BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 May, 2006, 04:18 GMT 09:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیری خاندانوں کی دوبارہ منتقلی

متاثرہ خاندان: فائل فوٹو
برسات کے موسم میں لینڈ سلائیڈز کا ممکنہ خطرہ ہے
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیئے وہ زلزہ زدہ سترہ دیہات خالی کرا رہے ہیں کیوں کہ یہ علاقے رہائشی مقاصد کے استعمال کے قابل نہیں رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ بارشوں کے موسم سے پہلے زلزلے سے متاثرہ تقریباً دو ہزار خاندانوں کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں۔

یہ خاندان سترہ دیہات میں رہ رہے ہیں جن میں سے پندرہ وادی جہلم اور دو وادی نیلم میں ہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیف سیکریٹری کاشف مرتضٰی نے بی بی سی کو بتایا کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے زمین کئی جگہ سے نرم ہو گئی ہےجس کی وجہ سے برسات کے موسم میں لینڈ سلائیڈز آ سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان دیہاتوں کے ماسیوں کو جولائی سے پہلے ہی دوسری جگہ منتقل کرنا ضروری ہے کیونکہ اس کے بعد برسات کی وجہ سے کام میں دیر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دو ہزار خاندانوں کے علاوہ سات، آٹھ ہزار خاندان بھی خیموں میں رہ رہے ہیں جن کو کسی دوسری مناسب جگہ منتقل کرنے کے منصوبے بھی ہیں۔

کاشف مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ ان بے زمین لوگوں کو متبادل جگہ پر آباد کاری کے لیئے حکومت مفت زمین فراہم کرے گی اور یہ کہ حکومت نے ان کی آباد کاری کے لیئے زمین کی نشاندھی بھی کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری زمین کم پڑگئی تو اس صورت میں حکومت مزید زمین خریدی گی ۔

چیف سیکریڑی کا کہنا تھا کہ ان خاندانوں کو اگلی سردیوں سے پہلے آباد کرنے کی کوشش کی جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد