حکومتی نقشے سے گھر نہیں بنتا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایبٹ آباد کی یونین کونسل بکوٹ دریائے جہلم کے کنارے پر واقع ہے اور اس یونین کونسل کی ایک پہاڑی پر واقع ایک گاؤں سنگل سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے کچھ علاقوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یونین کونسل بکوٹ میں چھبیس گاؤں ہیں اور اس کی آبادی تقریباً پچیس سے تیس ہزار ہے۔ اس یونین کونسل کے اکثر لوگ زلزلے کے ایک سال گزر جانے کے باوجود اس کشمکش میں ہیں کہ وہ اپنے گھر حکومت کی طرف سے فراہم کردہ نقشے کے مطابق بنائیں یا پھر اپنی ضروریات کو مدنظر رکھ کر اپنے مکانات کی تعیمر کریں۔ یونین کونسل بکوٹ کے گاؤں ملویاں سے تعلق رکھنے والے شبیر عباسی جو سعودی عرب میں کام کرتے ہیں ان دنوں واپس اپنے گاؤں آئے ہوئے ہیں اُن کا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگوں کو اگر حکومت کی طرف سے ادا کیے جانے والے پہلے چیک کی رقم کے ساتھ اگر تجویز کردہ نقشہ بھی مل جاتا تو شاید بہت سارے لوگ اُس نقشے پر عمل کرتے لیکن یہاں کے لوگوں نے اپنی ضرورت کا سامان لے کر اپنے مکان کھڑے کرنے شروع کیے ہیں اور نقشہ بعد میں ملا ہے۔
شبیر عباسی کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو لوگ حکومت کے فراہم کردہ نقشے کے مطابق اپنے گھروں کی تعمیر نہیں کر رہے اُن کو حکومت کی جانب سے مکان بنانے کے لیئے ملنے والی رقم کی اگلی قست ادا نہیں کی جائے گی۔ پرویز عباسی کا تعلق سنگل نامی گاؤں سے اور وہ ایک سرکاری سکول میں پڑھاتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ اپنے گھر تو بنانا چاہتے ہیں لیکن یہاں مکان بنانے والے مستری حضرات نہیں مل رہے۔ اور جو مستری موجود بھی ہیں وہ پانچ سو روپے دھاڑی سے کم نہیں لیتے۔ یہاں کے اکثر لوگوں کو شکایت ہے کہ حکومت کی طرف سے تجویز کردہ نقشے پر خرچ بہت زیادہ آتا ہے، کیونکہ اُس نقشے کے مطابق گھروں کو سیمنٹ اور کنکریٹ سے بنے ہوئے بلاکوں سے بنایا جاتا ہے اور ایک بلاک پچیس سے تیس روپے میں پڑتا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے یہ لوگ دیواریں پتھروں سے بناتے تھے اور اُنہیں یہ پتھر مقامی طور دستیاب تھا۔
اکثر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جو مستری یہاں دستیاب ہیں وہ بھی حکومت کی جانب سے تجویز کردہ نقشے کے مطابق گھر نہیں بنا سکتے۔ منیر احمد مستری کا کام کرتے ہیں اور اُن سے میری ملاقات سنگل میں ہی ہوئی جہاں وہ ایک مکان کی تعمیر میں مصروف تھے۔ منیر احمد کا کہنا تھا کہ اُن کو اور دیگر مستری حضرات کو فوج کی طرف سے لگائے گئے ایک کیمپ میں نئے نقشے کے مطابق گھروں کی تعمیر کے حوالے سے دو دن کا ایک تربیتی کورس کرایا گیا تھا۔ لیکن منیر احمد کا کہنا تھا کہ دو دن میں کچھ خاص نہیں سیکھا جا سکتا۔ منیر احمد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی تک اُنہوں نے جتنے بھی گھر بنائے ہیں کسی نے بھی حکومت کے فراہم کردہ نقشے مطابق نہیں بنوائے۔ منیر احمد کے بقول لوگوں کا کہنا ہے وہ چھوٹے مکانوں میں نہیں رہ سکتے اور اُنہیں ایسے گھر چاہیے جن کے کمرے بڑے ہوں اور جانوروں کے لیئے بھی شیڈ ہوں۔ ’ہمیں تو اپنے جانور بھی ساتھ رکھنے ہوتے ہیں‘۔ زلزلے کے ایک سال گزر جانے کے باوجود اس یونین کونسل کے اکثر دیہات میں لوگوں نے اپنے گھروں کی تعمیر کا کام شروع نہیں کیا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اب تک مکانات کی تعمیر کے لیے جو رقم اُنہیں ملی ہے وہ اُس رقم میں سے کچھ رقم اپنے روزمرہ کے اخراجات کے لیئے بھی خرچ کر چُکے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر لوگوں کی مکانات کی تعمیر اور حکومت کی طرف سے تجویز کردہ نقشے کے بارے میں پائی جانے والی تشویش کی وضاحت نہیں جاتی تو اس سے لوگوں کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہی ہو گا۔ |
اسی بارے میں ہر پانچ میں سے دو مکان تباہ: حکام23 October, 2005 | پاکستان عمر حفیظ کا کیوبا07 October, 2006 | پاکستان سرحد کے اخبارات میں زلزلے پر ’زلزلہ‘06 October, 2006 | پاکستان کیا خیمے پناہ دے سکتے ہیں؟19 October, 2005 | پاکستان زلزلہ: حاملہ خواتین کا کرب21 October, 2005 | پاکستان زلزلے کے نتیجے میں ذہنی امراض08 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||