سرحد کے اخبارات میں زلزلے پر ’زلزلہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے زلزلے سے بری طرح متاثرہ ہزارہ ڈویژن کے صدر مقام ایبٹ آباد سے شائع ہونے والے ایک روزنامے نے آٹھ اکتوبر کو ایک خصوصی ضمیمہ شائع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کی خصوصی بات اس اخبار کا اس موقع پر ’متاثرین کے نام پر کس کس نے اپنی جیب بھری’ یہ معلومات عام کرنا ہے۔ ایک دوسرے اخبار کی خبر تھی ’افسروں کی بیگمات نے امدادی سامان فروخت کرنا شروع کر دیا‘۔ اس خبر میں نہ اس کا نام تھا جس نے یہ الزام لگایا ہے اور نہ کسی بیگم کا جس نے یہ غیر قانونی فعل کیا ہو۔ آخر اس اخبار نے ان انکشافات کے لیئے ایک برس کا انتظار کیوں کیا، کیا اس قسم کی خبر کے شائع ہونے سے کسی افسر کی بیگم کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی اور مجموعی طور پر ہزارہ کے ذرائع ابلاغ کا آخر کردار رہا کیا ہے۔ ایبٹ آباد سے اس وقت دس کے قریب روزنامے اور کئی ہفت روزہ اور ماہنامے بھی شائع ہوتے ہیں۔ یہ تمام اردو زبان میں محض چار صفحات پر مشتمل ہوتے ہیں اور ہزارہ ڈویژن کے علاوہ دور دراز بٹگرام اور کوہستان تک پہنچتے ہیں۔ ان کی قیمت تین روپے ہے۔ اس کے علاوہ ایبٹ آباد سے دو ایف ایم سٹیشن بھی چل رہے ہیں۔ ایبٹ آباد کے روزنامہ ’سرحد نیوز’ کے مدیر محمد عامر شہزاد کا کہنا ہے کہ ان اخبارات نے امدادی کارروائیوں کے دوران بہت اہم کردار ادا کیا۔ ’زلزلہ متاثرین کے تمام مسائل ہر سطح تک ہم نے پہنچائے‘۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بہتری کی گنجائش ضرور ہے۔ محمد عامر نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اخبارات میں اب زلزلے سے متعلق خبروں کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جو آغاز میں تھی۔ ’ایک سال میں دوسری خبریں بھی سامنے آتی ہیں۔ انہیں بھی توجہ دی جاتی ہے‘۔ قومی اخبار دی نیوز کے ایبٹ آباد میں نمائندے کوثر نقوی کا کہنا تھا کہ ابتدائی دنوں میں مقامی، قومی اور بین القوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کی وجہ سے دنیا حرکت میں آئی لیکن بعد میں وہ کردار ادا نہیں کیا جا سکا جس کی اشد ضرورت تھی۔
انہوں نے اس کی دو وجوہات بتائیں۔ ایک تو صحافیوں کی ایسے واقعات میں رپورٹنگ میں ناتجربہ کاری اور دوسری مقامی اخبارات کی صلاحیت میں کمی۔ محمد عامر نے بتایا کہ مقامی اخبارات پٹواریوں اور ناظمین کے خلاف امدادی رقوم میں بدعنوانی کے کیس سامنے لائے اور ان پر کارروائی بھی ہوئی لیکن بعد میں یہ لوگ رہا کر دیئے گئے۔ کوثر نقوی کا موقف تھا کہ اردو اخبارات میں ’انکشافات’ کی سنسنی خیز زبان کا استعمال بدقسمتی ہے لیکن یہ سرکولیشن بڑھانے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ اکثر اخبارات کا مقصد اپنا فائدہ پہلے اور متاثرین کا بعد میں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی چیکس میں خورد برد تو مقامی میڈیا سامنے لایا لیکن سروے میں جو گھپلے کی کوشش ہو رہی ہے اس پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ ایک مقامی ایف ایم سٹیشن کے رپوٹر محمد تصدق اعوان کا کہنا تھا کہ مقامی ریڈیو نے بھی بڑی ذمہ داری کے ساتھ مختلف اوقات پر بدعنوانی کی خبریں نشر کیں جن پر کارروائی بھی ہوئی اور لوگ گرفتار بھی ہوئے۔ کوثر نقوی کے خیال میں مقامی اخبارات کو چاہیئے کہ وہ ایک صفحہ مستقل بنیاد پر زلزلے سے متعلق خبروں کے لیئے مختص کریں جبکہ بین القوامی این جی اوز تک بہتر پہنچ کے لیئے ایک انگریزی اخبار کی بھی ضرورت ہے۔ محمد عامر کا حکومت سے مطالبہ تھا کہ وہ اپنی کارکردگی کو زیادہ کُھل کر میڈیا کے سامنے پیش کرے تاکہ اخبارات عوام تک صحیع صورتحال پہنچا سکیں۔ تصدق اعوان کا بھی پاکستان فوج سے مطالبہ تھا کہ وہ میڈیا کو معلومات موقعہ پر فراہم کرے نہ کہ انہیں اس کے لیئے اسلام آباد کی راہ دکھائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ذرائع ابلاغ کی مجموعی کارکردگی زلزلہ متاثرین کی حق میں کافی بہتر رہی۔ تاہم اس نکتہ پر بھی کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی کہ اسے مزید بنایا جا سکتا تھا۔ |
اسی بارے میں امداد: زلزلہ متاثرین کا اظہارِ مایوسی21 September, 2006 | پاکستان تعمیرِ نو کے لیئے تین برس: مشرف 05 October, 2006 | پاکستان ’اٹھارہ لاکھ خیموں میں رہیں گے‘04 October, 2006 | پاکستان زندگی کی قیمت اور مجبوری04 October, 2006 | پاکستان زلزلہ زدہ علاقوں میں ہیضہ، 9 ہلاک07 August, 2006 | پاکستان بارشیں رحمت یا زحمت!28 July, 2006 | پاکستان بٹگرام: زلزلہ امداد پرتنازعہ، 3 ہلاک17 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||