’مجھے حراست میں رکھا گیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے ’غیرفعال‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ جب انہوں نے صدر کے کہنے پر استعفیٰ دینے سے انکار کیا تو انہیں صدراتی کیمپ آفس میں حراست میں لے لیا گیا۔ یہ الزام چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ایک آئینی درخواست میں لگایا ہے۔ اس درخواست میں صدر، وفاق پاکستان، سپریم جوڈیشل کونسل اور سپریم کورٹ، سندھ اور لاہور ہائی کورٹس کے رجسٹرار کو مدعا علیہان بنایا گیا ہے۔ چالیس صفحات پر مشتمل اس درخواست میں چیف جسٹس نے انہیں جبری چھٹی پر بھجوائے جانے اور سپریم جوڈیشل کونسل کی ترکیب اور اہلیت سے متعلق اعتراضات اٹھائے ہیں۔ آئینی ماہرین کے مطابق اس درخواست میں چیف جسٹس نے ججوں پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیئے ہیں جس سے عدلیہ کے تقسیم ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ یہ الزامات جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی آئینی درخواست کے تیسرے حصے میں لگائے ہیں جن میں سپریم جوڈیشل کونسل کی ترکیب اور اہلیت سے متعلق اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ درخواست میں سپریم جوڈیشئل کونسل میں شامل بعض ججوں پر تعصب اور ذاتی مفادات وابستہ ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ ملک کی عدالتیں اسے بنیادی حق قرار دے چکی ہیں کہ عدالتی عمل یا مقدمے کی سماعت غیر جانبدار فورم کے ذریعے ہو جبکہ آئین کا آرٹیکل 9 بھی اس بات کی ضمانت دیتا ہے۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ چیف جسٹس کی موجودگی میں قائم مقام چیف جسٹس کی تعیناتی غیرقانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ ’اگر چیف جسٹس کو روکا گیا تو پوری عدالت کی کارروائی رک جائے گی۔
صدر جنرل پرویز مشرف کا ایک ٹی وی انٹریو میں کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے خود ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی اور انہیں طلب نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم درخواست میں اس ملاقات کے لیے چیف جسٹس نے ’حراست’ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ انہیں کونسل سے جس میں یہ تین جج شامل ہوں انصاف یا غیرجانبدار شنوائی کی کوئی امید نہیں ہے درخواست میں اس سلسلے میں شرف فریدی کیس، الجہاد ٹرسٹ کیس، عزیز اللہ میمن کیس اور آفتاب شعبان میرانی کیس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ درخواست میں کہاگیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اپنی موجودہ شکل میں درخواست گزار کے ساتھ انصاف کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی کیونکہ اس کے پانچ میں تین ارکان کو درخواست گزار کے چیف جسٹس کے عہدے سے علحیدگی کی صورت میں براہ راست فائدہ پہنچے گا یا وہ درخواست گزار کی جانب بدنیتی اور عناد کا مظاہرہ کریں گے۔ درخواست گزار نے کونسل کے بعض ارکان کے بارے میں تفصیل سے اعتراضات اور تحفظات کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ ارکان ذاتی فائدے، تعصب اور عناد کی بناء پر کونسل میں شامل ہونے کے اہل نہیں ہیں اور اسی باعث درخواست گزار ان سے انصاف کی امید نہیں کرسکتا۔
جسٹس جاوید اقبال پر الزام درخواست میں استفسار کیا گیا ہے کہ کیا جاوید اقبال درخواست گزار کے خلاف فیصلہ دینے کے فطری روئیے سے گریز کر پائیں گے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی تنخواہ اور مراعات عدالت عظمی کے دوسرے ججوں سے زیادہ ہوتی ہے اس لیے درخواست گذار کے چیف جسٹس نہ رہنے کے بعد جسٹس جاوید اقبال کو براہ راست اہم مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لینے دوڑے دوڑے گئے اور اس کی خوشی بھی منائی اس وقت جبکہ درخواست گزار یعنی چیف جسٹس آف پاکستان راولپنڈی میں صدر مملکت کے دفتر میں زیر حراست تھے جسے پوری قوم نے میڈیا پر دیکھا۔ ’انہوں نے حلف اٹھانے سے پہلے اپنے چیف جسٹس کی حراست کے حالات اور وجوہات معلوم کرنے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس کے چار دن بعد تک ایسا کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس عہدے کو پانے کے لیے بے تاب تھے۔‘
درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پر ریفرنس میں پہلا یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر میرٹ کے خلاف اپنے بیٹے ارسلان افتخار کا بولان میڈیکل کالج میں داخلہ کروایا۔ اس الزام میں کوئی صداقت نہیں لیکن جسٹس جاوید اقبال نے اسی کالج میں اپنی دو بیٹیوں عائشہ جاوید اور قیصرہ جاوید کے داخلے کروائے اس کے باوجود کہ وہ میرٹ پر پورا نہیں اتر رہی تھیں۔ ان میں عائشہ کا داخلہ خصوصی کوٹے اور قیصرپ کا داخلہ آزاد جموں و کشمیر کے کوٹے پر کروایا گیا۔‘ درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ جسٹس جاوید نے اپنے داماد کو جو سول جج تھا، بلوچستان میں داخلہ اور قبائلی امور کے محکمے میں ڈپٹی سیکریٹری کے عہدے پر فائز کروایا جو کہ صریحاً خلاف قاعدہ تھا۔ درخواست گزار کے مطابق جسٹس جاوید کی چیف جسٹس کو ہٹوانے کی غیرمناسب خواہش کا پتہ اس بات سے بھی چلتا ہے کہ انہوں نے نو مارچ کو دفتری اوقات کے بعد جلد بازی میں کونسل کا اجلاس طلب کرلیا تھا حالانکہ اس وقت سینئر جج جسٹس رانا بھگوان داس عارضی چھٹی پر گئے ہوئے تھے اور یہ اجلاس وہ ان کی واپسی کے بعد بھی بلاسکتے تھے۔
درخواست گزار کے مطابق جسٹس جاوید نے جسٹس رانا بھگوان داس سے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لینے کے فوری بعد اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریفرنس کے سلسلے میں جو بھی اقدامات کئے گئے وہ آئین کے مطابق تھے۔ ’اس طرح انہوں نے اس معاملے پر پیشگی فیصلہ سنا دیا جو کہ تعصب میں شمار ہوتا ہے۔‘ جسٹس عبدل حمید ڈوگر دوسرے متنازعہ جج جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے بارے میں درخواست میں سب سے کم اعتراضات لگائے گئے ہیں۔ جسٹس افتخار کا کہنا ہے کہ جسٹس حمید ڈوگر نے جسٹس جاوید اقبال کو قائم مقام چیف جسٹس کا حلف دلانے میں تیزی کی اور اس کو بطور ایک خوشی منایا حالانکہ درخواست گزار اس وقت بھی راولپنڈی میں زیرحراست تھے۔ ان کا سوال تھا کہ اس میں خوشی منانے کا ایسا کیا تھا؟ جسٹس افتخار کا کہنا ہے کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے خلاف شاہ عبدالطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور کے فنڈز میں مبینہ خوردبرد کے خلاف ایک ریفرینس/شکایت زیرالتوا ہے۔ یہ کونسل کے ریکارڈ پر پہلے سے موجود ہے۔ ان کا مدعا ہے کہ اگر کسی جج کے خلاف محض شکایت دائر کرنا اسے ’غیر فعال‘ بنانے کے لیے کافی ہے تو پھر انہیں بھی کونسل میں بیٹھنے نہ دیا جائے۔ جسٹس افتخار حسین چوہدری تیسرے جج جسٹس افتخار حسین چوہدری کے بارے میں درخواست میں ’ذاتی تعصب‘ اور ’دیرینہ نفرت‘ کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ درخواست گزار جسٹس افتخار چوہدری کا کہنا تھا کہ اسی بدنیتی کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو یقین ہے کہ ان کی موجودگی میں ان کا کیریئر میں آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ اگر جسٹس افتخار حسین چوہدری کی سپریم کورٹ میں تعیناتی ہو جاتی تو انہیں تین برس کی توسیع مل سکتی ہے جس دوران انہیں اضافی تنخواہ اور مراعات دستیاب ہوں گی۔ لہذا درخواست گزار کا موقف ہے کہ جسٹس افتخار حسین چوہدری کے معاشی مفادات کا انحصار اس ریفرنس کے فیصلے پر ہے۔
پٹیشن میں بتایا گیا ہے کہ جسٹس افتخار حسین چوہدری کے خلاف بھی کئی ریفرنس/ شکایات زیرالتوا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ درحقیقت درخواست گزار نے بحثیت چیف جسٹس ان شکایات کی ابتدائی تفتیش کے لیے جسٹس جاوید اقبال کو کہا تھا۔ ’آج دونوں کے مفادات ایک ہیں اور دونوں درخواست گزار کی جانب مخالفانہ رویہ رکھتے ہیں۔‘ لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز کے درمیان تعلقات کی کشیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بقول جسٹس افتخار چوہدری دونوں آپس میں بات بھی نہیں کرتے بلکہ ہاتھ تک نہیں ملاتے۔ درخواست گزار نے الزام لگایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بھائی وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں (چوہدری شہباز حسین، وزیر بہبودی آبادی) اور میڈیا کے ذریعے ان پر تنقید کرتے رہے ہیں اور صدر کے اقدام کی تائید کرتے رہے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق یہ جج سماعت کرنے کے لیئے نااہل ہیں۔ |
اسی بارے میں جسٹس افتخار کا علم بغاوت اور بلند18 April, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار پر پابندیاں ختم کریں16 March, 2007 | پاکستان لاہور، اسلام آباد: مظاہرے، جھڑپیں اورگرفتاریاں16 March, 2007 | پاکستان چیف جسٹس سپریم کورٹ میں سائل18 April, 2007 | پاکستان ’اختیارات کی تقسیم ضروری ہے‘15 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||