خصوصی فورس: کمان پاکستان کی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خلیج کی سمندری حدود میں دہشت گردی کے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئیے تعینات امریکی اور اتحادی افواج کی خصوصی ٹاسک فورس کی سربراہی پیر کے روز پاکستان کے سپرد کر دی گئی۔ پاکستان بحریہ کے ریئر ایڈمرل شاہد اقبال نے ’ٹاسک فورس 150‘ نامی اس فورس کے نئے کمانڈر کی حیثیت سے چارج لیا ہے۔ اس ٹاسک فورس کی سربراہی عام طور پر ہر چار ماہ میں تبدیل ہوتی ہے۔ 25 لاکھ مربع میل سمندری حدود کی حفاظت امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کی ذمہ داری ہے جس میں سے 20 لاکھ مربع میل علاقے کی ذمہ داری ’ٹاسک فورس 150‘ کی ہے۔ اس سے پہلے اس ٹاسک فورس کی سربراہی نیو زی لینڈ کے پاس تھی اور انہوں نے یہ ذمہ داری پیر چوبیس اپریل کو بحرین کی بندرگاہ ’مینا سلیمان‘ پر منعقدہ ایک تقریب میں پاکستان کے حوالے کی۔ اس کثیر الملکی فوج میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اٹلی اور دیگر ممالک کی افواج شامل ہیں۔ امریکی بحریہ کے ایک ترجمان چارلز براؤن نے بی بی سی کو بتایا کہ مجموعی طور پر سمندری حدود کی حفاظت کے لئیے دنیا کے مختلف ممالک کے پینتالیس جہاز اور بیس ہزار فوجی اہلکار تعینات ہیں جس میں سے زیادہ تر افراد ’ٹاسک فورس 150‘ کے ہی ما تحت ہیں۔ ٹاسک فورس کی کمان سنبھالنے والے ریئر ایڈمرل شاہد اقبال نے برطانیہ کے ’سکول آف میری ٹائم آپریشنز‘ کا ’پرنسپل وارفیئر شپیشلائزیشن‘ کورس کیا ہوا ہے۔ ہالینڈ کے جہاز پر منعقد اس تقریب کی کوریج کے لئیے پاکستان بحریہ نے اسلام آباد سے کئی صحافیوں کو لانے کا انتظام کیا ہے۔ تقریب میں پاکستان بحریہ کے نائب سربراہ وائس ایڈمرل محمد ہارون اور امریکی بحریہ کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔ پاکستان کو امریکہ کی جانب سے یہ اہم کمانڈ ملنے کے بارے میں وائس ایڈمرل محمد ہارون کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرنے پر اعتماد کا اظہار ہے۔ پاکستان کو امریکہ نے نیٹو کا اہم غیر رکنی اتحادی کا درجہ دے رکھا ہے اور یہ پہلا غیر رکنی ملک ہے جسے اس کثیر الملکی فوج کی سربراہی سونپی گئی ہو۔ | اسی بارے میں نیٹو کی توسیع‘ روس کی تشویش02 April, 2004 | صفحۂ اول دبئی جانے کے لالچ میں لُٹ گئے25.02.2003 | صفحۂ اول بھارتی بحریہ کے جہاز واپس11.06.2002 | صفحۂ اول پاک بحریہ کے جنگی جہاز واپس14.06.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||