اقوام متحدہ کی سرگرمیوں میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ادارہ صحت نے ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے مختلف امدادی ادارے پاکستان کے زلزلہ زدہ علاقوں میں جاری بحالی اور تعمیر نو کی سرگرمیوں میں کمی کر رہے ہیں۔ ان اداروں کے زیر انتظام چلنے والے مختلف پراجیکٹس کا انتظام اب حکومتی اداروں کے سپرد کیا جارہا ہے۔ آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والے عالمی امدادی اداروں نے زلزلہ زدہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر بحالی اور تعمیر نو کے کاموں میں حصہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے بڑے پیمانے پر فضائی امداد فراہم کی اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سے تیس ہزار ٹن امدادی اشیاء متاثرہ علاقوں میں پہنچائی گئیں۔ اس کے علاوہ امدادی اداروں کے ہزاروں کارکنوں کو زلزلہ زدہ اضلاع تک پنچانے کے لیئے ہیلی کاپٹروں نے اہم کردار ادا کیا۔ اکتوبر 2005 میں شروع ہونے والی یہ ہیلی کاپٹر سروس اکتیس مئی کو ختم کردی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہاجرین کے لیئے اقوام متحدہ کا ادارہ یو این ایچ سی آر نے اب تک متاثرہ علاقوں میں ایک سو ستر سے زائد کیمپ بنائے ہیں جس میں دو لاکھ کے قریب بے گھر لوگ رہ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے اب تک متاثرہ اضلاع میں پینتیس سے زائد صحت کے بنیادی مراکز قائم کیئے ہیں۔ ان مراکز میں زیادہ تر کا انتظام اب مقامی محکمہ سپرد کیا جارہا ہے۔ تاہم دوسری طرف اسلام آباد میں عالمی ادارہ صحت کے ترجمان شہزاد عالم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا ادارہ زلزلہ زدہ علاقوں سے نہیں جارہا ہے بلکہ ان کے کام کے طریقہ کار میں تھوڑی تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو سرگرمیاں عالمی ادارہ صحت نے متاثرہ علاقوں میں شروع کی تھیں اب ان کا انتظام صحت کے مقامی حکام نے سنبھال رکھا ہے جبکہ یہ ایک ریلیف آپریشن تھا جس کی ایک حد اور وقت مقرر ہوتا ہے۔ ’ہم نے اس سلسلے میں کافی تعداد میں لوگوں کو تربیت دی ہے جو اب ہمارے بغیر بھی کام سنبھال سکتے ہیں۔‘ شہزاد عالم نے اس بات کو بار بار دہرایا کہ عالمی ادارہ صحت اب بھی زلزلہ زدہ علاقوں میں موجود ہے اور اس کے جتنے بھی پراجیکٹس تھے وہ بغیر کسی رکاوٹ کے چل رہے ہیں۔ آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے کے بعد جس طرح عالمی برادری نے کھل کر پاکستان کی مدد کی ہے وہاں ان غیر سرکاری امدادی ایجنسیوں نے بحالی اور تعمیر نو کی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیا۔ |
اسی بارے میں زلزلہ متاثرین کے لیئے امداد کا معاہدہ01 July, 2006 | پاکستان تودہ گرنے سے بارہ ہلاک، دس لاپتہ03 July, 2006 | پاکستان زلزلہ زدہ علاقوں کے لیے صوبائی منصوبہ07 June, 2006 | پاکستان کشمیری خاندانوں کی دوبارہ منتقلی02 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||