تعمیر کے کام کی سُست رفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے کو ایک سال ہونے کو ہے لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزے سے متاثرہ دیہی علاقوں میں گھروں کی تعمیر کی رفتار خاصی سست ہے جس کا ذمہ دار لوگ زلزے سے متعلق پاکستان کے تعمیر نو اور بحالی کے ادارے کو ٹھہراتے ہیں ۔ حکام بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بیشتر متاثرین اس سال سردیوں سے پہلے اپنے گھر تعمیر نہیں کر پائیں گے اور بیشتر متاثرین کو اس سال سردیاں بھی ان کو خیموں یا عارضی رہائش گاہوں میں گزارنا پڑیں گی۔ وادی جہلم کے گاؤں کھٹائی کے رہائشی مصدق اقبال کے گھر میں ترکھان اور مستری کام میں مصروف ہیں ۔ مصدق اقبال کہتے ہیں کہ ’مجھے امید ہے کہ یہ ایک ماہ میں مکمل ہوجائے گا اور ہم سردیوں سے پہلے اپنے نئے گھر میں منتقل ہوجائیں گے۔‘
مصدق اقبال کو پچہتر ہزار روپے کی پہلی قسط تو مل چکی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ’ حکومت پاکستان کی طرف سے ادا کی جانے والی امداد گھر کی تعمیر کے لئے ناکافی ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’اب تک گھر کی تعمیر پر تین لاکھ روپے اخراجات آچکے ہیں اور ایک لاکھ روپے مزید خرچ ہوں گے۔‘ مصدق اقبال کا کہنا ہے کہ ’میرے پاس اتنے پیسے ہیں جو مجھے ضرورت ہیں ۔‘ بعض لوگوں نے گھروں کی تعمیر کے لیئے حکومتی امداد نہ ملنے کے باعث گھروں کی تعمیر کا کام سرے سےشروع نہیں کیا ہے ۔ اس گاؤں میں دیگر بہت سارے لوگوں کی طرح عاصم بھی اپنے خاندان والوں کے ساتھ اس سال کی سردیاں بھی عارضی رہائش گاہ میں گزارنے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس پیسے ہی نہیں ہیں کہ میں اپنے طور پر گھر بناسکوں اور میں پچھلے پانچ ماہ سے دفتر جاتا ہوں اور وہاں ہمیں ہر بار یہی کہا جاتا ہے کہ امداد ابھی تک اس لیئے نہیں ملی کیونکہ گھروں کا سروے کرنے والی ٹیم نے رجسڑیشن فارم پر میری ولدیت اور شناختی کارڈ کا نبمر غلط لکھا ہے۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ ’ ہم بہت پریشان ہیں اور یہاں برف پڑتی ہے اور بہت سردی ہوتی ہے ہمیں یہاں نہ گیس کی سہولت ہے نہ لکڑی کی اور نہ ہی کوئی اور سہولت ہے ہمارے بچے سردی سے مرجائیں گے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ ہمارا آج بھی وہی حال ہے جو زلزلے کے دوران تھا۔‘ حکومت پاکستان کی طرف سے متاثرین کو گھروں کی تعمیر کے لیئے تین اقسط میں ڈیڑھ لاکھ روپے دیے جاتے ہیں اور ان لوگوں کو یکمشت پچاس روپے دئے جاتے ہیں جن کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور وہ مرمت کے قابل ہیں۔ جن کے گھر تباہ ہوئے ہیں ان کو پچہتر ہزار روپے کی پہلی قسط دی جارہی ہے۔ امتیاز کشمیری اپنے زیر تعمیر گھر کے اوپر پھتروں کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میرے پاس جو کچھ پیسے تھے وہ میں نے بنیاد اور ڈھائی فٹ دیوار تعمیر کرنے پر خرچ کردی اور پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مجھے کام روکنا پڑا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’ایک سال گزر گیا لیکن مجھے ابھی تک حکومت کی طرف سے گھر کی تعمیر کے لیئے امداد کی پہلی قسط بھی نہیں ملی اور یہ کہ میں امداد ملنے کی صورت میں ہی دوبارہ کام شروع کرسکتا ہوں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر امداد بروقت نہ ملی تواس سال سردیوں کا موسم بھی عارضی رہائش گاہ میں ہی گزارنا پڑے گا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’میں کئی بار مظفرآباد میں قائم زلزلے سے متعلق تعمیر نو اور بحالی کے دفتر میں بھی گیا لیکن ابھی تک ہمیں پیسے نہیں ملے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ لگ بھگ چار ہزار آبادی والے اس گاؤں میں بہت تھوڑے لوگوں نے گھروں کی از سر نو تعمیر شروع کر رکھی ہے اور ان میں بھی بعض کو یہ فکر لاحق ہے کہ ترکھانوں اور مستریوں کی عدم دستیابی کے باعث وہ شاید سردیوں سے پہلے گھر تعمیر نہ کر پائیں ۔
محمد سلیم کیانی نے دو کمرے کے گھر تعمیر کرنے کے لیئے کھدائی کر رکھی ہے لیکن وہ ابھی باضابطہ طور پر تعمیر کا کام شروع نہیں کرسکے ہیں۔ کشمیر کے اس علاقے میں پہلے ہی کاریگروں کی بہت قلت تھی اور زلزلے کے بعد ان کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس گاؤں میں بیشتر لوگوں نے معاوضہ ملنے کے باجود ابھی تک تعمیر کا کام شروع نہیں کیا ہے وہ اس کی وجہ ایک تو یہ بتا رہے ہیں کہ تعمیراتی اخراجات میں اضافے کے باعث حکومت کی طرف سے فراہم کیے جانے والے معاوضے میں زلزے کی شدت برادشت کرنے والے مطلوبہ معیار اور ڈیزائن کے کنکریٹ گھر بنانا ممکن نہیں اور دوسرا اس کام کے لیئے جتنے کاریگر اور مستری مجوعی طور پر درکار ہیں ان کی دستابی بھی ایک مسلہ بنی ہے ۔ کچھ نے یہ بھی بتایا کہ وہ پتھروں کے گھر بنانے سے خوفزدہ ہیں اور وہ لکڑی کے گھر بنانا چاہتے ہیں ۔ برابر والے گاؤں گجر بانڈی میں بھی صورت حال اس سے کوئی مختلف نہیں ہے اور وہاں بھی زیادہ تر لوگوں نے ابھی گھروں کی تعمیر شروع نہیں کی ہے ۔ اس گاؤں میں بعض کا کہنا ہے کہ تعمیراتی لاگت میں اضافے کے باعث گھر بنانے کے لیئے حکومت کی امداد ناکافی ہے اور وہ گھر تعمیر نہیں کررہے ہیں ۔ گجر بانڈی کے ایک رہائشی راجہ ناصر کا کہنا ہے کہ’ زلزے کے باعث سڑکیں خراب ہونے کے وجہ سے تعمیراتی سامان کے نقل و حمل کے اخراجات میں بہت اضافہ ہوا ہے اور اس کے علاوہ عام مزدور اور کاریگروں کی اجرت بھی بڑھ گئی ہے ۔‘ ان کا کہنا ہے کہ’ زلزے سے پہلے مزدور ڈیڑھ سو روپے دہاڑی لیتے تھے اور اب وہ تین سو روپے طلب کرتے ہیں۔ اسی طرح کاریگر پہلے تین سو روپے لیتے تھے اور زلزے کے بعد وہ پانچ سو روپے طلب کرتے ہیں اور وہ بھی دستیاب نہیں ہیں۔‘ انہوں نے پاکستان کے تعمیر نو اور بحالی کے ادارے پر سخت غم وہ غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کام میں رکاوٹ ڈالنے والا ادارہ ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں لکڑی کے گھر بنانے کی اجازت دی جائے کیونکہ اس پر نسبتاً کم لاگت آئے گی اور یہ پھتر کے گھروں کے نسبت محفوظ ہیں ۔ اس گاؤں میں بہت سارے لوگ راجہ ناصر کی بات سے اتفاق رکھتے ہیں اور وہ پتھروں کے گھر بنانے کے لیئے بالکل بھی تیار نہیں ہیں ۔ اس گاؤں کے اور ایک رہائشی کہتے ہیں کہ ’یہاں پانی ہی نہیں ہے ہم کس طرخ سے کنکریٹ کے گھر بنا سکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر پانی دستیاب ہو بھی تب بھی ہم پھتروں کے گھر بالکل بھی نہیں بنائیں گے ۔‘ ان کا کہنا ہے کہ’ہمارے بچے، والدین عزیز اقارب ہمارے آنکھوں کے سامنے ان ہی پھتروں کے نیچے دب کر ہلاک ہوگئے اور پھر ہم سے کہا جاتا ہے کہ ہم پھتروں کے گھر بنائیں جو ہم نہیں بنائیں گے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ’ہمیں یکمشت امداد دی جائے اور حکومت ہمیں لکڑی فراہم کرے تا کہ ہم اپنی مرضی سے لکڑی کے گھر بناسکیں اور ہم اور ہمارے بچے اسکون سے رہ سکیں ۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’ تعمیر نو اور بحالی کے ادارے کو ہمارے مشکلات کا کوئی احساس نہیں ہے ایک سال گزرنے کے باجود بھی ہم اپنے گھروں کی تعمیر نہیں کر سکیں ہیں۔‘ ان دیہاتوں میں لوگ کنکریٹ کے گھر بنانا چاہتے ہیں یا نہیں لیکن یہ ایسے دیہات ہیں جہاں سڑک کے ذریعے رسائی ہے اور یہاں تعمیراتی سامان پہنچانا نسبتاً آسان ہے ۔ لیکن بہت سارے ایسے بھی دیہات ہیں جہاں سڑک کے ذریعے کوئی رسائی نہیں ہے اور ان علاقوں میں تعمیراتی سامان پہنچانا انتہائی مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔ کوئی سات ہزار فٹ کی بلنذی پر واقع گاؤں سہنہ دامن کےحسن احمد حسان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے گاؤں میں کوئی سڑک نہیں جاتی ہے اور نہ ہی گدھوں یا کھچروں کا انتظام ہے اور ایسی صورت میں ہم سیمنٹ، ریت اور بجری وہاں کیسے پہنچائیں؟‘ انہوں نے کہا کہ ’ایک تو تعمیراتی سامان مہنگا ہے اور دوسرا لوگ تعمیراتی سامان اپنے کندھوں پر اٹھا کر نہیں لے جاسکتے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’ اگر لوگ کسی طرح سے سامان گاؤں میں پہنچائیں بھی لیکن ایسی صورت حال میں حکومت کی طرف سے دی جانے والی امداد میں حکومت کے ڈیزائن کے مطابق کنکریٹ کے گھر نہیں بنائے جاسکتے ہیں کیون کہ دو کمروں کے گھر تعمیر کرنے میں چھ سے سات لاکھ روپے اخراجات آئیں گے۔‘ ان کا کہنا ہے’ حکومت ہمیں لکڑی کے گھر تعمیر کرنے کی اجازت دے تاکہ ہم گھر بناسکیں اور آرام سے زندگی گزار سکیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ان کے گاؤں میں کچھ لوگوں نے اپنی مرضی سے لکڑی کے گھر تعمیر کر لیئے ہیں اور کچھ کر رہے ہیں اور بعض لوگ شش و پنج میں ہیں کہ وہ کیا کریں کیونکہ’ ہمیں معلوم ہے کہ اگر اپنی مرضی سے گھر بنائیں گے تو حکومت ہمیں دوسری دو اقساط نہیں دے گی۔‘ حکام کا کہنا ہے کہ جن کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے ان میں بہت سارے لوگ مرمت میں تو مصروف ہیں البتہ کشمیر کے اس علاقے کے تعمیر نو اور بحالی کے ادارے کے سربراہ سردار محمد صدیق خان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جن کے گھر تباہ ہوئے ہیں ان میں پچیس سے تیس فیصد لوگ ہی شاید اس سال سردیوں سے پہلے اپنے گھر تعمیر کرپائیں گے ۔ ان کا کہنا ہے کہ تعمیراتی اخراجات میں اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ لوگوں کو لکڑی کے گھر تعمیر کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ لیکن لوگوں کو اس فیصلے کے بارے میں معلوم ہی نہیں اور بہت سارے لوگ یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ حکام کو یہ فیصلہ کرنے میں ایک سال کیوں لگا اور یہ کہ اگر یہ فیصلہ بروقت کیا گیا ہوتا تو بہت زیادہ لوگوں نے اب تک نئے گھر تعمیر کر لیئے ہوتے ۔ حکام کہتے ہیں کہ’تعمیر نو میں تین سے پانچ سال کا عرصہ لگے گا لیکن جس کچھوے کی رفتار سے تعمیر نو ہورہی ہے اس میں کافی زیادہ عرصہ درکار ہوگا۔‘ |
اسی بارے میں زلزلے کے بعد: کیا ہوا کیا نہیں ہوا؟ 02 October, 2006 | پاکستان اقوام متحدہ کی سرگرمیوں میں کمی07 July, 2006 | پاکستان امداد: زلزلہ متاثرین کا اظہارِ مایوسی21 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||