BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 April, 2007, 06:26 GMT 11:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سماعت ملتوی، صدر کو نوٹس

چیف جسٹس افتخار چودھری خود اپنی عدالت میں سائل بن گئے ہیں
سپریم کورٹ نے غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد صدرِ مملکت اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کارروائی چوبیس اپریل تک ملتوی کردی ہے۔

جسٹس سردار رضا خان کی سربراہی میں قائم فل بینچ نے جمعرات کی صبح سماعت شروع کی اور جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے جیسے ہی دلائل شروع کیے تو بینچ کے سربراہ نے کہا کہ رجسٹرار نے اعتراضات لگا کر معطل چیف جسٹس کی درخواست واپس کردی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کیا کہ ان اعتراضات پر کھلی عدالت میں سماعت ہوگی۔ جسٹس سردار رضا خان نے کہا کہ رجسٹرار نے جو اعتراضات لگائے ہیں اس کے مطابق ایک تو یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں پہلے ہی زیرِ سماعت ہے اور متعدد ریلیف مانگے گئے ہیں اور اس پٹیشن میں ججوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

جس کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا کہ معطل چیف جسٹس جیسی درخواستیں پہلے ہی عدالت میں داخل ہیں اور ان پر عدالت اعظمیٰ نوٹس جاری کرچکی ہے اس لیے یہ آئینی درخواست مکمل طور پر قابل سماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں تین ججوں کے متعصب ہونے اور ان کے ذاتی مفاد وابستہ ہیں اور یہ انتہائی اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔

چیف جسٹس کی آئینی درخواست
 اس درخواست میں سوا سو کے قریب آئینی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت روکی جائے۔
ان کے مطابق جب سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف فل کورٹ قائم ہوا تو جسٹس اجمل میاں جو کہ سینیئر ترین جج تھے انہوں نے فل کورٹ میں یہ کہتے ہوئے بیٹھنے سے انکار کیا تھا کہ سجاد علی شاہ کے خلاف فیصلے کی صورت میں وہ چیف جسٹس بنیں گے اس لیے ان کا ذاتی مفاد وابستہ ہے اور وہ فل کورٹ میں نہیں بیٹھے۔

اعتزاز احسن نے کہا تعصب اور ذاتی مفاد کا معاملہ کافی اہم ہوتا ہے اور بیشتر مقدمات میں جب بھی کسی جج کے بارے میں ایسی نشاندہی ہو تو وہ مقدمے سے علیحدہ ہوجاتا ہے۔ جیسا ان کے بقول سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے وقت جسٹس اجمل میاں نے کیا تھا۔ اس بات کے پیش نظر کہ سجاد علی شاہ کے خلاف فیصلے کی صورت میں جسٹس اجمل میاں چیف جسٹس بنیں گے اور اس فیصلے سے ان کا ذاتی مفاد وابستہ تھا اس لیے وہ فل کورٹ میں نہیں بیٹھے۔

ان کے مطابق سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف فل کورٹ قائم ہوا تھا اور ان کے خلاف ریفرنس نہیں بھیجا گیا تھا۔

چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ کھلی عدالت میں سماعت سے ہی انصاف ہوتا ہوا نظر آتا ہے اور انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھی کھلی سماعت کا کہا لیکن انہوں نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ان کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل میں معاملہ حل ہوتا نظر نہیں آتا اس لیے وہ سپریم کورٹ میں آئے ہیں۔

جسٹس افتخار محمد چودھری
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت روکی جائے
عدالت نے ان کے دلائل تسلیم کرتے ہوئے رجسٹرار کے عائد کردہ اعتراضات ختم کردیے اور وکیل سے کہا کہ وہ سریم جوڈیشل کونسل پر اپنے اعتراضات کے بارے میں موقف پیش کریں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ نو مارچ کو چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس طلب کیا گیا۔ ابھی انہوں نے جملہ مکمل ہی کیا تو جسٹس رضا خان نے مداخلت کی اور کہا کہ یہ باتیں پرانی ہیں آپ کونسل کے بارے میں بات کریں۔ جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس نہیں بھیجا جاسکتا اور نہ ہی سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کا موزوں فورم ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی شق دو سو نو کے تحت چیف جسٹس کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی۔ ان کے وہ چیف جسٹس کو احتساب سے بالاتر نہیں سمجھتے لیکن ان کے خلاف کارروائی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل مناسب فورم نہیں ہے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل نے کہا کہ خود سپریم کورٹ اسد علی کیس میں یہ قرار دے چکی ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کے لیے موزوں فورم فل کورٹ ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس کے بنا تشکیل نہیں دی جاسکتی اور ویسے بھی سپریم کورٹ الجہاد کیس میں یہ قرار دے چکی ہے کہ چیف جسٹس کے بغیر کونسل نہیں بن سکتی۔ ان کے مطابق کونسل عدالت نہیں ہے بلکہ ایک جانچ کرنے والی کمیٹی ہے۔

تعصب اور ذاتی مفاد
 تعصب اور ذاتی مفاد کا معاملہ کافی اہم ہوتا ہے اور بیشتر مقدمات میں جب بھی کسی جج کے بارے میں ایسی نشاندہی ہو تو وہ مقدمے سے علیحدہ ہوجاتا ہے
چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کو معطل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اُسے کام سے روکا جاسکتا ہے اور نہ ہی انہیں جبری رخصت پر بھیجا جاسکتا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی چیف جسٹس کی معطلی اور انہیں جبری رخصت پر بھیجنے کے نوٹیفکیشنز کو معطل کیا جائے۔

جس پر جسٹس سردار محمد رضا نے کہا کہ اس نوعیت کی پہلے سے زیر سماعت درخواستوں کی سماعت کے وقت بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا اور وہ کہہ چکے ہیں کہ افتخار محمد چودھری بدستور چیف جسٹس ہیں۔ اُس پر چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ آپ نے تو کہا کہ وہ چیف جسٹس ہیں لیکن وفاقی وزراء محمد علی درانی اور وصی ظفر انہیں غیر فعال کہتے ہیں۔

عدالت نے معطل چیف جسٹس کی آئینی پٹیشن کی ابتدائی سماعت کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف سمیت تمام مدعا علیہاں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کارروائی چوبیس اپریل تک ملتوی کردی۔

اس آئینی درخواست میں صدر پاکستان کے علاوہ وفاق پاکستان، سپریم جوڈیشل کونسل، سپریم کورٹ، لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کو ان کے رجسٹراروں کی معرفت فریق بنایا گیا ہے۔

فل بینچ جسٹس سردار رضا محمد خان، جسٹس اعجاز چودھری اور جسٹس حامد علی مرزا پر مشتمل ہے۔ دوران سماعت کمرہ عدالت میں بڑی تعداد میں وکلا موجود تھے اور اعتزام احسن کی معاونت کے لیے چیف جسٹس کا دفاع کرنے والے چھ رکنی پینل کے اراکین موجود رہے۔

واضح رہے کہ معطل چیف جسٹس نے خود کو غیر فعال بنانے، قائم مقام چیف جسٹسز تعینات کرنے، سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل اور دیگر کئی معاملات کو چیلینج کرتے ہوئے بدھ کو یہ آئینی پٹیشن دائر کی تھی۔

چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن کے مطابق انہوں نے اس درخواست میں ایک سو بتیس آئینی سوالات اٹھائے ہیں اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت روکی جائے۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا انوکھا کیس ہے جس میں چیف جسٹس اپنی عدالت سے خود کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو صدر نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگا کر نو مارچ کو غیر فعال قرار دیا تھا اور ان کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا تھا۔

جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
جسٹس کا دورہ
’وقت کے سینے میں ہم دھڑکتے ہیں‘
غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھریججوں سے اپیل
چیف جسٹس کا ساتھ دیں: سپریم کورٹ بار
مزاحمت کی علامت
چیف جسٹس کا سپریم کورٹ میں نیا محاذ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد