکلا نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر آویزاں جنرل پرویز مشرف، وزیر اعظم شوکت عزیز اور وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کی تصاویر پر ڈنڈے برسائے ۔ جسٹس ریٹائرڈ رشید اے رضوی نے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ دن دور نہیں جب اس ملک کے پچاس ہزار وکیل اسلام آباد میں ایوان صدر کا گھیراؤ کریں گے۔
کوئٹہ کوئٹہ سے عزیزاللہ خان نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ بدھ کوبلوچستان میں وکلا نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی کے حوالے سے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ۔کوئٹہ میں وکلاء کی علامتی بھوک ہڑتال کے علاوہ احتجاجی ریلی نکالی گئی اور منان چوک پر ہاتھوں کی زنجیر بنا کر دھرنا دیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے کارکنوں نے میزان چوک پر علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا ہے جبکہ تحریک انصاف کے کارکنوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ لاہور لاہور سے ہمارے نمائندے عبادالحق نے بتایا کہ وکلا اور سیاسی جماعتوں نے لاہور میں پنجاب اسمبلی تک پرامن جلوس نکالا۔ خاکسار تحریک نے آمریت کا جنازہ نکالا اور پنجاب اسمبلی کے سامنے اس علامتی جنازے کو نذر آتش کیا ۔ پنجاب اسمبلی کی باہر وکلاء رہنماؤں نے خطاب کیا جس کے بعد وکیل اور سیاسی جماعتوں کے کارکن پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ وکیلوں کا جلوس ایوان عدل سے روانہ ہوا اور ہائی کورٹ کے سامنے ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کا جلوس بھی اس میں شامل ہوگیا۔اس موقع پر سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بھی اپنی جماعتوں کی پرچموں اور لیڈروں کی تصاویر کے ساتھ بھرپور شرکت کی۔ان میں سب سے نمایاں پیپلز پارٹی تھی جبکہ تحریک انصاف جماعت اسلامی اور جمہوری وطن پارٹی کے رہنمائوں اور کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ بدھ کی زور نکالا جانے والا یہ جلوس حالیہ عدالتی بحران کے دوران نکلنے والا سب سے بڑا جلوس تھا۔اس کے راستے میں لیبرپارٹی نے صدرمشرف کے حق میں لگے بینر کو اتار کر اس کو نذر آتش کردیا ۔ جلوس کے شرکاء پر گل پاشی بھی کی گئی۔ جلوس میں وکلا نے ساتھیو۔ مجاہدو۔ جاگ اٹھا ہے سارا وطن کے نغمے پر بھنگڑے ڈالے ۔وکلا نے حکمران جماعت کے سینیٹر خالد رانجھا کے دفتر کے سامنے زبردست نعرے بازی بھی کی۔
اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سرفراز چیمہ نے اعلان کیا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بار سے خطاب کی تحریری طور پر دعوت دے دی گئی ہے۔ لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی مظاہروں کے اطلاعات ملی ہیں۔وکلا نے عدالتوں میں ہڑتال ہوئی اور پیش نہیں ہوئے اس طرح عدالتی کارروائی متاثر ہوئی جبکہ عدالتوں میں علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگائے گئے۔ پشاور پشاور سے ہمارے نمائندے عبدالحئی کاکڑ نے بتایا ہے کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر بدھ کوصوبہ سرحد کے وکلاء نے عدالتوں کامکمل بائیکاٹ کیا اور ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ پشاور ہائی کورٹ سے سیشن کورٹ تک نکالی جانے والی اس ریلی میں شامل سینکڑوں وکلاء نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف اور افتخار چودھری کی بحالی کےحق میں نعرے لگائے۔ اس موقع پر پشاورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالطیف آفریدی اور دیگر وکلاء رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حالیہ تحریک میں فعال کردار ادا کرنے والے وکلاء کو بار کونسل کی جانب سے گولڈ میڈل دیئے جائیں گے۔ مقررین نے جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی پالیمنٹرین کے درمیان متوقع ڈیل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس سے عدلیہ کی آزادی کے لیے جاری حالیہ تحریک پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ عبدالطیف آفریدی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ معطل چیف جسٹس افتخار چودھری صوبہ سرحد کےوکلاء سے خطاب کرنےکےلیے اکیس اپریل کو پشاور کا دورہ کریں گے۔لطیف آفریدی کے مطابق انکے استقبال کے لیے پورے صوبہ سرحد سے وکلاء پشاور پہنچیں گے۔ واضح رہے کے اس سے قبل بھی معطل چیف جسٹس نے دورہ پشاورسے معذرت کر لی تھی۔افتخار چودھری راولپنڈی بار سے خطاب کے علاوہ حال ہی میں سندھ میں وکلاء کی مختلف اجتماعات سے خطاب کرچکے ہیں۔ |
اسی بارے میں اگلی سماعت 24 اپریل تک ملتوی18 April, 2007 | پاکستان ’اختیارات کی تقسیم ضروری ہے‘15 April, 2007 | پاکستان چیف جسٹس توہین، فرد جرم عائد 11 April, 2007 | پاکستان تیرہ اپریل کو وکلاء ہڑتال کا اعلان04 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||