’اللہ پر بھروسہ مگر آپ پر نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم جوڈیشل کونسل نےبدھ کو غیر فعال چیف جسٹس کے وکلاء کی طرف سے صدارتی ریفرنس پر مزید سماعت سے پہلےکونسل میں شامل تین ججوں کے بارے میں اعتراضات پر فیصلہ سنانے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ چیف جسٹس کے وکلاء نے سپریم جوڈیشل کی تشکیل اور اس میں شامل تین ججوں پر اعتراضات اٹھائے تھے جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے تین اپریل کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نےدلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف الزامات کی سماعت کا اختیار کونسل کو نہیں ہے بلکہ فل کورٹ مجاز فورم ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے دئے گئے دلائل کے بارے میں چیف جسٹس کے وکلاء کے پینل میں شامل ایک رکن منیر اے ملک نے بدھ کو سماعت ختم ہونے کے بعد صحافیوں کو آگاہ کیا۔ وکیل نے کہا سپریم کورٹ اسد علی کیس میں قرار دے چکی ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف کسی بھی معاملے کی سماعت سپریم جوڈیشل کونسل نہیں بلکہ فل کورٹ کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف بھی فل کورٹ نے سماعت کی تھی نہ کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے۔
ایڈووکیٹ منیر اے ملک نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کونسل کی مزید کارروائی آگے چلانے سے پہلے تین ججوں کے متعصب ہونے کے بارے میں پہلے فیصلہ کرنے کے متعلق ان کی درخواست کونسل نے مسترد کردی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار حسین چودھری کے اس مقدمے میں متعصب ہونے یا ذاتی مفاد وابسطہ ہونے کے بارے میں جو اعتراضات کیے تھے وہ ابھی رد نہیں کیے۔ بلکہ ان کے مطابق متعصب ججوں کی شمولیت کے بارے میں مزید کارروائی سے پہلے فیصلہ کرنے کی درخواست رد کی گئی ہے۔ منیر اے ملک نے بتایا کہ جـوڈیشل کونسل نے کہا ہے کہ وہ تمام اعتراضات سننے کے بعد اس بارے میں اکٹھا فیصلہ دینا چاہتے ہیں اور دوران سماعت ایک معاملے پر وہ فیصلہ نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ سماعت کے دوران اعتزاز احسن نے کہا کہ گزشتہ شنوائی پر حکومتی وکیل نے متعصب ججوں کے بارے میں ان کے اعتراضات کی مخالفت کی تھی لہٰذا اب وہ جواب دیں تاکہ کونسل اس بارے میں کوئی فیصلہ دے سکے۔ وکیل نے بتایا کہ ایک موقع پر جب معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل متعصب ججوں کے نقطے پر پہلے فیصلہ کرنے کے بارے میں دلائل دے رہے تھے تو جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اس کو چھوڑیں آپ اللہ پر بھروسہ کریں تو وکیل دفاع نے کہا کہ ’اللہ پر تو بھروسہ ہے لیکن آپ کے اوپر نہیں ہے۔‘ جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر وکلاء نے سپریم کورٹ سمیت مختلف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جس سے عدالتی کام شدید متاثر ہوا۔ منیر اے ملک نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو سماعت کے دوران اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری نے کونسل کی تشکیل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اس لیے اگر وہ مناسب سمجھیں تو کارروائی کو آگے نہ چلائیں۔ جس پر ان کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ اس بارے میں اگر سپریم کورٹ نے حکم دیا تو وہ سماعت روک سکتے ہیں۔ صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کے سامنے جہاں صدر جنرل پرویز مشرف کے حامیوں اور مخالفین میں ہنگامہ ہوا ہے وہاں ایک جج کی گاڑی کو بھی روکا گیا۔ |
اسی بارے میں کونسل سماعت، ملک گیر احتجاج18 April, 2007 | پاکستان اگلی سماعت 24 اپریل تک ملتوی18 April, 2007 | پاکستان سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت شروع18 April, 2007 | پاکستان اگلی سماعت 24 اپریل تک ملتوی18 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||