سندھ کے چار سو وکلاء پر مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویزمشرف اور وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے خلاف احتجاج کرنے والے چار سو وکلاء کے خلاف مزید دو مقدمات دائر کئے گئے ہیں۔ کراچی میں گزشتہ شب آرٹلری میدان پولیس تھانے پر پولیس نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے صدر جنرل پرویز مشرف، وزیر اعظم شوکت عزیز اور وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کی تصاویر کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ڈھائی سو وکلاء کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ سندھ بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین یاسین آزاد، کراچی بار ایسو سی ایشن کے صدر جاوید افتخار قاضی، جنرل سیکریٹری نعیم قریشی، اور خاتون وکیل ناہید افضال کو شریک جرم قرار دیا گیا ہے۔ بدھ کے روز وکلاء نے سٹی کورٹ سے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ کر کے دہرنا دیا تھا۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف بیان بازی پر وکلاء ناراض تھے۔ اس سے قبل کراچی میں سندھ اسمبلی میں زبردستی داخل ہوکر احتجاج کرنے کے الزام میں نامعلوم وکلاء کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ ان مقدمات کے خلاف جمعرات کو وکلاء نے احتجاج کیا اور اسے انتقامی کارروائی قرار دیا۔ دوسری جانب حیدرآباد پولیس نے ڈیڑھ سو وکلاء کے خلاف جنرل پرویز مشرف کا پتلا جلانے اور جلوس نکالنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن عبدالستار قاضی، ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر عبدالعزیز شیخ اور خاتون وکیل غزالہ بھٹی سمیت دیگر کومنافقت پھلانے اور ہنگامہ آرائی کا ذمہ دار ٹھرایا گیا ہے۔ اس طرح وکیل سلطان شیخ پر اس طرح وکیل سلطان شیخ پر صدر جنرل پرویز مشرف کے پتلے کو نذر آتش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ | اسی بارے میں وکلاء کے خلاف تحقیقات06 April, 2007 | پاکستان جلوس، تلخ کلامی اور ہاتھا پائی 13 April, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا پرجوش استقبال14 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||