BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 April, 2007, 22:23 GMT 03:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سماعت: حکم امتناعی کی اپیل

چھ وکلاء پر مشتمل ایک پینل جسٹس افتخار کا دفاع کررہا ہے
پاکستان کے عملی طور پر معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ میں جمعہ کو دائر کردہ درخواست میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے خلاف صدارتی ریفرنس کی جاری سماعت روکنے کے لیے حکم امتناعی جاری کیا جائے۔

چیف جسٹس کا دفاع کرنے والے چھ وکلاء پر مشتمل پینل کے ایک رکن جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ چیف جسٹس کی طرف سے یہ درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی ہے۔

لیکن ان کے مطابق تاحال سپریم کورٹ کی جانب سے انہیں کوئی اطلاع نہیں ملی کہ کب اس کی سماعت ہوگی۔ ان کے مطابق اعتزاز احسن بھارت گئے ہوئے ہیں اور اگر عدالت نے درخواست کی سماعت کی تو وہ واپس آسکتے ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے بتایا کہ انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل اور ان کے دائرہ اختیار کو پہلے ہی چیلینج کر رکھا ہے اور یہ درخواست بھی سپریم کورٹ میں دے رکھی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی دو مئی کو ہونے والی سماعت سے قبل سپریم کورٹ چیف جسٹس کی درخواست کی سماعت کرے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے جمعرات کو دائر کردہ درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی تھی کہ وہ تیس اپریل تک ان کی درخواست کی سماعت کرے۔ لیکن صدر کا دفاع کرنے والے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ نے درخواست بھجوائی کہ وہ سات مئی سے پہلے دستیاب نہیں ہوں گے اس لیے اس سے پہلے سماعت نہ کی جائے۔

طارق محمود نے کہا کہ سات مئی سے قبل اگر سپریم جوڈیشل کونسل نے کوئی فیصلہ دے دیا تو اس سارے عمل پر سخت اثرات مرتب ہوں گے اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اس بارے میں کوئی قدم اٹھائے۔

واضح رہے کہ صدر نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو غیر فعال بناتے ہوئے ان کے خلاف نو مارچ کو صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس کو کام کرنے سے روکنے کے لیے اُسی روز حکم جاری کیا لیکن بعد میں صدر نے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجنے کا حکم جاری کیا۔

چیف جسٹس پہلے ہی سپریم جوڈیشل کوسنل کے پانچ میں سے تین اراکین پر متعصب ہونے یا مفادات وابسطہ ہونے کا الزام لگا چکے ہیں۔

ایسے میں بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اگر مداخلت نہیں کرتی اور جوڈیشل کونسل نے کوئی فیصلہ دے دیا تو پاکستان میں جاری عدالتی بحران ایک نیا رخ اختیار کرسکتا ہے۔

قانونی نکات
جسٹس افتخار کی پیٹیشن کے قانونی نکات
ملک گیر مظاہرے
وکلاء اور سیاسی جماعتوں کا احتجاج
داتو پرام کمارا سوامے جیورسٹس کمیشن
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی پر تشویش
احتجاجسیاسی میلے
وکلا کے جذبے میں کوئی کمی دکھائی نہیں آئی
جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری’اوپن ٹرائل کریں‘
معطل چیف جسٹس کا پہلا انٹرویو
عارف چودھری’لیگل سپِن ڈاکٹر‘
چیف جسٹس کیس میں ایک اور حکومتی وکیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد