BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 April, 2007, 04:12 GMT 09:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئینی پٹیشن اور ریفرنس، تصادم کا خطرہ

جسٹس افتخار
جسٹس افتخار کی حمایت میں وکلاء کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے
سپریم جوڈیشل کونسل، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت منگل کو اسلام آباد میں کر رہی ہے۔

چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے یہ چھٹی پیشی ہو گی جبکہ صدارتی کے خلاف جسٹس افتخار کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی آئینی درخواست کی سماعت بھی منگل کو ہی ہو رہی ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی وکالت اعتزاز احسن جبکہ حکومتِ پاکستان کی وکالت سید شریف الدین پیرزادہ کر یں گے۔

وکلاء تنظیموں نے جسٹس افتخار کی پیشی کے موقع پر ایک بار پھر ملک گیر مظاہروں کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ حکمران مسلم لیگ صدر جنرل پرویز مشرف کے حق میں سپریم کورٹ کے سامنے ایک مظاہرہ کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ کوئی تین ہزار کے قریب وکلاء اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکن سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر جمع ہیں۔ آج کا مظاہرہ نو مارچ کو صدر کی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے بعد اسلام آباد میں نکالے جانے والے بڑے احتجاجی مظاہروں میں سے ایک ہے جس میں مظاہرین ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ سیکولر اور بنیاد پرست سیاسی جماعتوں کے کارکن صدر مشرف سے چیف جسٹس پر لگائے گئے الزامات واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مبصرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس دوران وکلاء اور حکمراں جماعت کے کارکنوں کے درمیان تصادم کی فضاء بن سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے گرد و نواح میں سخت حفاظتی انتظامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

صدارتی ریفرنس چیلنج
 آئینی درخواست میں جسٹس افتخار نے انہیں بطور چیف جسٹس غیر فعال بنائے جانے، صدر کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے، جبری چھٹی پر بھیجنے، قائم مقام چیف جسٹسز کے تقرر اور سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کیا ہے

جسٹس افتخار کے چھ وکلاء پر مشتمل پینل کے ایک رکن جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ اعتزاز احسن سپریم جوڈیشل کونسل کی بجائے سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے جبکہ ان کے ساتھی وکلاء منیر اے ملک اور علی احمد کرد سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل سے درخواست کی جائے گی کہ وہ سپریم کورٹ میں جسٹس افتخار کی آئینی درخواست پر فیصلے تک صدارتی ریفرنس کی سماعت روک دے۔

آئینی درخواست میں جسٹس افتخار نے انہیں بطور چیف جسٹس غیر فعال بنائے جانے، صدر کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے، جبری چھٹی پر بھیجنے، قائم مقام چیف جسٹسز کے تقرر اور سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کیا ہے۔

ان کی درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد گزشتہ پیشی پر عدالت نے صدر اور دیگر فریقین سے جواب طلب کیا تھا۔

واضح رہے کہ حکومت کے مشیر سید شریف الدین پیرزادہ جو ملکی تاریخ کے سیاسی اور عدالتی بحرانوں میں حکومتی نمائندگی کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں انہوں نے فنی بنیادوں پر سپریم جوڈیشل کونسل میں حکومت کی وکالت کرنے سے معذرت کرلی تھی، لیکن جسٹس افتخار کی آئینی درخواست کے مسئلے پر انہوں نے حکومت کی وکالت کرنے کی حامی بھر لی ہے۔

داتو پرام کمارا سوامے جیورسٹس کمیشن
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی پر تشویش
مزاحمت کی علامت
چیف جسٹس کا سپریم کورٹ میں نیا محاذ
احتجاجسیاسی میلے
وکلا کے جذبے میں کوئی کمی دکھائی نہیں آئی
جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری’اوپن ٹرائل کریں‘
معطل چیف جسٹس کا پہلا انٹرویو
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
اسی بارے میں
سماعت ملتوی، صدر کو نوٹس
19 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد