BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 April, 2007, 18:48 GMT 23:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غداری کا حق کسی کو نہیں‘

جسٹس افتخار محمد چودھری
کوئی بھی ادارہ کسی دوسرے ادارے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا
پاکستان کے ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ریاست سے وفاداری اور آئین کا احترام ایک اچھی حکومت کا بنیادی عنصر ہے اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ریاست سے غداری اور آئین کی خلاف ورزی کرے۔


یہ بات انہوں نے سنیچر کی شام پشاور ہائی کورٹ میں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نو منتخب کابینہ سے حلف لینے کے بعد تقریباً چار ہزار وکلاء کے ایک اجتماع سے کہی۔


پشاور ہائی کورٹ پہنچنے پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس طارق پرویز خان اور ہائی کورٹ کے دیگر گیارہ ججوں نے عمارت کے باہر ججزگیٹ پر غیر فعال چیف جسٹس کا استقبال کیا۔ بعد میں ججوں نے تقریب میں بھی شرکت کی جس پر افتخار محمد چودھری نے ان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔

افتخار چودھری نے تیس منٹ کی لکھی ہوئی تقریر پڑھی اور ابتداء ہی میں انہوں نےوکلاء کو سیاسی نعرے بازی کرنے سے منع کر دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے چیف جسٹس کی حیثیت سے ایک پیشہ ورانہ تقریر کریں گے اور ان کی تقریر کا موضوع ’گڈ گورننس میں عدلیہ کا کردار‘ ہے۔

جسٹس افتخار چودھری نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق کوئی بھی ادارہ کسی دوسرے ادارے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا اور نہ ہی آئین کے تحت کوئی بھی ادارہ یا اتھارٹی طے شدہ حدود سے تجاوز کر سکتا ہے۔

ہزاروں وکلاء اور سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں نے ان کا پر جوش استقبال کیا۔

’معطل، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین سپریم کورٹ کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اس بات کو ممکن بنائے کہ ملک کے ہر شہری کی انصاف تک رسائی ہو۔

انہوں نے اپنی کارگردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوششش کی کہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کوان کے غصب شدہ حقوق دلوائیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے مفاد عامہ کے کیسوں پر ازد خود کارروائی کی۔جسٹس افتخار کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کو روزانہ تقریباً ایک سو پچاس شکایتیں وصول ہونا شروع ہو گئی تھیں۔

افتخار چودھری نے اپنی تقریر میں گڈگورننس یا معیاری حکومت کے خدوخال، آئین کی اہمیت اور عدلیہ کے کردار پر روشنی ڈالی۔

اگرچہ ابتداء میں انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ تقریر کریں گے لیکن موضوع کا انتخاب اور بین السطور میں کی گئی باتوں میں حکومت کے لیے ایک سیاسی پیغام موجود تھا۔

انہوں نے پشاور ہائی کورٹ بار کونسل کے نومنتخب ارکان سے حلف لیا۔ افتخار چودھری کوجب سٹیج سیکرٹری نےتقریر کے لیے بلایاتو ان کے استقبال کے لیےصوبہ بھر سے آئے ہوئے وکلاء کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کئی منٹ تک تالیاں بجائیں۔ اس موقع پر وکلاءنےان کے حق اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف زبر دست نعرے بازی بھی کی۔

افتخار چودھری نے پشاور ہائی کورٹ کے پنڈال میں موجود وکلاء کا شکریہ پشتو زبان میں اداکیا اور بعد میں اپنا مضمون انگریزی میں پڑھ لیا۔

تقریب سے افتخار چودھری کے وکلاء نے بھی خطاب کیا۔

تقریب سے افتخار چودھری کے وکلاء منیر اے ملک، چودھری اعتزاز احسن، علی احمد کرد، قاضی انورایڈوکیٹ، حامد خان اور پشاور ہائی کورٹ بار کونسل کے صدر عبدالطیف آفریدی نے بھی خطاب کیا۔

منیر اے ملک نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کے صدارتی ریفرنس سے متعلق حکومت کے ساتھ کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اور ان کی یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک عدلیہ کو مکمل آزادی نہیں ملتی اور لاپتہ افراد کو رہا نہیں کر دیا جاتا۔

چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان میں صرف ایک ہی شخص کی حمکرانی ہے اور تمام فیصلے پارلیمنٹ سے باہر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا وزیراعظم بےاختیار ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب مختار مائی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیاگیا تو خود شوکت عزیز نے پارلیمنٹ میں ان سے سرگوشی کے انداز پوچھا کہ مختار مائی کا نام کس نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا ہے۔

اعتزاز احسن کے بقول انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ یہ سوال وزیر داخلہ سے پوچھے لیکن انہوں نے جواب میں کہا کہ انہیں بھی کچھ معلوم نہیں ہے۔

 پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس طارق پرویز خان اور دیگر گیارہ ججوں نے افتخار چودھری کا ہائی کورٹ کے ججزگیٹ پر استقبال کیا اور بعد میں انہوں نے تقریب میں بھی شرکت کی۔ افتخار چودھری نے ججوں کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا

اس سے قبل ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار چودھری کا اسلام آباد سے پشاور آتے ہوئے راستے میں مختلف جگہوں پر زبردست استقبال ہوا اور انہوں نے تین گھنٹے کی مسافت تقریباً نو گھنٹے میں طے کر لی۔

صوبہ سرحد اور اور صوبہ پنجاب کو تقسیم کرنے والے خیر آباد پل پر صوبہ بھر کے ہزاروں وکلاء اور سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں نے ان کا پر جوش استقبال کیا۔

استقبال کرنے والوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن زیادہ نمایاں نظر آئے جبکہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے کارکن بھی خاصے پرجو ش تھے۔

متحدہ مجلس عمل جو اسلام آباد میں سماعت کے موقع پر احتجاج میں پیش پیش رہا ہے لیکن صوبہ سرحد میں حکومتی پارٹی ہونے کے باوجود افتخار چودھری کے استقبال کے لیے زیادہ کارکن جمع نہ کرسکا البتہ جماعت اسلامی نے نوشہرہ کے مقام پر ایک استقبالی کیمپ لگایا تھا۔

’معطل‘ چیف جسٹس کے خیر آباد پل پر پہنچنے سے قبل وکلاء پرجو ش انداز میں تقریباً تین گنٹھے تک ’گو مشرف گو‘ ، ’چودھری ہیرو مشرف زیرو‘،’ کالا کوٹ کالی ٹائی مشرف کی شامت آئی‘ اور ’عدلیہ بچاؤ مشرف بھگاؤ‘ کے نعرے لگاتے رہے۔

وکلاء خیر آباد پل پرمسلم لیگ (ق) کی طرف سے لگائی گئی جنرل پرویز مشرف کی تصویر کو اتار کر اسے کافی دیر تک پاؤں تلے روندتے اورجوتے مارتے رہے۔ بعد میں انہوں نے جلوس کی صورت میں جاکر تصویر دریائےسندھ میں پھینک دی۔

اٹک سے پشاور تک جی ٹی روڈ پر لوگ جگہ جگہ افتخار چودھری کے استقبال کے لیےکھڑے تھے اور سیاسی پارٹیوں نے بعض مقامات پراستقبالی کیمپ قائم کیے تھے۔ کئی مقامات پر بڑے بڑے بینرز آویزاں کیے گئے تھے جن پر جسٹس افتخار چودھری کی حمایت میں نعرے درج تھے۔

اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات تھے اور پشاور ہائی کورٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ہائی کورٹ کے داخلی دروازے پر اندر جانے والوں کی تلاشی لی جارہی تھی۔

’معطل‘ چیف جسٹس کے وکلاء نے صوبہ سرحد میں ان کے استقبال کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ یہ راولپنڈی، سکھر اور حیدرآباد میں ہونے والے استقبال سے کافی بڑا ہے۔

مزاحمت کی علامت
چیف جسٹس کا سپریم کورٹ میں نیا محاذ
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
 جسٹس افتخار کے ساتھ بدسلوکی’یہ ہاتھ کس کا ہے‘
جسٹس افتخار کے بال کس نے کھینچے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد