’اٹھارہ لاکھ خیموں میں رہیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی امدادی تنظیم ’اوکسفیم‘ کا کہنا ہے کہ تعمیرِ نو کے پیچیدہ اور مشکل عمل کی وجہ سے گزشتہ برس کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً اٹھارہ لاکھ افراد اس برس بھی موسمِ سرما عارضی پناگاہوں اور خیموں میں گزارنے پر مجبور ہوں گے۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اوکسفیم کی نمائندہ کیٹ سمپسنز کا کہنا تھا تاحال صرف بیس فیصد متاثرین نے اپنے گھر دوبارہ تعمیر کیئے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیرِ نو کا عمل مکمل ہونےمیں ابھی چار سے پانچ برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی بہت سے مسائل تعمیرِ نو کی راہ میں حائل ہیں جن میں متاثرین کے بارے میں مکمل اور صحیح معلومات کی عدم دستیابی، دشوار گزار پہاڑی راستے، تباہ حال انتظامی ڈھانچہ اور شدید موسمی حالات شامل ہیں۔ تنظیم کی ترجمان فرحانہ فاروقی کا کہنا تھا کہ زلزلہ متاثرین اور خصوصاً خواتین کی ایک بڑی تعداد شناختی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے تاحال امداد سے محروم ہے اور ان تک امداد کی فراہمی ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرا کی جانب سے بھی تعمیرِ نو سے متعلق پالیسی سازی کے عمل میں تاخیر کی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب جب کہ ایرا نے متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو کی پالیسی میں تبدیلی کی منظٌوری دی ہے تو اتنا وقت ہی میسر نہیں کہ شدید سردی کے آغاز سے قبل تمام متاثرہ افراد اپنے گھر تعمیر کر سکیں۔ اوکسفیم کی نمائندہ کیٹ سمپسنز نے اس پریس کانفرنس میں ان افراد کا مسئلہ بھی اٹھایا جو گزشتہ برس کے زلزلے میں بے زمین ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے تاحال ان بے زمین افراد کے سلسلے میں کسی لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایسے افراد کی صحیح تعداد معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اب یہی سمجھا جار ہا ہے کہ دیہاتوں سے آنے والے وہ لوگ جو تاحال کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں، یہی دراصل بے زمین افراد ہیں۔ کیٹ سمپسنز کے مطابق اس وقت کشمیر میں ایسے افراد کی تعداد پینتیس ہزار جبکہ صوبہ سرحد میں پانچ ہزار سے زائد ہے۔ انہوں نے تعمیرِ نو اور بحالی کے سلسلے میں جہاں حکومتِ آزاد کشمیر کی تعریف کی وہیں سرحد حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوہ سرحد کی حکومت نے نہ صرف زلزلے کے فوری بعد امدادی کارروائیوں میں تیزی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ وہ اب بھی کیمپوں میں رہائش پذیر متاثرین کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔ اوکسفیم کی ترجمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں میں کیمپوں، سکولوں اور ہنگامی طور پر قائم شدہ ڈسپنسریوں کے حوالے سے کچھ شدت پسند تنظیموں نے اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کے لیئے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا اور اوکسفیم تاحال ان خدشات کا شکار ہے کہ وہ مقامات جہاں صرف انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی ہونی چاہیئے وہاں یہ تنظیمیں اپنےعسکری اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیئے کوشاں رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں خیموں میں سردی کا عذاب30 November, 2005 | پاکستان خیمہ بستیوں کے بچے سردی کا شکار30 November, 2005 | پاکستان ’اب ایک اور سانحے کا خدشہ‘25 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||