زلزلے کے بعد: کیا ہوا کیا نہیں ہوا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گذشتہ سال آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے نے اسلام آباد کی واحد منہدم ہونے والی رہائشی عمارت مارگلہ ٹاورز کے ملبے نے سرکاری اداروں کی ریلیف اینڈ ریسکیو کی صلاحیتوں کو پوری طرح بے نقاب کردیا اور وہاں پر دبی ہوئی لاشوں کو بین الاقوامی ریسکیو ٹیموں کی مدد کے بغیر نہ نکالا جا سکا۔ اس کے بعد صدر پرویز مشرف نے یہ عزم ظاہر کیا کہ آئندہ پاکستان قدرتی آفات کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا اور بچاؤ اور امدادی سرگرمیوں کا ایک جدید اور مربوط نظام جلد از جلد قائم کیا جائے گا اور تمام متعلقہ اداروں میں قریبی رابطے کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔صدر مشرف نے یہ بات ایک مرتبہ نہیں بلکہ پہلی ڈونرز کانفرنس سے لے کر کئی پریس کانفرنسوں تک میں دہرائی ہے۔ گذشتہ برس نومبر کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد کے ایک بڑے سے ہال میں بہت سارے نوجوان ریسکیو اور ریلیف کے مظہر نارنجی رنگ کی واسکٹیں پہنا کر جمع کیئے گئے۔اس اجتماع میں صدر پرویز مشرف سے نیشنل والنٹئر موومنٹ کی بنیاد رکھوائی گئی۔ صدر مملکت کو این وی ایم کا سرپرستِ اعلی اور وزیرِ اعظم کو موومنٹ کی نیشنل کونسل کا سربراہ نامزد کیا گیا۔اس نیشنل کونسل میں زلزلے کے بعد قائم کردہ تعمیرِ نو کے ادارے ایرا کے علاوہ سات متعلقہ وفاقی وزارتوں کو بھی نمائندگی دی گئی۔ان وزارتوں کے چالیس کل وقتی افسران ڈیپوٹیشن پر نیشنل والنٹیر موومنٹ کے لیئے کام کررہے ہیں۔
تنظیم کے بانی سربراہ وفاقی وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی سے میرا رابطہ نہیں ہو پایا تاہم انکے ہم نام وائس چیرمین محمد علی سیف سے اسلام آباد میں ملاقات ہوگئی۔یہ وہی دورکنی ٹیم ہے جو ایک زمانے میں جماعتِ اسلامی کی نوجوان تنظیم پاسبان میں آگے آگے تھی۔ میں نے محمد علی سیف سے پوچھا کہ اب تک یہ رضاکار موومنٹ جس کے قیام کی ضرورت محکمہ شہری دفاع اور بوائے سکاؤٹس، گرلز گائیڈ موومنٹ کے ہوتے ہوئے محسوس کی گئی ریلیف اینڈ ریسکیو کا کیا اور کتنا کام کرچکی ہے۔ محمد علی سیف نے یہ بھی بتایا کہ انکی تنظیم نے انڈونیشیا کے حالیہ سمندری طوفان اور لبنان کی جنگ کے دوران امدادی رضاکار بھجوانے کی بھی پیشکش کی تھی لیکن حکومتِ پاکستان اور دیگر دونوں ممالک کی حکومتوں نے یہ پیش کش شکریے کے ساتھ لوٹا دی۔ محمد علی سیف نے بتایا کہ دس ماہ کے دوران نیشنل والنٹئر موومنٹ کو قریباً آٹھ کروڑ روپے مل چکے ہیں۔اوپر کا انتظامی ڈھانچہ بھی بن چکا ہے۔لیکن تنظیم کے رضا کاری سے متعلق ڈھانچے کی مرکز سے لے کر تحصیل لیول تک تشکیل ابھی باقی ہے مگر رضاکارانہ ڈھانچے کی عدم موجودگی کے باوجود بقول محمد علی سیف کوئی ساڑھے چھ ہزار والنٹئر رجسٹر ہوچکے ہیں جن میں ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں۔ نیشنل والنٹئیر موومنٹ اپنے رضاکاروں کو ریلیف اینڈ ریسکیو کی تربیت دینا چاہتی ہے لیکن ابھی تک تربیتی پروگرام مربوط طور پر شروع نہیں ہوسکا ہے۔تاہم اقوامِ متحدہ کے والنٹئر پروگرام کا ایک کنسلٹنٹ عنقریب تین ماہ کے لیئے آنے والا ہے جو رضاکاروں کا ماسٹر ٹریننگ پروگرام وضع کرے گا۔
محمد علی سیف سے گفتگو کے دوران مجھے بار بار زلزلہ زدہ علاقوں میں روزِ اول سے اب تک متحرک وہ رضاکار تنظیمیں یاد آتی رہیں جو بہت زیادہ شور مچائے بغیر ہزاروں متاثرین کو کروڑوں روپے کی ریلیف اینڈ ریسکیو کی سہولتیں پہنچا چکی ہیں۔یہ وہ تنظیمیں ہیں جو ٹی وی کیمرے، پریس ریلیز اور تصویر بازی سے بے نیاز سرکاری سرپرستی کی محتاجی کے بغیر بس کام میں لگی ہوئی ہیں۔ گذشتہ سال میرا محکمہ موسمیات پشاور مرکز بھی جانا ہوا تھا۔وہاں کے عملے نے بہت اخلاص کے ساتھ زلزلہ پیما آلات کی فرسودگی، نئی ٹیکنولوجی کے حصول میں مشکلات اور کارکردگی کے معیار پر کھل کر بات کی۔بجائے اسکے کہ حکامِ بالا اس بات کو دردمندی اور اخلاص کے طور پر دیکھتے۔انہوں نے روایتی نوکرشاہانہ ردِ عمل کا اظہار کیا اور جس جس نے بات کی اسے زبانی یا تحریری تنبیہہ کا سامنا کرنا پڑا۔محکمہ موسمیات پشاور کے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ایک تجربہ کار اہلکار محمود احمد کو اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ اس وقت مجھے بتایا گیا تھا کہ آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے پہلے محکمہ موسمیات کو زلزلے اور زمین کی حرکت کے مشاہدے کے آلات سے مزین پندرہ سے بیس مراکز قائم کرنے کے لیئے بیس کروڑ روپے کے لگ بھگ فراہم کیئے جا رہے ہیں۔ایک برس بعد معلوم ہوا کہ یہ منصوبہ آگے بڑھ تو رہا ہے لیکن نہایت سست رفتاری کے ساتھ۔کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد کے پہلے سے قائم مراکز کی سیٹلائٹ لنک نیٹ ورکنگ اب تک نہیں ہو پائی جوکہ زمین کی حرکت کے ڈیٹا کو یکجا کرکے اسکا تجزیہ کرنے کے لیئے بہت ضروری ہے۔ صرف یہ ہوا ہے کہ تینوں مراکز میں زلزلے کی مانیٹرنگ کا گورالپ نامی برطانوی سافٹ وئیر فراہم کردیا گیا ہے جو سابقہ نظام کی نسبت زیادہ تیزی سے ڈیٹا پروسیسنگ کر سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے کچھ لوگوں کو ناروے اور جاپان سے زلزلے کی مانیٹرنگ کے سال سال بھر کے کورسز کروائے جارہے ہیں اور پشاور سینٹر میں زلزلے کی مانیٹرنگ کے شعبے کو علیحدہ کرنے کے لیئے عمارت زیرِ تعمیر ہے۔ آٹھ اکتوبر کے بعد پشاور اور اسلام آباد کے کچھ سرکردہ ماہرینِ ارضیات نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ مختلف جامعات کے چیدہ چیدہ ماہرینِ ارضیات، ایٹمی توانائی کمیشن، واپڈا اور کچھ بیرونی ماہرین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس بنائی جائے جو ایک جدید زلزلہ پیما نظام اور مطالعے کے ڈھانچے کو وضع کرنے کے لیئے ایک ٹھوس منصوبے پر کام کرے اور متعلقہ اداروں اور ماہرین کے مابین قریبی رابطے کو فروغ دے۔
اس کے علاوہ فلڈ کمیشن کی طرز پر ایک علیحدہ ارتھ کوئیک اتھارٹی تشکیل دی جائے۔کیونکہ محکمہ موسمیات کے وسائل محدود ہیں اور موسم اور سیلاب کے تعلق سے اس پر کام کا اتنا بوجھ ہے کہ وہ چاہتے ہوئے بھی ارتھ کوئیک کے موضوع سے پیشہ ورانہ انصاف نہیں کرسکتا۔محکمہ موسمیات کے زلزلے سے متعلق ماہرین کو نئی ارتھ کوئیک اتھارٹی میں کھپایا جا سکتا ہے۔ ٹاسک فورس یا اتھارٹی کی تجویز پر تو کام آگے نہیں بڑھ سکا البتہ یہ ضرور ہوا کہ مارچ میں وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے نیشنل سینٹر فار ارتھ کوئک سٹڈیز کے قیام کا اعلان کیا۔فی الحال اسکا مختصر سا سیٹ اپ اسلام آباد کے پاک سعودی ٹاور میں قائم ہے اور خیال ہے کہ اسکی مستقل عمارت قائدِ اعظم یونیورسٹی میں قائم ہوگی۔ جہاں تک تعلیمی اداروں میں زلزلے سے آگہی کو فروغ دینے کا سوال ہے تو اس بارے میں فی الحال نصابی سطح پر کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔البتہ صوبہ سرحد کے ٹیکسٹ بک بورڈ نے زلزلے کے موضوع پر یونیسکو کی مدد سے ایک کتابچہ شائع کیا ہے۔جو طلبا اور عام لوگوں کے لیئے ہے۔ارتھ کوئیک انجینیرنگ کی تعلیم حسبِ سابق پشاور انجینیرنگ یونیورسٹی اور این ای ڈی انجینیرنگ یونیورسٹی کراچی میں دی جارہی ہے اور اس فہرست میں فی الحال کسی اور ادارے کا اضافہ نہیں ہوا ہے۔البتہ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں زلزلے کے بعد سے جئیو فزکس میں ریسرچ کے خواہاں طلبا کی دلچسپی بڑھی ہے۔ جہاں تک زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں یا پورے پاکستان کے سسمک نقشے بنانے کا معاملہ ہے تو نیس پاک نامی ایک فرم نے آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی مائکرو زوننگ اور میپنگ مکمل کرلی ہے۔تاہم اس میں سے صرف بالا کوٹ اور مظفر آباد کے نقشے کو عام کیا گیا ہے اور مظفرآباد کو جزوی اور بالاکوٹ شہر کو کلی طور پر ریڈ زون میں دکھایا گیا ہے جہاں کسی بھی طرح کی مستقل تعمیرات سےگریز کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں ارتھ کوئیک کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کرنے والی واحد پاکستانی سکالر ڈاکٹر مونا لیزا نے صرف دو شہروں کو ریڈ زون میں دکھائے جانے کی صورتحال کو جیالوجی اور جیو فزکس کے تناظر میں مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔انکا کہنا ہے کہ ایک ہی فالٹ لائن پر آباد چند پوائنٹس کو ریڈزون قرار دینا اور بالکل قریب کے دیگر پوائنٹس کو اس زون سے باہر دکھانا سمجھ سے باہر ہے۔ڈاکٹر مونا لیزا نے مثال دی کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے اسلام آباد تو ریڈزون میں ہو لیکن جڑواں شہر پنڈی اس زون سے باہر رکھا جائے۔
ان کے خیال میں ریڈ زون مظفر آباد سے الائی تک کی زلزلہ زدہ پٹی پر مشتمل ہے۔اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو پھر نئی تعمیرات کے لیئے جو بلڈنگ کوڈ بنایا جا رھا ہے وہ اپنی افادیت کھو دے گا۔اور ایک ہی فالٹ لائن پر بننے والی عمارتیں زلزلہ برداشت کرنے کے الگ الگ سکیلز پر بنائی جائیں گی جبکہ حقیقت میں انہیں ایک ہی سکیل پر بننا چاہیئے۔ اس بارے میں پشاور یونیورسٹی کے ارضیاتی مطالعے کے اعلی مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آصف خان بھی تحفظات رکھتے ہیں۔انکا مشاہدہ یہ ہے کہ حکومت نے اگرچہ مظفر آباد اور بالاکوٹ کو تو ریڈزون قرار دے دیا ہے تاہم دیہی علاقوں کو شاید اس لیئے ریڈ زون سے باہر رکھا گیا ہے کہ حکومت کے پاس ان دیہی علاقوں کے باریک بین سروے کے لیئے یاتو وسائل نہیں ہیں یا پھر خواہش کی کمی ہے۔حالانکہ زلزلے کے نتیجے میں دیہی علاقوں کی پہاڑی زمین جس طرح سے پھٹی ہے اسکے بعد کئی علاقے تعمیرات کے قابل نہیں رہے۔ ڈاکٹر آصف خان نے بتایا کہ گذشتہ ایک برس کے دوران انہوں نے خود کئی جگہ دیکھا کہ جہاں جہاں لینڈ سلائیڈنگ کا عمل جاری ہے یا اسکا خطرہ ہے اسی پہاڑ کی چوٹی پر لوگ پھر سے گھر بنا رہے ہیں اور انہیں کوئی بتانے والا نہیں کہ یہاں پر اب رہنا کس قدر خطرناک ہے۔ ڈاکٹر مونالیزا نے نئے بلڈنگ کوڈ پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔انکا کہنا ہے: ’زلزلہ آنے کے چند ماہ بعد بیوروکریسی نے خانہ پُری کرنے کے لیئے عجلت میں اسلام آباد کا ایک نیا بلڈنگ کوڈ بنا کر پیش کردیا۔اور اسکی تیاری کے دوران کمیٹی میں کسی اکیڈمک ماہر کو شامل نہیں کیا گیا۔جب ہم نے شائع ہونے والے بلڈنگ کوڈ پر تکنیکی اعتراضات اٹھائے تو پھر مجھے اس کوڈ کی ریویو کمیٹی میں شامل کرلیا گیا۔‘ ڈاکٹر آصف خان کا کہنا ہے کہ آٹھ اکتوبر کے بعد یہ تبدیلی تو آئی ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے تحت زلزلے کےتعلق سے کئی کانفرنسیں اور سیمینار منعقد ہوئے جس میں سرکاری لوگوں اور یونیورسٹی کے ماہرین کو یکجا ہوکر ایک دوسرے کے خیالات سننے کا موقع ملا ہے لیکن سب کچھ سننے اور سمجھنے کے بعد جب فیصلہ سازی کی بات آتی ہے تو بیوروکریسی کسی کو گھاس نہیں ڈالتی۔ |
اسی بارے میں خصوصی ویڈیو: زلزلہ، جن کی تلاش جاری ہے08 April, 2006 | پاکستان ’زلزلےکےبعد چھوٹی تباہی کاخطرہ‘16 March, 2006 | پاکستان بالاکوٹ میں بےیقینی 07 June, 2006 | پاکستان ابتدائی امداد کے 30 ہزارچیک باؤنس22 April, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||