سماعت ملتوی، صدر کو نوٹس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد صدرِ مملکت اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کارروائی چوبیس اپریل تک ملتوی کردی ہے۔ جسٹس سردار رضا خان کی سربراہی میں قائم فل بینچ نے جمعرات کی صبح سماعت شروع کی اور جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے جیسے ہی دلائل شروع کیے تو بینچ کے سربراہ نے کہا کہ رجسٹرار نے اعتراضات لگا کر معطل چیف جسٹس کی درخواست واپس کردی ہے۔ جس کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا کہ معطل چیف جسٹس جیسی درخواستیں پہلے ہی عدالت میں داخل ہیں اور ان پر عدالت اعظمیٰ نوٹس جاری کرچکی ہے اس لیے یہ آئینی درخواست مکمل طور پر قابل سماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں تین ججوں کے متعصب ہونے اور ان کے ذاتی مفاد وابستہ ہیں اور یہ انتہائی اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔
اعتزاز احسن نے کہا تعصب اور ذاتی مفاد کا معاملہ کافی اہم ہوتا ہے اور بیشتر مقدمات میں جب بھی کسی جج کے بارے میں ایسی نشاندہی ہو تو وہ مقدمے سے علیحدہ ہوجاتا ہے۔ جیسا ان کے بقول سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے وقت جسٹس اجمل میاں نے کیا تھا۔ اس بات کے پیش نظر کہ سجاد علی شاہ کے خلاف فیصلے کی صورت میں جسٹس اجمل میاں چیف جسٹس بنیں گے اور اس فیصلے سے ان کا ذاتی مفاد وابستہ تھا اس لیے وہ فل کورٹ میں نہیں بیٹھے۔ ان کے مطابق سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف فل کورٹ قائم ہوا تھا اور ان کے خلاف ریفرنس نہیں بھیجا گیا تھا۔ چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ کھلی عدالت میں سماعت سے ہی انصاف ہوتا ہوا نظر آتا ہے اور انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھی کھلی سماعت کا کہا لیکن انہوں نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ان کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل میں معاملہ حل ہوتا نظر نہیں آتا اس لیے وہ سپریم کورٹ میں آئے ہیں۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ نو مارچ کو چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس طلب کیا گیا۔ ابھی انہوں نے جملہ مکمل ہی کیا تو جسٹس رضا خان نے مداخلت کی اور کہا کہ یہ باتیں پرانی ہیں آپ کونسل کے بارے میں بات کریں۔ جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس نہیں بھیجا جاسکتا اور نہ ہی سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کا موزوں فورم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی شق دو سو نو کے تحت چیف جسٹس کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی۔ ان کے وہ چیف جسٹس کو احتساب سے بالاتر نہیں سمجھتے لیکن ان کے خلاف کارروائی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل مناسب فورم نہیں ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل نے کہا کہ خود سپریم کورٹ اسد علی کیس میں یہ قرار دے چکی ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کے لیے موزوں فورم فل کورٹ ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس کے بنا تشکیل نہیں دی جاسکتی اور ویسے بھی سپریم کورٹ الجہاد کیس میں یہ قرار دے چکی ہے کہ چیف جسٹس کے بغیر کونسل نہیں بن سکتی۔ ان کے مطابق کونسل عدالت نہیں ہے بلکہ ایک جانچ کرنے والی کمیٹی ہے۔
جس پر جسٹس سردار محمد رضا نے کہا کہ اس نوعیت کی پہلے سے زیر سماعت درخواستوں کی سماعت کے وقت بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا اور وہ کہہ چکے ہیں کہ افتخار محمد چودھری بدستور چیف جسٹس ہیں۔ اُس پر چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ آپ نے تو کہا کہ وہ چیف جسٹس ہیں لیکن وفاقی وزراء محمد علی درانی اور وصی ظفر انہیں غیر فعال کہتے ہیں۔ عدالت نے معطل چیف جسٹس کی آئینی پٹیشن کی ابتدائی سماعت کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف سمیت تمام مدعا علیہاں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کارروائی چوبیس اپریل تک ملتوی کردی۔ اس آئینی درخواست میں صدر پاکستان کے علاوہ وفاق پاکستان، سپریم جوڈیشل کونسل، سپریم کورٹ، لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کو ان کے رجسٹراروں کی معرفت فریق بنایا گیا ہے۔ فل بینچ جسٹس سردار رضا محمد خان، جسٹس اعجاز چودھری اور جسٹس حامد علی مرزا پر مشتمل ہے۔ دوران سماعت کمرہ عدالت میں بڑی تعداد میں وکلا موجود تھے اور اعتزام احسن کی معاونت کے لیے چیف جسٹس کا دفاع کرنے والے چھ رکنی پینل کے اراکین موجود رہے۔ واضح رہے کہ معطل چیف جسٹس نے خود کو غیر فعال بنانے، قائم مقام چیف جسٹسز تعینات کرنے، سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل اور دیگر کئی معاملات کو چیلینج کرتے ہوئے بدھ کو یہ آئینی پٹیشن دائر کی تھی۔ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن کے مطابق انہوں نے اس درخواست میں ایک سو بتیس آئینی سوالات اٹھائے ہیں اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت روکی جائے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا انوکھا کیس ہے جس میں چیف جسٹس اپنی عدالت سے خود کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو صدر نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگا کر نو مارچ کو غیر فعال قرار دیا تھا اور ان کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا تھا۔ |
اسی بارے میں اگلی سماعت 24 اپریل تک ملتوی18 April, 2007 | پاکستان ایک اور پیشی، ایک اور میلہ18 April, 2007 | پاکستان ’اللہ پر بھروسہ مگر آپ پر نہیں‘18 April, 2007 | پاکستان چیف جسٹس سپریم کورٹ میں سائل18 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||