BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 April, 2007, 10:55 GMT 15:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بدسلوکی کیس، سماعت پھر ملتوی

چیف جسٹس
کسی کو پتہ نہیں ہےکہ چیف جسٹس کے بال کس نے کھینچے
’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے مقدمہ کی سماعت سپریم کورٹ نے ایک ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔

سپریم کورٹ اسلام آباد کے چیف کمشنر اور آئی جی پولیس سمیت سات افسران پر فرد جرم عائد کرچکی ہے اور بیشتر افسران نے غیر مشروط معافی مانگ رکھی ہے۔

بدھ کو سماعت شروع ہوئی تو بینچ کے سربراہ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا کہ جس نے غیر مشروط معافی کی درخواست دی ہے وہ بیٹھے رہیں اور جو مقدمہ لڑنا چاہتا ہے اس کے وکیل دلائل دیں۔

اس دوران ڈی ایس پی جمیل ہاشمی کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے بھی معافی کی درخواست دی ہے اور اخبار میں ان کی جانب سے الزامات کا دفاع کرنے کی خبر درست طور پر شائع نہیں ہوئی۔

عدالت نے کہا کہ ان کی درخواست واضح نہیں ہے ایک طرف الزامات کو غلط کہا گیا ہے اور دوسری جانب معافی بھی مانگ رہے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ ان کی درخواست کو غیر مشروط معافی تصور کیا جائے۔

عدالت نے ان سے کہا کہ وہ غیر مشروط معافی مانگنا چاہتے ہیں تو نئی درخواست سات روز کے اندر دائر کریں اور عدالت اس کے بعد اس کا فیصلہ کرے گی۔ عدالت نے مزید سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کردی۔

بدھ کو قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں بینچ نے سماعت شروع کی تو توہین عدالت کے مقدمے میں ملوث چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز، ڈپٹی کمشنر چودھری محمد علی، آئی جی پولیس چودھری افتخار احمد، ایس ایس پی اسلام آباد کیپٹن ( ریٹائرڈ) ظفر اقبال، ڈی ایس پی جمیل ہاشمی، ایس ایچ او رخسار مہدی اور اے ایس آئی سراج احمد عدالت میں موجود تھے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی تفتیش کرنے والا سپریم کورٹ کا بینچ چیف جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس تصدق حسین جیلانی اور جسٹس ناصر الملک پر مشتمل ہے۔

واضح رہے کہ تیرہ مارچ کو جب ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیشی کے لیے اپنے گھر سے سپریم کورٹ تک پیدل جانے پر اصرار کیا تو سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی تھی اور اس دوران ان سے مبینہ بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا۔

سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے جج اعجاز افضل خان کو انکوئری جج مقرر کیا تھا اور ان کی جانچ مکمل ہونے کے بعد توہین عدالت کے اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد