عمر حفیظ کا کیوبا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چلئے میں ذرا دیر کے لئے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں تاکہ آپ اس بچے کی کہانی براہ راست اسی سے سن سکیں: میرا نام عمرحفیظ ہے۔عمر پندرہ برس۔اس وقت عطرشیشہ ہائی سکول میں نویں جماعت میں پڑھ رہا ہوں۔میں اپنے سات بہن بھائیوں میں چھٹے نمبر پرہوں۔ والد کا بالا کوٹ میں سال بھر پہلے تک میڈیکل سٹور تھا، اب نہیں ہے۔ آٹھ اکتوبر کو جب میں اپنے گھر میں پڑا سو رہا تھا۔اچانک زمین ہلنے سے میری آنکھ کھل گئی۔ بس مجھے یہ معلوم ہے کہ کمرے کا ایک ستون مجھ پر گرا اور میری سیدھی ٹانگ اس کے نیچے آ گئی۔ بھائیوں نے مجھے کھینچ کر نکالا مگر میری ٹانگ ملبے میں ہی رہ گئی اور اب تک وہیں ہے۔ میری پھوپھی اور دادی خوش قسمت نہیں تھیں۔ وہ دیوار کے نیچے آ کر مرگئیں۔ بس مجھے یہ یاد ہے کہ گھر والے مجھے اٹھا کے برابر والے سکول کے میدان میں لے آئے اور مجھے لٹا دیا۔ کچھ دیر بعد بارش شروع ہوگئی اور اولے بھی پڑنے لگے۔ ہمارے اردگرد کوئی دیوار سلامت نہیں تھی کہ اس کی آڑ میں بارش سے بچ جاتے۔ اگلی صبح تک مجھ سمیت باقی گھر والے اسی میدان میں بھیگتے اور ٹھٹھرتے رہے۔ شام کے لگ بھگ ایک گاڑی آئی جس نے ہمیں ایک ٹاٹ جیسی چیز دے دی۔اس ٹاٹ کو کھمبے اور ایک درخت کے تنے سے باندھ کر مجھے اس کے نیچے لٹا دیا گیا۔
کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ پھر بھی میرے بھائی ایک دکان کے ملبے میں سے کچھ بسکٹ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ کسی کو آدھا تو کسی کو پورا بسکٹ ملا۔ تیسرے دن ایک امدادی گاڑی آئی جس میں مجھے سوار کرا کے پچاس کلومیٹر دور ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا گیا۔ وہاں میں کوئی آٹھ روز رہا۔ لیکن میرے وارڈ میں پانی آجانے کے سبب مجھے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ جہاں میری ٹانگ کے بچ جانے والے اوپری حصے کے تین آپریشن ہوئے اور میں خود کو خاصا بہتر محسوس کرنے لگا۔ ایک ماہ بعد میں یہاں عطرشیشہ منتقل کردیا گیا جہاں اس دوران میرا خاندان بالا کوٹ سے نکل کر بس گیا تھا۔ایک دن میری کٹ جانے والی ٹانگ میں کچھ درد محسوس ہوا۔ اسی عطرشیشہ ہائی سکول میں کیوبا کے ڈاکٹروں نے کیمپ لگا رکھا تھا۔انہوں نے میرا تفصیلی معائنہ کیا اور ڈاکٹروں کی ٹیم کے سربراہ نے فیصلہ کیا کہ مجھے زیادہ بہتر علاج کے لئے کیوبا بھیج دیا جائے۔ ایک ڈاکٹر نے میرے والد سے تحریری اجازت لی جس کے بعد مجھے اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔وہاں پہلے ہی سے پندرہ ایسے چھوٹے بڑے بچے جمع کیے گئے تھے جن کی ایک یا دونوں ٹانگیں نہیں تھیں۔ ہم سب کو ایک ساتھ ہی کیوبا جانا اور رہنا تھا۔ تین روز بعد ہمیں ایک طیارے میں سوار کردیا گیا۔یہ طیارہ پہلے استنبول میں اترا۔پھر پرتگال سے ہوتا ہوا بہت دیر تک اڑنے کے بعد ہوانا پہنچا۔
ہمیں ایک اچھے سے ہاسٹل میں رکھا گیا۔انہوں نے بتایا کہ دو ہفتے تک سپینش زبان کی کلاسیں ہوں گی۔ہمارے ٹیچر کے پڑھانے کا انداز ایسا تھا کہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ کب ہم نے تھوڑی بہت سپینش بولنا شروع کردی۔ہمارے ساتھ چوبیس گھنٹے سوشل ورکر رہتے تھے جو ہم سے لُڈو اور تاش کھیلتے تھے تاکہ ہم بور نہ ہوں۔ کچھ عرصے بعد مجھے ایک مصنوعی ٹانگ لگا دی گئی۔ جو محسوس کرنے میں تو خاصی ہلکی تھی لیکن میں دو چھڑیوں کے سہارے بڑی مشکل سے چل سکتا تھا۔ کبھی کبھی میں تکلیف اور کھو جانے والی اصلی ٹانگ کا تصور کرکے رو پڑتا تھا۔ لیکن سوشل ورکر اور فزیو تھراپسٹ یہ کہہ کر تسلی دیتے تھے کہ مسٹر عمر ابھی رو لو لیکن کچھ دنوں بعد ہنسنے کے لئے بھی تیار رہنا۔ میرا خیال ہے وہ درست کہتے تھے کیونکہ کچھ عرصے بعد میں نے ایک چھڑی پکڑ کر چلنا شروع کیا اور پھر یہ چھڑی بھی چھوٹ گئی۔ وہاں کی نرسیں بھی بڑی اچھی تھیں۔پاکستان میں تو آپ کا دل چاہے یا نہ چاہے آپ کو زبردستی انجکشن لگا دیا جاتا ہے اور گولیاں نہ کھاؤ تو نرس سر پر کھڑی رہتی ہے۔ لیکن کیوبا میں نرس پہلے آپ سے پوچھتی ہے۔عمر صاحب کیا آپ کا دوا کھانے کو جی چاہ رہا ہے یا نہیں۔ جب ایک ڈیڑھ مہینے بعد ہم میں سے اکثر بچوں نے بغیر چھڑی کے چلنا شروع کردیا تو پھر ہمیں سمندر کے ساحل پر لے جایا جاتا۔ کبھی میوزیم دکھایا جاتا تو کبھی سنیما جاتے۔ایک دفعہ ہمیں چے گوارا کے گھر بھی لے جایا گیا۔ چے گوارا بہت بڑا ریولوشنری تھا۔مجھے وہاں جاکر پتہ چلا کہ اسے بھی امریکہ نے مارا تھا۔میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ چے گوارا اتنا بڑا آدمی تھا۔اسے کیوں مارا گیا۔ یوسا رو اوم رو سنسیرو کیوبنز نے مجھے اس گیت کا یہ خلاصہ بتایا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ میں ایک ایسا درخت بننا چاہتا ہوں جس کی چھاؤں میں لوگ بیٹھیں۔
ایک دفعہ ہمیں بتایا گیا کہ کامریڈ سینیورا کاسترو آپ سے ملنے آ رہے ہیں۔ ہم بڑی بے چینی سے انتظار کرتے رہے۔ لیکن جب ایک بھائی صاحب آئے اور ہمیں بتایا گیا کہ یہی کاسترو صاحب ہیں تو ہمیں یقین نہیں آیا کیونکہ جس کاسترو صاحب کی تصویر ہم نے ہاسٹل اور ہوسپٹل میں دیکھی تھی یہ بھائی صاحب اس سے بالکل مختلف تھے۔ ہمارے ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ فیدل کاسترو کے چھوٹے بھائی راؤل کاسترو ہیں۔ بڑے کاسترو نے اپنی مصروفیات اور طبیعت کی خرابی کی وجہ سے چھوٹے کاسترو کو ہم سے ملنے بھیجا ہے۔ اور پھر وہ دن بھی آگیا جب ہمیں پاکستان لوٹنا تھا۔ ہمارے کیوبن دوستوں نے بہت سے کپڑے، جوتے اور تحفے دیے۔ جب وہ ہمیں رخصت کررہے تھے تو ہم بھی رو رہے تھے اور وہ بھی۔ جیسے کوئی اپنے بھائی اور اپنی زمین چھوڑ کرجاتا ہے۔ مجھے بار بار یہ سوچ کر ہنسی بھی آ رہی تھی کہ کتنی عجیب بات ہے۔ جب میں ڈھائی مہینے پہلے کیوبا آنے والے جہاز پر بیٹھا تھا تب یہ سوچ کر دل گھبرا رہا تھا کہ پتہ نہیں کیسے لوگ ہوں گے۔ وقت کیسے گزرے گا اور اب روانگی کے موقع پر دل یہ سوچ رہا تھا کہ پاکستان میں کیا ہوگا جب میں مصنوعی ٹانگ لگا کر اتروں گا۔ مگر ہم سب بچوں کو یہ اطمینان ضرور تھا کہ اگلے برس اگست میں چیک اپ کے لئے پھر آنا ہوگا اور ہمیں ہر سال اس وقت تک چیک اپ کے لئے کیوبا بلایا جاتا رہے گا جب تک ہم پچیس سال کے نہیں ہوجاتے۔ جب ہم پاکستان دوبارہ پہنچے تو مجھے کئی دن تک یہ احساس ہوتا رہا کہ یہاں ٹریفک کا اتنا شور کیوں ہے۔ یہ بے ترتیب کیوں ہے۔ صفائی اتنی زیادہ کیوں نہیں نظر آتی۔ لوگوں کو جلدی جلدی غصہ کیوں آجاتا ہے۔ لیکن تھوڑے ہی دنوں بعد سب پہلے کی طرح ٹھیک لگنے لگا۔اب اس طرح کے خیالات کبھی کبھی آتے ہیں۔ جب مجھے ہوانا یاد آتا ہے تو میں کبھی کبھی انٹرنیٹ پر بیٹھ جاتا ہوں۔ میرے ہاسٹل میں کھانا پکانے والے دوست جمی نودریز اور ڈاکٹر الویرو سے مہینے میں میری ایک آدھ دفعہ انٹرنیٹ پر گپ شپ ہوجاتی ہے۔ ویسے تو اب میں مصنوعی ٹانگ کا عادی ہوگیا ہوں اور مجھے یہ احساس بہت کم ہوتا ہے کہ میری اصل ٹانگ بالاکوٹ میں اب بھی ملبے کے نیچے دبی پڑی ہوگی۔ لیکن میری فوری پریشانی یہ ہے کہ جب میرا ایبٹ آباد میں یا پشاور میں علاج ہورہا تھا تو ایمرجنسی کی وجہ سے ایک ہی سرنج کئی لوگوں کو لگا دی جاتی تھی۔ شاید اس لئے مجھے ہیپی ٹائیٹس بی ہوگیا۔ کیوبا والوں نے کہا کہ اس کے علاج کے لئے لمبا عرصہ چاہییے اس لئے پاکستان جا کر علاج کروانا۔ میری بڑی بہن جو شادی شدہ ہے اسے ہیپی ٹائیٹس سی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ سی بی سے زیادہ خطرناک ہے۔ کوئی کہتا ہے دونوں خطرناک ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ دونوں کا علاج ہوسکتا ہے مگر بہت مہنگا علاج ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کونسی بات صحیح اور کونسی غلط ہے۔ مگر یہ سوچ سوچ کر پڑھائی میں دل نہیں لگ رہا کہ آگے کیا ہوگا۔ ماموں اور ابو کہتے ہیں کہ رمضان کے بعد تم دونوں کو کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے۔ پتہ نہیں کیا ہوگا۔ |
اسی بارے میں سروے ٹیموں کے خلاف عوامی غصہ07 September, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین پر مزید جھٹکے 04 September, 2006 | پاکستان زلزلے کے بعد: کیا ہوا کیا نہیں ہوا؟ 02 October, 2006 | پاکستان بالاکوٹ میں پانی کی قلت برقرار02 October, 2006 | پاکستان پرانے خیمے نئی سردی، کیا مقابلہ ممکن ہے؟04 October, 2006 | پاکستان زندگی کی قیمت اور مجبوری04 October, 2006 | پاکستان ’اٹھارہ لاکھ سردیاں خیموں میں گزاریں گے‘04 October, 2006 | پاکستان تعمیِر نو میں تاخیر، ملازمتوں میں کمی 05 October, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||