اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | چھ وکلاء پر مشتمل ایک پینل جسٹس افتخار کا دفاع کررہا ہے |
پاکستان کے عملی طور پر معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ میں جمعہ کو دائر کردہ درخواست میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے خلاف صدارتی ریفرنس کی جاری سماعت روکنے کے لیے حکم امتناعی جاری کیا جائے۔ چیف جسٹس کا دفاع کرنے والے چھ وکلاء پر مشتمل پینل کے ایک رکن جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ چیف جسٹس کی طرف سے یہ درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی ہے۔ لیکن ان کے مطابق تاحال سپریم کورٹ کی جانب سے انہیں کوئی اطلاع نہیں ملی کہ کب اس کی سماعت ہوگی۔ ان کے مطابق اعتزاز احسن بھارت گئے ہوئے ہیں اور اگر عدالت نے درخواست کی سماعت کی تو وہ واپس آسکتے ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے بتایا کہ انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل اور ان کے دائرہ اختیار کو پہلے ہی چیلینج کر رکھا ہے اور یہ درخواست بھی سپریم کورٹ میں دے رکھی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی دو مئی کو ہونے والی سماعت سے قبل سپریم کورٹ چیف جسٹس کی درخواست کی سماعت کرے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے جمعرات کو دائر کردہ درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی تھی کہ وہ تیس اپریل تک ان کی درخواست کی سماعت کرے۔ لیکن صدر کا دفاع کرنے والے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ نے درخواست بھجوائی کہ وہ سات مئی سے پہلے دستیاب نہیں ہوں گے اس لیے اس سے پہلے سماعت نہ کی جائے۔ طارق محمود نے کہا کہ سات مئی سے قبل اگر سپریم جوڈیشل کونسل نے کوئی فیصلہ دے دیا تو اس سارے عمل پر سخت اثرات مرتب ہوں گے اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اس بارے میں کوئی قدم اٹھائے۔ واضح رہے کہ صدر نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو غیر فعال بناتے ہوئے ان کے خلاف نو مارچ کو صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس کو کام کرنے سے روکنے کے لیے اُسی روز حکم جاری کیا لیکن بعد میں صدر نے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجنے کا حکم جاری کیا۔ چیف جسٹس پہلے ہی سپریم جوڈیشل کوسنل کے پانچ میں سے تین اراکین پر متعصب ہونے یا مفادات وابسطہ ہونے کا الزام لگا چکے ہیں۔ ایسے میں بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اگر مداخلت نہیں کرتی اور جوڈیشل کونسل نے کوئی فیصلہ دے دیا تو پاکستان میں جاری عدالتی بحران ایک نیا رخ اختیار کرسکتا ہے۔ |