BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 April, 2007, 16:03 GMT 21:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس بحران پر اپوزیشن واک آؤٹ

وزیر قانون کی تقریر کے دوران حزب مخالف نے علامتی واک آؤٹ کیا (فائل فوٹو)
پاکستان میں چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کے بعد پیدا ہونے والے بحران پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں بات کرنے کی اجازت نے ملنے پر حزب مخالف نے سخت احتجاج کرتے ہوئے علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔

جیسے ہی اجلاس شروع ہوا حزب مخالف کے سرکردہ رہنماؤں نے عدالتی بحران پر بات کرنا چاہی لیکن سپیکر نے انہیں یہ کہہ کر منع کردیا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور ضوابط کے تحت اس پر بحث نہیں ہوسکتی۔

اس دوران صحافیوں نے ’آج ٹی وی‘ کو حکومت کی جانب سے معطل چیف جسٹس کی کوریج کے بارے میں نشریات بند کرنے کے متعلق جاری کردہ نوٹس کے خلاف پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔

صحافیوں کے واک آؤٹ کے دوران سپیکر کی رائے کے خلاف پیپلز پارٹی کے اراکین نے ایوان میں سخت ہنگامہ کیا اور ’جنگ رہے گی جنگ رہے گی ۔۔عدلیہ کی آزادی تک جنگ رہے گی‘ کے نعرے لگائے۔ اس دوران راجہ پرویز اشرف اور ناہید خان سمیت پیپلز پارٹی کے بعض اراکین نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے روسٹرم کے سامنے آئے اور انہیں کہا کہ وہ بحث کرائیں۔

 چودھری نثار علی خان اور لیاقت بلوچ سمیت دیگر نے کہا کہ ملک کی گلی کوچے میں عدالتی بحران پر بحث ہورہی ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ پارلیمان میں بحث نہ ہو

سپیکر نے کہا کہ اس نقطے پر بحث کریں کہ عدالت میں زیر سماعت کسی معاملے پر بحث ہوسکتی ہے یا نہیں جس پر چودھری نثار علی خان اور لیاقت بلوچ سمیت دیگر نے کہا کہ ملک کی گلی کوچے میں عدالتی بحران پر بحث ہورہی ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ پارلیمان میں بحث نہ ہو۔

اس دوران غیر فعال بنائے گئے چیف جسٹس کے وکیل اور پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن ایوان میں آئے تو حزب مخالف کے اراکین نے بھرپور انداز میں ڈیسک بجا کر ان کا خیر مقدم کیا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ چند روز قبل خود وزیرِ قانون نے بیان دیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل عدالت نہیں بلکہ انکوائری کمیٹی ہے۔ ان کے مطابق جب معاملہ انکوائری کمیٹی میں ہے تو یہ زیر سماعت یا ’سب جوڈس‘ کیسے ہوا؟

ان کی تقریر کے دوران جب وزیراعظم شوکت عزیز ایوان میں پہنچے۔ ایک موقع پر اعتزاز نے ان کی طرف انگلی کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پوچھتا ہوں کس بنا پر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجا گیا؟

اعتزاز احسن نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان سے عدالت نہیں پوچھ نہیں سکتی لیکن یہ پارلیمان کو جوابدہ ہیں اور یہ بتائیں کہ کیوں ریفرنس بھیجا گیا؟

 حکومت گجرات سے دو تین سو افراد اسلام آباد لے آئی ہے اور انہیں کالے کوٹ پہنا کر منگل کی صبح سپریم کورٹ لائے گی جہاں جھگڑے کا خطرہ ہے اور کچھ بھی ہوا تو ذمہ داری حکومت پر ہوگی
اعتزاز احسن

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت گجرات سے دو تین سو افراد اسلام آباد لے آئی ہے اور انہیں کالے کوٹ پہنا کر منگل کی صبح سپریم کورٹ لائے گی جہاں جھگڑے کا خطرہ ہے اور کچھ بھی ہوا تو ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

اس کے جواب میں وزیر قانون وصی ظفر نے کہا کہ اب معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ چکا ہے۔ اس دوران حزب مخالف کے اراکین اور وزیر قانون کے درمیاں تیز و تند جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ پارلیمانی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے بھی قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میں زیر سماعت مقدمے کے بارے میں بحث نہیں ہوسکتی۔

وزیر قانون کی تقریر کے دوران حزب مخالف نے علامتی واک آؤٹ کیا اور بعد میں اجلاس منگل کی شام تک ملتوی کردیا گیا۔

قبل ازیں وزیر صحت نصیر خان صحافیوں کو منانے آئے اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت آج ٹی وی کو جاری کردہ نوٹس کی تحقیقات کرائے گی۔ جس پر صحافیوں نے واک آؤٹ ختم کیا اور دھمکی دی کہہ اگر حکومت نے کوئی کارروائی کی تو وہ بائیکاٹ کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد