جسٹس افتخار کا علم بغاوت اور بلند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جسٹس افتخار محمد چودھری نے نو مارچ کو راولپنڈی آرمی ہاؤس میں جو علمِ بغاوت بلند کیا تھا اس کو 18 اپریل کو سپریم کورٹ میں جنرل مشرف کے خلاف مقدمہ دائر کر کے مزید بلند کر لیا ہے۔ بدھ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے سپریم کورٹ میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کے خلاف درخواست دائر کیئے جانے سے قبل اس کیس کا سجاد علی شاہ کے عدالتی بحران سے تقابل ممکن نہیں تھا۔ لیکن اٹھارہ اپریل سے شروع ہونے والی جنگ میں اور نوے کی دہائی میں نواز شریف کے دور میں پیش آنے والے عدالتی بحران میں اب کئی مماثلتیں پیدا ہوگئی ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ اور ’ہیوی مینڈیٹ‘ والے وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان جھگڑا سپریم کورٹ کے دو حصوں میں بٹوارے، ملک کی اعلی ترین عدالت پر سیاسی غنڈوں کا حملہ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل جہانگیر کرامت کی طرف سے سپریم کورٹ میں فوج بھیجنے سے انکار، چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی برطرفی اور صدر فاروق لغاری کے استعفٰی پر جا کر ختم ہوا تھا۔ اس وقت اور اب میں فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت صدر اور فوج کے عہدے دو مختلف شخصیات کے پاس تھے جبکہ اب وہ ایک ہی ذات میں مرتکز ہیں۔اس وقت صدر پاکستان چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کرتا تھا جبکہ اب صدر پرویز مشرف چیف آف آرمی سٹاف لیفٹینٹ جنرل پرویز مشرف کے عہدے میں توسیع کر دیتا ہے اور اس طرح فوج اور آئی ایس آئی پر کنٹرول ایک شخص کے پاس ہے۔ دسمبر1997 میں جب نواز شریف حکومت نے جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف عدلیہ میں دراڑیں ڈالیں اور پھر سپریم کورٹ کےکوئٹہ اور پشاور میں بیٹھے ججوں کی طرف سے سجاد علی شاہ کے خلاف پے در پے فیصلے سامنے آئے تو سپریم کورٹ دو حصوں میں بٹ گئی اور اختتام سپریم کورٹ پر مسلم لیگ نواز کے حملے اور سجاد کی شاہ کی برطرفی کی صورت میں نکلا۔
سجاد علی شاہ نے جب نواز شریف کی حکومت سے ٹکر لی تھی اس وقت وکلاء برداری عدلیہ کے ساتھ نہیں تھی۔ اس وقت کی بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد حسن منٹو نے ججوں میں صلح کرانے کی کوشش کی لیکن وہ عدلیہ کے جھگڑے کو صرف ایک روز تک ملتوی کروانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ عابد حسن منٹو نے عدلیہ میں صلح نہ ہونے پر کہا تھا کہ پاکستانی عدلیہ ہمیشہ سے انتظامیہ کے زیر اثر رہی ہے اور عوام کو عدلیہ کے اتحاد میں جو دراڑیں نظر آ رہی ہیں وہ دراصل انتظامیہ میں جھگڑے کی علامتیں ہیں اور وکلاء کو انتظامیہ کے جھگڑے میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کو نامور قانون داں اعتزاز احسن کی خدمات حاصل ہیں جو حکومت کے ساتھ پیپلز پارٹی کی ڈیل کی خبروں کے باوجود جسٹس افتخار کے مقدمےکو جوش و جذبے کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں اور ایڈوکیٹ حامد خان کی سربراہی میں وکلاء کے نمائندے اپنے پورے اتحاد کےساتھ جسٹس افتخار محمد چودھری کےساتھ کھڑے ہیں۔
جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرح جسٹس سجاد علی شاہ نے بھی بطور چیف جسٹس برطرفی کے بعد اپنا مقدمہ سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا اور ایڈوکیٹ عبدالحفیظ پیزادہ کے ذریعے اپنا مقدمہ اسی بینچ کے سامنے پیش کیا جس نے جسٹس سجاد علی شاہ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تقرری کو غیر آئینی قرار دے کر انہیں چیف جسٹس کے عہدے سےہٹانے کا حکم جاری کیا تھا۔ سجاد علی شاہ کو نکالنے کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس میاں اجمل چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے اور چیف جسٹس کو نکالنے والے ججوں کی سربراہی کرنے والے جسٹس سعید الزماں صدیقی ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوئے لیکن جنرل مشرف کے عبوری آئین کے تحت حلف نہ اٹھانے کی پاداشت میں اپنے عہدے سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جسٹس افتخار کو نکالے جانے سے پہلے جسٹس جاوید اقبال اور بعد میں رانا بھگوان داس قائم مقام چیف جسٹس بنے ہیں۔ جسٹس رانا بھگوان دسمبر 2007 میں ریٹائر ہو جائیں گے اور اس کے بعد جسٹس جاوید اقبال کے لیے میدان خالی ہو گا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اکرم شیخ جسٹس سجاد علی شاہ اور نواز شریف حکومت میں جھگڑے کے دوران سجاد علی شاہ کی حمایت میں پیش پیش تھے۔اکرم شیخ کے مطابق جنرل مشرف کی طاقت کا ’گلیشئر‘ اپنی جگہ سے سرک چکا ہے اور تھوڑے ہی عرصے میں ایک برفانی تودے کی شکل اختیار کر لے گا۔ جسٹس سجاد اور نواز شریف حکومت میں جس شخص کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا تھا وہ سینیٹ کے چیئرمین وسیم سجاد تھے جو صدر فاروق لغاری کے جانے کے بعد قائم مقام صدر پاکستان بن گئے تھے اور بطور صدر سرکاری خزانے سے اسلام آباد میں اپنے ذاتی گھر کی آرائش پر ایک کروڑ سے زیادہ خرچ کروا لیا تھا۔ وسیم سجاد جسٹس افتخار محمد کے مقدمے میں حکومت کے وکیل کے طور پر سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔شاید وہ اب بھی کسی سرکاری عہدے کے منتظر ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری تیرہ اپریل کو جب سکھر بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر سندھ گئے تو وہاں وکلاء کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ کے ججوں نےان کا فقید المثال استقبال کیا۔ سندھ ہائی کورٹ کے چوبیس ججوں میں سے پندرہ جج ایک سو پینتیس کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے حیدرآباد میں ان کا استقبال کرنے آئے۔ جسٹس سجاد کے مقدمے میں سپریم کورٹ دو حصوں میں بٹ گئی تھی جسٹس افتخار محمد چودھری کی تنزلی پر وفاقی اور صوبائی عدلیہ کا بٹوراہ ہوتا نظر آتا ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ کی تنزلی پرصدر فاروق لغاری اور تھوڑے عرصے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل جہانگیر کرامت کو مستعفیٰ ہونا پڑا تھا اب یہ دونوں عہدے ایک ہی شخصیت میں مدغم ہیں۔ |
اسی بارے میں چیف جسٹس توہین، فرد جرم عائد 11 April, 2007 | پاکستان وکلاء کی حمایت، اے آر ڈی کی ریلی13 April, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار حیدر آباد پہنچ گئے15 April, 2007 | پاکستان ’اختیارات کی تقسیم ضروری ہے‘15 April, 2007 | پاکستان اگلی سماعت 24 اپریل تک ملتوی18 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||