BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 May, 2007, 22:07 GMT 03:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر کا جلسہ ، مقامی لوگ بےگھر

نئوں کوٹ قلعہ
نئوں کوٹ کے قلعے کے نزدیک جلسہ گاہ بنائی گئی ہے۔
سندھ کے صحرائی علاقے نئوں کوٹ میں صدر جنرل پرویز مشرف کے جلسے سے قبل جلسہ گاہ کے قریب رہائشی کئی خاندانوں سے مقامی انتظامیہ نے گھر خالی کرالیے ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف سنیچر کو میرپور خاص کے قصبے نئوں کوٹ میں عوامی اجتماع کو خطاب کرنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

تالپر حکمران میر کرم کے تعمیر کیے گئے نئوں کوٹ کے قلعے کے نزدیک جلسہ گاہ بنائی گئی ہے۔

دو کلومیٹر کے علاقے میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں، جن کے پیش نظر جلسے گاہ کے قریب رہائش پذیر اقلیتی بھیل کمیونیٹی کے لوگوں سے گھر خالی کروائے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں مقامی صحافی معصوم تھری نے بی بی سی کو بتایا کہ قلعے کے ساتھ جلسے گاہ کے ایک سو گز کے فاصلے پر واقع بھیل کمیونیٹی کے گاؤں میں سے ایک سو سے زائد خاندانوں سے گھر خالی کروائے گئے ہیں۔

 صحافی معصوم تھری کا کہنا تھا کہ متاثر لوگوں نے بتایا ہے کہ انہیں پندرہ دن پہلے گھر خالی کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔انہوں نے متبادل جگہ کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکام نے انہیں متبادل جگہ فراہم کرنے سے انکار کر کے گھر خالی کروالیے

انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ اب دربدری کے عالم میں گاؤں سے ایک کلومیٹر دور درگاہ راضی شاھ کے ساتھ کھلے آسمان تلے بے یار ومددگار پڑے ہوئے ہیں۔

صحافی معصوم تھری کا کہنا تھا کہ متاثر لوگوں نے بتایا ہے کہ انہیں پندرہ دن پہلے گھر خالی کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔انہوں نے متبادل جگہ کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکام نے انہیں متبادل جگہ فراہم کرنے سے انکار کر کے گھر خالی کروالیے۔

ضلع ناظم تھر ارباب انور کا کہنا ہے کہ جلسے گاہ کے نزدیک کوئی گاؤں نہیں اور علاقے سے کسی کو بے گھر نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں مویشیوں کے فارم اور کچھ لوگ تھے جنہیں کہا گیا ہے کہ وہ دو دن کے لیے ایک طرف ہوجائیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما محمد خان لنڈ کا کہنا ہے کہ عوام کی جلسے میں زبردستی شرکت یقینی بنائی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق پانچ چھ اضلاع کے سرکاری ملازمین کو زبردستی جلسے میں لایا جا رہا ہے، محکمہ تعلیم، صحت اور ریوینیو کے ان ملازمین کو پابند کیا گیا ہے کہ ان کی صبح آٹھ بجے حاضری ہے جہاں سے انہیں جلسے گاہ لایا جائے گا۔

مگر ضلع ناظم تھر ارباب انور کا کہنا ہے کہ صدر مشرف نے تھر کی ترقی کے لیے بہت اقدامات اٹھائے ہیں اس لیے لوگ خود جلسے میں بڑی تعداد میں شریک ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ استاد سکول جائیں جبکہ دیگر محکموں کے جو افسران ہیں جب ملک کا صدر آرہا ہے تو ظاہر ہے وہ اس پروگرام میں شریک ہوں گے۔

جلسے میں لوگوں کو پہنچانے کے لیے پولیس کی جانب سے گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ کی وجہ سے لوگوں کو ٹرانسپورٹ کی بھی کمی کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں
صدر کی آمد پر سکیورٹی سخت
08 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد