BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 October, 2006, 15:31 GMT 20:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زندگی کی قیمت اور مجبوری

مظفرآباد
نور حسین زلزلے کے آٹھ مہینے بعد خستہ حال مکان میں رہنے پر مجبور ہیں
مظفرآباد کے پچاسی سالہ نور حسین زلزلے کے آٹھ مہینے بعد اپنے اس ٹوٹے پھوٹے اور ایسے خستہ حال مکان میں اپنی بیوی اور بیٹیوں کے ہمراہ رہنے پر مجبور ہیں، جس میں رہنا جانتے بوجھتے اپنی زندگی کو داؤ پر لگانے کے برابر ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں صرف نور حسین نہیں بلکہ زلزلہ متاثرین کی بڑی تعداد ایسے مکانوں میں رہنے پر مجبور ہے جو زلزلے میں گرے تو نہیں لیکن ٹوٹ پھوٹ گئے تھے اور ان میں بعض ایسے ہیں جنہیں گرنے کے لیے شاید زلزلے کے کسی ہلکے سے جھٹکے کی بھی ضرورت نہیں۔

زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں حکام نے سارا زور عارضی رہائش گاہوں کی تعمیر پر رکھا جو بہرحال عارضی ہی تھیں۔

ایک برس کےدوران خیمے پھٹ گئے، ٹین کےمکان ٹوٹ گئے اور پھر لوگ بھی خانہ بدوشوں کی سی زندگی گذارتے گذارتے تنگ آگئے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ اپنے انہی ٹوٹے پھوٹے گھروں میں لوٹ گئے جن میں رہنا اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

نور حسین کا گھر بھی ایسا ہی ہے۔ اس گھر کی ہر دیوار میں دراڑ اور ہر چوکھٹ اکھڑی ہے۔ اسی لیے میں نے اندر جانے کی بجائے صحن میں کھڑے ہو کر بات کرنا ہی مناسب سمجھا۔

نور حسین نے بتایا کہ جسے میں صحن سمجھ رہا ہوں وہ دراصل کمرہ تھا جس کی چھت گری تو اس کا اکلوتا بیٹا، جو سات بہنوں کا واحد بھائی تھا، ملبے تلے دب کر دم توڑ گیا تھا۔

نور حسین نے بتایا کہ بیٹے کی تدفین کے بعد انہوں نے پہلے تو گھر کے سامنے ایک خیمے میں رہائش اختیار کی اور سات آٹھ مہینے وہیں گذارنے کے بعد وہ تنگ آگئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جوان بیٹیاں بے پردہ ایک راہ گذر میں پڑی رہتی تھیں۔ باتھ روم کے مسائل تھے، کچن کے مسائل تھے۔ خیمے میں رہنا ان کے بقول کوئی آسان کام نہیں ہے۔ تبھی انہوں نے فیصلہ کیا کہ چاہے زندگی جائے وہ واپس اپنے مکان میں جائیں گے۔


سرکاری اعداد و شمار کےمطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلے سے سوا دو لاکھ مکان مسمار ہوگئے جبکہ پچاس ہزار جزوی طور پر متاثر ہوئے تھے۔

آخر ان ٹوٹے مکانوں کو گرایا کیوں نہیں جاتا؟ یہی سوال لے کر میں مظفرآباد کی میونسپل کارپوریشن پہنچا تو خود اس کے دفتروں کی حالت ناقابل استعمال دکھائی دی۔ ایک اہلکار محمود اختر سے پوچھا کہ کیا انہیں اس ٹوٹی پھوٹی عمارت کے اپنےاوپر گرنے کا ڈر نہیں؟

انہوں نے کہا کہ جب تک کسی عمارت کا بندوبست نہیں ہوتا وہ اسی میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم دروازے کھلے رکھتے ہیں اور بھاگ کر جان بچانے کے لیے ہر وقت ذہنی طور پر تیار رہتے ہیں۔‘

مظفرآباد میونسپل کارپوریشن جو اپنے دفتر کو مسمار نہیں کر سکی تھی اس سے دیگر مکانوں کی مسماری کی کیا توقع کی جاسکتی تھی۔ بہرحال معلومات یہ حاصل ہوئیں کہ ایک برس بعد بھی کارپوریشن شہر کے پچس فیصد سے بھی کم علاقے کا صرف سروے ہی کر سکی ہے ۔

اسی ادھورے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کے سٹیٹ افسر خواجہ بشارت نے کہا کہ شہر میں تین ہزار ایسے مکان ہیں جنہیں فوری طور پر مسمار کرنا ضروری ہے۔ ان میں سے چھ سو کو انہوں نے نوٹس جاری کر دیئے ہیں اور دو سوگرا دئیے گئے ہیں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کی کارپوریشن کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ تمام گھروں کو گرا سکیں۔

زلزلے میں مکمل تباہ ہونے والے مکان کا معاوضہ پونے دو لاکھ اور قابل مرمت کا پچاس ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔

ایسی کئی شکایات ملیں ہیں کہ جس مکان کو قابل مرمت قرار دے کر تعمیر نو کے ادارے نے کم معاوضہ دیا میونسپل کارپوریشن نے اسی مکان کی مکمل مسماری کا نوٹس جاری کر دیا۔

سٹیٹ افسر خواجہ بشارت نےکہا کہ تعمیر نو کے ذمہ دار ادارے کی سروے ٹیمیں تکنیکی افراد پر مشتمل نہیں ہیں اور وہ بعض ایسے مکانوں کو بی کیٹگری میں رکھ رہی ہیں جو فوری گرا دینے چاہیے۔

مقامی شہری تعمیر نو کے لیے ملنے والے سرکاری معاوضے کو انتہائی کم سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس رقم سے مکان تعمیر نہیں ہوسکتا۔

بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اپنے گھروں کی چھتوں پر خیمے لگا لیے ہیں۔ لوئر اڈا کی ایک خاتون پروین رشید کا خیال ہے کہ گھر گرنے کی صورت میں اگر وہ چھت پر ہوں تو زندگی بچ جانے کی زیادہ امید رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سارا دن ٹوٹے مکان میں کام کرتی ہیں اور رات ہونے پر چھت کے خیمے میں سو جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مظفر آباد، ضلع باغ اور دیگر ایسے علاقے جو فالٹ لائن پر واقع ہیں، وہاں چٹخ جانےوالے مکانوں میں رہنا خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ اس صورت میں ایک ہلکا زلزلہ بھی بہت ہلاکت خیز ثابت ہوسکتا ہے۔

پچاسی برس کے نور حسین نے کہا کہ ’اپنی زندگی کسے پیاری نہیں ہوتی؟ میری بھی خواہش ہے کہ سر چھپانے کو کوئی ایسی جگہ مل جائے جہاں زندگی کے آخری ایام کسی خوف کے بغیر کاٹ سکوں لیکن بعض مجبوریاں زندگی کی قیمت سے بڑھ جاتی ہیں۔‘

بالاکوٹ کا رہائشیزلزلے کے سال بعد
بالاکوٹ میں صورتحال تشویشناک
خیمہزلزلے کے بعد تعمیر
بیشتر لوگ نئے گھر نہیں بنا پائے ہیں
زلزلہ متاثرین کے خیمےمتاثرین کی پریشانی
پرانےخیمے نئی سردی، کیا مقابلہ ممکن ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد