BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 October, 2006, 08:20 GMT 13:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر کی آمد پر سکیورٹی سخت

گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے میں ستر ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں بعض لوگوں نے یہ شکایت کی ہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی آمد کے موقع پر سخت سکیورٹی کے باعث انھیں اپنے عزیزوں کی قبروں پر فاتحہ کے لیئے جانے سے روک دیا گیا۔

پاکستان کے صدر اور وزیراعظم شوکت عزیز زلزے کو ایک سال پورے ہونے پر زلزہ زدگان کے ساتھ اظہار ہمدردی اور یکجہتی کے لئے متاثرہ علاقوں کے دورے پر آئے۔

محمد شفیع پیرزادہ نے کہا کہ میں صبح صبح اپنی مرحوم اہلیہ اور بہن کی قبروں پر فاتحہ کے لیئے جا رہا تھا کہ جنرل مشرف کی سکیورٹی کے لئے تعینات پولیس اہلکاروں نے مجھے نہ صرف قبرستان میں جانے سے روک دیا بلکہ میری توہین کی اور دھکے دیئے۔

’آج کے دن بھی ہمیں اپنوں کی قبروں پر جانے سے روک دیا‘ یہ کہتے ہوئے وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کے آنکھوں میں آنسو آگئے۔

ان کا کہنا ہے تھا پولیس اہلکاروں نے انھیں کہا کہ وہ اپنے گھروں میں ہی فاتحہ پڑھیں یا مشرف کے واپس جانے کا انتظار کریں۔

پیرزادہ کے ہمراہ ان کا بیٹا اور بیٹی بھی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا راولپنڈی سے خاص طور پر اپنی والدہ کی قبر پر فاتحہ کے لیئے آیا تھا۔

ان کا کہنا تھا پولیس اہلکاروں نے اپنے عزیزوں کی قبروں پر فاتحے کے لیئے جانے والے کئی اورلوگوں کو بھی روکا۔

بعض لوگوں نے یہ شکایت کی کہ علی الاصبح پولیس نے بغیر کوئی وجہ بتائے ان کے خیمے اکھاڑ دیئے
یہ قبرستان یونیورسٹی گراونڈ کے بلکل سامنے ہے جہاں پر جنرل پرویز مشرف نے لوگوں سے خطاب کیا۔ ان لوگوں میں زیادہ تر سکول اور کالج کے بچے اور ملازمین تھے۔

بعض لوگوں نے یہ شکایت کی کہ علی الصبح پولیس نے بغیر کوئی وجہ بتائے ان کے خیمے اکھاڑ دیئے۔

کوئی نصف درجن لوگ یونیورسٹی گراونڈ کے قریب ریڈیو کالونی میں اپنے خمیوں میں رہتے تھے۔

ایک خیمے کے مکین محمد خورشید کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے سوتے میں ان کے خیمے اکھاڑ دیئے۔ ہم نے بڑی مشکل سے یہ خیمے حاصل کئے تھے لیکن پولیس اہلکاروں نے ان کی سٹیل کے ڈنڈے توڑ ڈالے اور اب ہم پریشان ہیں کہ کہاں سے دوبارہ خیمے لائیں۔

جس مقام پر مشرف نے خطاب کیا اس کے گرد و نواح میں رہنے والے مکینوں کا کہنا ہے کہ انھیں کہا گیا کہ ہم اس وقت تک گھروں کے اندر ہی رہیں جتنی دیر جنرل مشرف جلسہ گاہ میں رہیں گے۔

سی ایم ایچ روڈ کے رہائشی خواجہ فاروق احمد کا کہنا ہے کہ ہمیں کہا گیا کہ گھروں کے اندر ہی رہیں اور سڑک پر کسی کو چلنے نہیں دیا جارہا تھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ’میں اپنی ایک عمارت کی چھت پر گیا جہاں پہلے ہی مسلح پولیس اور فوجی اہلکار موجود تھے‘۔

انھوں نے میری عمارت کی چھت پر مجھے ہی کہا کہ یہاں پر کھڑا ہونا منع ہے جبکہ یہ لوگ یہ میری اجازت کے بغیر چھت پر چڑھ گئے تھے۔

ایک اور شہری ظہیر قریشی کا کہنا تھا کہ’ان لوگوں کے آنے کے باعث ہم گھروں میں قید ہو کر رہ جاتے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بہتر یہی ہے کہ یہ اسلام آباد میں ہی تشریف رکھا کریں یہاں آنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ اس کے باعث نہ صرف عام لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ ان کے آمد پر اٹھنے والے اخراجات پیسوں کا ضیاع ہے‘۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی مظفرآباد آمد کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اور اس چھوٹے سے شہر میں سینکڑوں مسلح فوجی اور پولیس اہلکار تعینات گئے تھے۔ فوجی گاڑیاں جن میں مسلح فوجی سوار تھے سڑکوں پر گشت کرتے رہے اور بعض مسلح اہلکار عمارتوں کی چھتوں پر تعینات کئے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ اینٹی بم ڈسپوزل کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام کپڑوں میں بھی بہت سارے اسکیورٹی کے اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ اس دوران شہر مظفرآباد کی تمام سڑکیں ٹریفک کے لیئے بند کردی گئی جس کی وجہ سے لوگوں کو خاص طور پر مریضوں کو خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیئے تمام ملازمین اور اسکولوں اور کالجوں کے بچوں کی چھٹی منسوخ کردی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے جلسے میں زیادہ تعداد ملازمین اور سکولوں اور کالجوں کے بچوں کی تھی۔ ایک کالج کی لڑکی نے کہا کہ ہم پر زلزلہ کیا آیا اب جو جیسے حکم کرتا ہے وہی کرنا پڑتا ہے۔

جنرل مشرف صبح آٹھ بجے مظفرآباد پہنچے اور خطاب کے بعد وہ کوئی دس بجے کے قریب سرحدی قصبہ چکوٹھی کے لئے روانہ ہوگئے جہاں انھیں ایک سکول کا افتتا ح کرنا ہے۔

اسی بارے میں
عمر حفیظ کا کیوبا
07 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد