بارشیں رحمت یا زحمت! | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بحرانی نظم و نسق ہمیشہ سے پاکِستان کا مسئلہ رہا ہے۔ بحران چاہے سیاسی ہوں یا سماجی یا پھر قدرتی، یہاں مسا ئل بے شمار ہیں لیکن ان کا حل ندارد۔ بارشوں اور سیلاب کو ہی لیجۓ پچاس سال گزر گۓ ابھی تک ھر سال مون سون تباھی اور بربادی کا پیغام لے کے آتا ہے۔ پاکستان میں حالیۂ بارشوں کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو پچھلے تین ہفتوں کے دوران مختلف ذرائع (بی بی سی، اے ایف پی، پاکستانی ذرائع ابلاغ) کے مطابق پینتیس اموات اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ بری طرح سے متاثر وہ علاقے ہیں جو پہلے ہی شمال مشرق میں زلزلے کی وجہ سے آفت زدہ قرار دۓ جا چکے ہیں۔مون سون کی بارشیں کوئی نیا عمل نہیں ہیں۔ ہر سال بارشیں ہوتی ہیں ، تباہی ہوتی ہے ، چیخ و پکار ، اموات اور پھر معاملہ ختم۔ افسوس اِس بات کا ہےکہ ہم بحثیتِ مجموعی اور انفرادی طور پر بارشوں سے ہونے والے نقصانات سے سبق سیکھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ یہ بات قابلِ یقین ہے کہ نامعلوم قدرتی آفات سے بچنا مشکل ہے لیکن جنوبی ایشیاء میں مون سون کے اوقات کے حوالے سے اِس صورتحال میں زیادہ تر اموات عموماً قابلِ بچاؤ ہوتی ہیں۔باقی انتظامات کو تو چھوڑیں لاہور اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں پانی کی نکاسی کو لیجۓ، نظام انتہائی ناقص ہے۔ آدھ گھنٹے کی بارش کے بعد بچے گلیوں میں کاغذ کی کشتیاں چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ پچھلے ہفتے کو ہی لے لیجۓ لاہور میں بارش ہوئی ، نظامِ زندگی ہل کہ رہ گیا۔صرف ایک دن میں چھ لوگ صرف لاہور میں ہلاک ہوے کئ عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔ پاکستان کے دوسرے شہروں میں مختلف مقامات پر بھی سات اموات ہوئیں۔ راولپنڈی کی اگر بات کریں تو نلّہ لئی کی تباہ کاریوں سے ہر شخص آگاہ ہے لیکن اِس کے باوجود ہر سال بہت سا جانی اور مالی نقصان نلّہ میں سیلاب کی وجہ سے ہوتا ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد اور راولپنڈی میں آٹھ انچ ریکارڈ بارش ہوئی ۔ حکومت کی طرف خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے چار لوگ یہاں بھی ہلاک ہو گۓ۔ اِسی طرح سے کشمیر میں زلزلہ زدہ علاقوں بشمول مظفرآباد اور مانسہرہ میں بارشوں کی وجہ سے اب تک سترہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ مزید بارشوں کے خطرے کی وجہ سےضرورت اِس امر کی ھے کہ عارضی خیموں میں مقیم تین لاکھ لوگوں کو مٹی کے تودوں اور بارش کے اثرات سے بچانے کیلیے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جانا چاہیۓ۔حفاظتی اقدامات حکومتی اختیار میں ہیں لیکن ان پہ عمل درآمد ہونا ایک اور قصہ ہے۔ ہر سال سیلاب اور بارش کی تباہ کاریاں حکومتی اداروں کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔عمومی رائے کے مطابق ملک کے اعلٰی افسران، سیاستدان اور پالیسی ساز ادارے ملک میں موجود ’ازلی سیاسی بحران’ کو نپٹانے میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ شاہد ان کے پاس اور کچھ کرنے کے لۓ وقت ہی نہ بچتا ہو۔اور یھی وجہ ہے کہ شاہد پاکستان میں ابھی تک کسی اور بحران کو توجہ ہی نہیں دی جا سکی۔ پاکستان میں بحرانی انتظام اور بارشوں کے حوالے سے ایک اور قابلِ تنقید پہلو بنیادی ڈھانچہ کی دیکھ بھال ہے۔ اگر پاکستان کے بڑے شہروں مثلاً لاہور ، کراچی، راولپنڈی، اور فیصل آباد میں نکاسی آب کا انتظام انتہائی ناقص ہے تو اندازہ کیا جا سکتا ھے کہ چھوٹے شہروں اور گاؤں میں حا لات کیا ہوں گے۔
چند حلقوں کے مطابق نشیبی علاقوں میں تعمیر اور غیر قا نونی تجاوزات جیسے مسائل پاکستان میں رشوت ستانی اور اقرباء پروری کی وجہ سے اکثر نظرانداز ہو جاتے ہیں اور نتیجتاً بارشوں اور سیلاب کے موقع پر اموات، تباہی اور نقل مقانی کی بڑی وجہ بنتی ہیں۔ بحرانی انتظام کے حوالے سے اگر دیکھا جاۓ تو پاکستان میں سیلاب اور بارشوں سے خبردار کرنے کا کوئی قابلِ ستائش پیشگی نظام موجود نہیں ہے جِس کی وجہ سے ہر سال دریائے سندھ میں طغیانی کے سبب سندھ اور پنجاب کے نشیبی علاقوں میں بھاری پیمانے پر جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی بھی ملک کو اپنے ماضی کے تجربات سے سیکھ کر اپنے مستقبِل کو بہتر بنانا چاہیے۔ گۓ وقتوں کی بات ہے جب بارش کو رحمت سمجھا جاتا تھا لیکن موجودہ حا لات کو دیکھتے ہوئے شائد یہ کہا جا سکتا ہے کہ وسائل اور انتظامات کے فقدان کے نتیجہ میں رحمت ایک زحمت بن کے رہ گئ ہے جو ہر سال تباہی، بربادی اور اموات کا پیغام لے کے آتی ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ اصل میں بارش پاکستان اورخطے میں دوسرے ممالک کے لۓ رحمت کا سبب ہی ہے اگر بارش کے پانی کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جا سکے ۔ لیکن یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ملک کے رہنما اور عوام ملک کی ترقی کے بارے میں سوچیں تاہم عوامی رائے کے مطابق ملکی ترقی تو شا ہد پاکستانی رہنماؤں کی ترجیحات میں کبھی شامل رہی ہی نہیں ہے۔ رہنماء سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف رہتے ہیں عوام بیچارے مہنگائی اور غربت سے دست و پا ہیں اور اِس دوران بارشیں اپنا کام کر کے چلتی بنتی ہیں۔ | اسی بارے میں ٹاسک فورس 150 کے ساتھ26 April, 2006 | پاکستان طوفان نے تباہی مچا دی: 11 ہلاک22 May, 2006 | پاکستان پنجاب: باد و باراں، 13 افراد ہلاک 22 May, 2006 | پاکستان پنجاب میں بارشوں سے پچیس ہلاک 14 July, 2006 | پاکستان سوموار سے نئی ٹرین22 July, 2006 | پاکستان پاکستان: بارش سے کئی ہلاک24 July, 2006 | پاکستان لاہور میں بارش، چھ ہلاک 25 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||