ریفرنس پر سماعت دو مئی تک ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم جوڈیشل کونسل میں، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت دو مئی تک ملتوی ہو گئی ہے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ میں غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے دائر کردہ پٹیشن پر سماعت جسٹس سردار محمد رضا خان کے بنچ میں بیٹھنے سے انکار کے بعد ملتوی ہوگئی۔ جسٹس سردار محمد رضا خان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کو نو مارچ کو ’غیر فعال‘ کیے جانے والے صدارتی ریفرنس پر ان کے بھی دستخط ہیں اس لیے وہ اپنے ہی فیصلے کے خلاف درخواست نہیں سن سکتے اور انہوں نے اس معاملے کو قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کو بھیج دیا ہے کہ وہ کوئی دوسرا بینچ تشکیل دیں۔ سپریم کورٹ میں جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست پر آئندہ سماعت کی تاریخ کا اعلان قائم مقام چیف جسٹس بھگوان داس کی طرف سے سپریم کورٹ کے بنچ کے دوبارہ تشکیل دیئے جانے کے بعد کیا جائے گا۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں جاری سماعت کے دوران وقفے میں غیر فعال چیف جسٹس کے وکیل علی احمد کرد نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ میں بڑے یا وسیع تر بینچ کی تشکیل تک سماعت ملتوی کریں۔ تاہم کونسل نے افتخار محمد چودھری کے اس استدعا کو رد کرتے ہوئے سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور وکلاء کو ہدایت کی کہ وہ اپنے دلائل جاری رکھیں۔ صدارتی ریفرنس اور جسٹس افتخار کی درخواست پر سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر حزب اختلاف کی جماعتوں کے کارکن اور وکلاء گزشتہ پیشیوں کی طرح اس مرتبہ بھی احتجاج کے لیے ایک بہت بڑی تعداد میں جمع ہوئے تھے۔
اس موقع پر حکمران جماعت مسلم لیگ ق کی طرف سے بھی مظاہرہ کرنےکا اعلان کیا گیا تھا اور مسلم لیگ کے دفتر سےایک ریلی نکالی گئی۔ حکمران جماعت کی اس ریلی میں اسلام آباد کے باہر سے لائے گئے کئی سو افراد نے شرکت کی۔ یہ ریلی مسلم لیگ کے دفتر سے شروع ہو کر سپریم کورٹ سے کچھ دور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پریڈ گراؤنڈ پر آ کر ختم ہو گئی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کو سپریم کورٹ کے باہر وکلاء اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے ہونے والے احتجاج پہلے سے کہیں بڑا تھا اور ایک انداز کے مطابق اس میں تین سے چار ہزار افراد نے شرکت کی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف، جمیعت علماء اسلام اور پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکن اور وکلاء ’گو مشرف گو‘ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے منگل کو چھٹی پیشی ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی وکالت اعتزاز احسن جبکہ حکومتِ پاکستان کی وکالت سید شریف الدین پیرزادہ نے کی۔ جسٹس افتخار کے چھ وکلاء پر مشتمل پینل کے ایک رکن جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے سماعت سے قبل بی بی سی کو بتایا کہ اعتزاز احسن سپریم جوڈیشل کونسل کی بجائے سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے جبکہ ان کے ساتھی وکلاء منیر اے ملک اور علی احمد کرد سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش ہوں گے۔ آئینی درخواست میں جسٹس افتخار نے انہیں بطور چیف جسٹس غیر فعال بنائے جانے، صدر کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے، جبری چھٹی پر بھیجنے، قائم مقام چیف جسٹسز کے تقرر اور سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کیا ہے۔ ان کی درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد گزشتہ پیشی پر عدالت نے صدر اور دیگر فریقین سے جواب طلب کیا تھا۔ واضح رہے کہ حکومت کے مشیر سید شریف الدین پیرزادہ جو ملکی تاریخ کے سیاسی اور عدالتی بحرانوں میں حکومتی نمائندگی کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں انہوں نے فنی بنیادوں پر سپریم جوڈیشل کونسل میں حکومت کی وکالت کرنے سے معذرت کرلی تھی، لیکن جسٹس افتخار کی آئینی درخواست کے مسئلے پر انہوں نے حکومت کی وکالت کرنے کی حامی بھر لی ہے۔ |
اسی بارے میں جسٹس بحران پر اپوزیشن واک آؤٹ23 April, 2007 | پاکستان ’غداری کا حق کسی کو نہیں‘21 April, 2007 | پاکستان یوم احتجاج سے پہلے درجنوں گرفتار20 March, 2007 | پاکستان سماعت ملتوی، صدر کو نوٹس19 April, 2007 | پاکستان سندھ کے چار سو وکلاء پر مقدمہ 19 April, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا پرجوش استقبال14 April, 2007 | پاکستان جلوس، تلخ کلامی اور ہاتھا پائی 13 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||