جسٹس سردار محمد رضا کا انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف ’غیر فعال‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس سردار محمد رضا خان نے درخواست کی سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جسٹس سردار محمد رضا خان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کو نو مارچ کو ’غیر فعال‘ کیے جانے والے صدارتی ریفرنس پر ان کے بھی دستخط ہیں اس لیے وہ اپنے ہی فیصلے کے خلاف درخواست نہیں سن سکتے اور انہوں نے اس معاملے کو قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کو بھیج دیا ہے کہ وہ کوئی دوسرا بینچ تشکیل دیں۔ جسٹس سردار محمد رضا کی سربراہی میں قائم اس تین رکنی بینچ میں جسٹس حامد علی مرزا اور جسٹس چودھری اعجاز احمد شامل ہیں۔ دوسری جانب ’غیر فعال‘چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ انہیں جسٹس سردار محمد رضا کی اس آئینی درخواست کی سماعت پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن وہ ایک بڑا بیچ تشکیل دیں، جس پر جسٹس سردار محمد رضا کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ بھی قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس ہی کریں گے۔ | اسی بارے میں آئینی پٹیشن اور ریفرنس، تصادم کا خطرہ24 April, 2007 | پاکستان افتخار: حکومتی وکلاء کا انکار03 April, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا علم بغاوت اور بلند18 April, 2007 | پاکستان عدلیہ کو آزادی دی جائے: جسٹس افتخار14 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||