ٹاسک فورس 150 کے ساتھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چوبیس اپریل کی تپتی دوپہر کو بحرین کی بندر گاہ مینا سلمان پر لنگر انداز ہالینڈ کے جہاز کے ’ڈیک‘ پر سفید شامیانے تلے سفید وردیوں میں ملبوس امریکہ، پاکستان، ہالینڈ اور بحرین سمیت کئی ممالک کی بحری افواج کے اہلکار اور افسران جمع ہوئے۔ بحریہ کی روایت کے مطابق مخصوص سیٹی بجا کر سرکاری مہمانوں کی آمد اور استقبال کا سلسلہ ختم ہوا اور دنیا کی پچیس لاکھ مربع میل سمندری حدود کی حفاظت پر مامور امریکہ اور ان کی اتحادی افواج کے تین اہم ’ٹاسک فورسز‘ میں سے سب سے بڑے یعنی ’ٹاسک فورس 150‘ کی کمان پاکستان بحریہ کے ریئر ایڈمرل شاہد اقبال کے سپرد کی گئی۔
اس تقریب کی میڈیا میں زیادہ کوریج کی فکر جتنی بظاہر امریکہ کو تھی اتنی کثیر الملکی افواج کی پہلی بار کمانڈ کرنے والی پاک بحریہ والوں کو نہیں تھی۔ شاید یہ ہی وجہ تھی کہ امریکی سفارتخانہ اور فوج کا تعلقات عامہ کا شعبہ اسلام آباد کے صحافیوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ بحرین جانے کے لیے رابطے کر رہا تھا۔ امریکہ اور ان کی اتحادی افواج کے پینتالیس جہاز اور بیس ہزار فوجی پچیس لاکھ مربع میل سمندری حدود میں ہر وقت گشت کے لیے تیار رہتے ہیں اور ان افواج کی موجودگی کا مقصد کسی بھی ممکنہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنا، غیر قانونی اسلحہ اور منشیات کی نقل حمل اور ’پائریٹس‘ کو روکنا ہے۔ امریکہ اور اتحادی افواج نے اپنی کمانڈ کو تین بڑے اور سات ذیلی ٹاسک فورسز میں بانٹ رکھا ہے اور ان میں ٹاسک فورس150 کی ذمہ داری بیس لاکھ مربع میل سمندری حدود کی حفاظت کرنا ہے۔ ہر ٹاسک فورس کی چار چار ماہ بعد کمانڈ تبدیل ہوتی ہے اور سب سے بڑے ٹاسک فورس کی کمان اس بار پاکستان کو ملی ہے۔ اس ٹاسک فورس کی کمان سنبھالنے والے دراز قد والے ریئر ایڈمرل شاہد اقبال کو بحری آپریشنز کے شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ اس تقریب کی کوریج کے لیے امریکہ نے اسلام آباد سے صحافیوں کو بحرین پہنچانے اور واپس اسلام آباد لانے کے لیے اپنا فوجی ساز و سامان کے لیے استعمال ہونے والے ’سی 130‘ طیارہ فراہم کیا اور بحرین میں قیام کے دوران قیدیوں کو لے جانے والی گاڑی نما ایک بس ان کے لیے مخصوص کردی۔ اسلام آباد سے ساڑھے پانچ گھنٹے کی پرواز کے بعد جب بحرین کی ائر بیس پر اترے تو ’ساؤنڈ گارڈ‘ کے باوجود بھی کانوں سے کئی گھنٹے تک ’سی 130‘ کے شور کی گونج سنائی دیتی رہی۔ بحرین، بحیرہ فارس کا ایک چھوٹا مگر جغرافیائی اعتبار سے ایک اہم ملک ہے جس کی اراضی چھ سو پینسٹھ مربع میل اور آبادی سات لاکھ کے قریب ہے اور اس میں غیر بحرینی آبادی کی شرح سینتیس فیصد ہے۔ زیادہ تر آبادی مسلمانوں کی ہے جبکہ کُل آبادی کا نوفیصد حصہ عیسائی ہیں۔
بحرین کے دارالحکومت مناما میں چند گھنٹے گھومنے پھرنے کے دوران کم آبادی کے باوجود بھی ہر طرف بڑی بڑی عمارتیں نظر آئیں اور ان میں سے کئی زیر تعمیر بھی تھیں۔ اس ملک کا دیگر عرب ممالک کی طرح زیادہ تر معیشت کا انحصار تیل پر ہے اور قدرتی گیس اس ملک کی کھپت جتنی ہی پیدا ہوتی ہے۔ سعودی عرب کے مشرق میں واقع بحرین ’آف شور بینکنگ‘ کا بڑا مرکز بنتا جارہا ہے۔ سڑک کا رابطہ ہونے کی وجہ سے ہر ’ویک اینڈ‘ پر یہاں پچاس ہزار سے زائد سعودی باشندے آتے ہیں اور ان کی رہائش کے لیے ’فرنِشڈ اپارٹمینٹ‘ مقامی لوگوں کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بتایا گیا۔ سالانہ ساڑھے چار ارب ڈالر آمدن اور ساڑھے تین ارب ڈالر اخراجات والے اس چھوٹے عرب ملک میں یورپ اور امریکہ کی طرز پر بڑے بڑے شاپنگ مال بنے ہوئے ہیں اور مہنگائی کے اعتبار سے اس ملک کو دنیا کے چند بڑے ممالک میں گنا جاسکتا ہے۔ بحرین میں امریکی افواج کی آزادانہ نقل و حمل سے ایسا لگا کہ ان کے لیے چند برس پہلے خود کو بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ نے خصوصی رعایت دے رکھی ہے۔ پندرہ اگست سن انیس سو اکہتر کو برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے والے اس عرب ملک میں سیاحت خاصی فروغ پا رہی ہے اور حکومتی اقدامات سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آئندہ برسوں میں یہ جزیرہ نما ملک سیاحت اور خفیہ بینک اکاؤنٹس رکھنے کے لیے ایک اہم اور محفوظ ملک ہوگا۔ سڑکوں پر زیادہ ٹریفک سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بیشتر لوگوں کے پاس اپنی گاڑیاں ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سات لاکھ کی آبادی میں سے ساڑھے چھ لاکھ افراد موبائیل فون استعمال کرتے ہیں۔ بحرین میں منعقد کردہ اس تقریب کی کوریج میں امریکہ کی دلچسپی کے متعلق تو بظاہر ایسا لگا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہنا چاہتا ہے اور یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ اس ملک پر خاصا اعتماد بھی کرتا ہے۔ | اسی بارے میں خصوصی فورس: کمان پاکستان کی24 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||