کشمیری خاندانوں کی دوبارہ منتقلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیئے وہ زلزہ زدہ سترہ دیہات خالی کرا رہے ہیں کیوں کہ یہ علاقے رہائشی مقاصد کے استعمال کے قابل نہیں رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ بارشوں کے موسم سے پہلے زلزلے سے متاثرہ تقریباً دو ہزار خاندانوں کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں۔ یہ خاندان سترہ دیہات میں رہ رہے ہیں جن میں سے پندرہ وادی جہلم اور دو وادی نیلم میں ہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیف سیکریٹری کاشف مرتضٰی نے بی بی سی کو بتایا کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے زمین کئی جگہ سے نرم ہو گئی ہےجس کی وجہ سے برسات کے موسم میں لینڈ سلائیڈز آ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دیہاتوں کے ماسیوں کو جولائی سے پہلے ہی دوسری جگہ منتقل کرنا ضروری ہے کیونکہ اس کے بعد برسات کی وجہ سے کام میں دیر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دو ہزار خاندانوں کے علاوہ سات، آٹھ ہزار خاندان بھی خیموں میں رہ رہے ہیں جن کو کسی دوسری مناسب جگہ منتقل کرنے کے منصوبے بھی ہیں۔ کاشف مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ ان بے زمین لوگوں کو متبادل جگہ پر آباد کاری کے لیئے حکومت مفت زمین فراہم کرے گی اور یہ کہ حکومت نے ان کی آباد کاری کے لیئے زمین کی نشاندھی بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری زمین کم پڑگئی تو اس صورت میں حکومت مزید زمین خریدی گی ۔ چیف سیکریڑی کا کہنا تھا کہ ان خاندانوں کو اگلی سردیوں سے پہلے آباد کرنے کی کوشش کی جائے گا۔ | اسی بارے میں ’حکومت زبردستی نکال رہی ہے‘01 April, 2006 | پاکستان ابتدائی امداد کے 30 ہزارچیک باؤنس22 April, 2006 | پاکستان پاکستان اوراقوام متحدہ کے اختلافات22 April, 2006 | پاکستان مزید امداد کی ضرورت ہے: آکسفیم08 April, 2006 | پاکستان زلزلہ: متاثرہ اضلاع میں تعمیر نو شروع07 April, 2006 | پاکستان بٹہ گرام میں زلزلے سے انیس زخمی04 April, 2006 | پاکستان بالا کوٹ اب کہیں اور بسے گا29 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||