’ایسا انوکھا واقعہ پہلے نہیں دیکھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قانونی ماہرین کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کا کہنا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ جو کچھ آرمی ہاؤس میں ہوا اس کی مثال مہذب معاشرے میں نہیں ملتی۔ یہ بات پاکستان میں موجودہ قانونی بحران کا جائزہ لینے کے لیے آنے والے’ آئی سی جے‘ کے ایک مشن کے سربراہ داتو پرام کمارا سوامی نے اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے کیرئیر میں اس طرح کا ’انوکھا واقعہ‘ پہلے نہیں دیکھا۔داتو پرام کمارا سوامی نے کہا’اگرچہ میں اس روز یہاں نہیں تھا لیکن میں نے جو دیکھا اور جو سنا، اس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کسی مہذب معاشرے میں اس طرح ہو سکتا ہے‘۔ ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے داتو پرام آئی سی جے کے نائب صدر ہونے کے علاوہ اقوام متحدہ کے ججوں اور وکلاء کی آذادی سے متعلق خصوصی نمائندے بھی رہ چکے ہیں۔ وہ اس مشن کی سربراہی کر رہے تھے جس نے پاکستان کے ایک ہفتے کے دورے کے دوران موجودہ قانونی بحران کا جائزہ لیا۔ اس سلسلے میں وہ اسلام آباد کے علاوہ کراچی، پشاور اور لاہور بھی گئے اور مقامی وکلاء اور حکومتی اہلکاروں سے بات کی۔ آئی سی جے کا کہنا تھا کہ موجودہ عدالتی بحران اگر جلد حل نہ کیا گیا تو اس کے ملک میں آئین کی عمل داری کو ناقابل تلافی نقصانات پہنچ سکتے ہیں۔ مشن نے حکومت پر عدلیہ کی آذادی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ مشن نے اپنے ابتدائی مشاہدات میں لکھا ہے کہ پاکستان میں ماضی میں انتظامیہ کی عدلیہ میں مداخلت کے واقعات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی یونیفارم میں ملبوس صدر جنرل پرویز مشرف سے آرمی ہاوس میں ملاقات اور استعفی کے مطالبے کی مثال دنیا کی قانونی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ داتو پرام کماراسوامی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس میں تقریباً پانچ گھنٹے تک رکھا گیا جس کے دوران ان کا باہر کی دنیا سے رابطہ کٹا رہا۔ ’اس دوران کافی عجلت میں قائم مقام چیف جسٹس کا حلف دلوایا گیا اور سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے لیے ججوں کو کراچی اور لاہور سے خصوصی طیاروں میں اسلام آباد لایا گیا‘۔ مشن کے مطابق آرمی ہاؤس سے واپسی پر چیف جسٹس کا تمام پروٹوکول واپس لے لیا گیا یہاں تک کہ ان کی گاڑی سے پرچم بھی ہٹا دیا گیا۔ انہیں واپس دفتر نہیں جانے دیا گیا بلکہ پولیس انہیں ان کی رہائش گاہ لے گئی۔ ’جب چیف جسٹس گھر پہنچے تو اٹھارہ خفیہ اداروں کے اہلکار وہاں موجود تھے‘۔ داتو پرام کماراسوامی کے خیال میں چیف جسٹس کو بظاہر بدنام کرنے کی کوشش میں ریفرنس میں شامل الزامات پر مشتمل ایک خط تمام ملک میں پھیلایا گیا۔ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ انتظامیہ کی طرف سے چیف جسٹس کی بڑھتی ہوئی عدالتی فعالیت کا ردعمل تھا۔’سٹیل مل کیس اور لاپتہ افراد کے مقدمات میں چیف جسٹس کا کارروائی سے انتظامیہ کے ادارے ناراض ہوئے۔’ وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ لوگ ججوں کے احتساب کے خلاف نہیں لیکن چیف جسٹس کے ساتھ سلوک سے ناراض ہیں۔ تاہم انہوں نے کئی بار کونسلوں کی جانب سے اس مقدمے میں حکومت کی جانب سے وکلاء پر پیروی کرنے سے انکار کو غلط فیصلہ قرار دیا۔ مشن نے جسٹس سردار رضا کی جانب سے چیف جسٹس کی درخواست کی سماعت سے انکار باوجود اس کے کہ ان پر کسی نے اعتراض نہیں کیا تھا ایک درست فیصلہ قرار دیا۔داتو پرام کماراسوامی کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ کی جانب سے حکومت کے حق میں مظاہرے موجودہ بحران کے حل کے لیئے ایک غیرموضع اور غیرموثر طریقہ ہیں۔ اس تمام معاملے میں ذرائع ابلاغ پر دباو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اظہار رائے کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ آئی سی جے کے داتو پرام کماراسوامی کا کہنا تھا کہ اس بحران پر ان کی تفصیلی رپورٹ جلد جاری کر دی جائے گی۔ |
اسی بارے میں عدلیہ کی آزادی، ICJ کوتشویش20 April, 2007 | پاکستان آئینی پٹیشن اور ریفرنس، تصادم کا خطرہ24 April, 2007 | پاکستان بدسلوکی کیس، سماعت پھر ملتوی25 April, 2007 | پاکستان ’مجھے حراست میں رکھا گیا‘25 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||