BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 July, 2006, 00:07 GMT 05:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارش میں پھنسے کشمیری خاندان

حکام نے پہلی جولائی تک متاثرین کی منتقلی کا وعدہ کیا تھا
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں تودوں کے خطرے کی زد میں بتیس دیہاتوں سے کوئی ڈیڑھ ہزار خاندانوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے عمل میں بارشوں کی وجہ سے مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ حکام نے پہلے کہا تھا کہ وہ یہ کام یکم جولائی سے پہلے مکمل کرلیں گے لیکن اب ان کا یہ کہنا ہے کہ اس میں کچھ اور وقت لگ سکتا ہے۔

حکام کے مطابق ضلع مظفرآباد میں بارشوں کی وجہ سے اکتالیس دیہات تودوں کی زد میں ہیں۔ ان دیہاتوں سے لوگوں کا محفوظ مقامات پر منتقلی کا کام گزشتہ ہفتے کے اوائل میں شروع کیا گیا تھا۔

خمیہ بستیوں کے انتظام کے ذمہ دار حکومتی ادارے کیمپ منیجمنٹ آرگنائزیشن یعنی سی ایم او کے حکام کا کہنا ہے کہ تودے کے خطرے کی زد میں بتیس دیہاتوں سے منتقل کیے جانے والے ڈیڑھ ہزار خاندانوں میں سے اب تک سات دنوں کے دوران صرف ایک سو پینسٹھ خاندانوں کو ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاسکا ہے۔

حکام کا پہلے یہ کہنا تھا کہ ان دیہاتوں سے لوگوں کی منتقلی کام یکم جولائی سے پہلے مکمل کرلیں گے لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ بارشوں کی وجہ سے اس کام میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے اور اس میں اور کچھ دن لگ سکتے ہیں۔

 تودے کے خطرے کی زد میں بتیس دیہاتوں سے منتقل کیے جانے والے ڈیڑھ ہزار خاندانوں میں سے اب تک سات دنوں کے دوران صرف ایک سو پینسٹھ خاندانوں کو ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاسکا ہے۔
سی ایم او کے حکام

حکام کا کہنا ہے کہ ان کو بارشوں اور آندھی کی وجہ سے خیمے نصب کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں اور یہ کہ جہاں خیمے لگا بھی دیے جاتے ہیں ان میں سے بھی کچھ اکھڑ جاتے ہیں۔ مون سون کی بارشوں کے باعث زلزے کے متاثرین عمومی طور پر مشکلات کا شکار ہے۔

اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ ضلع مظفرآباد میں بارشوں کے وجہ سے اکتالیس دیہات تودوں کی زد میں ہیں لیکن کیمپ مینجمنٹ آرگنائزیشن کے ایڈیشنل کمِشنر راجہ عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ کل بتیس( 32) دیہاتوں کو ہی جزوی طور پر خالی کراکر وہاں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور یہ کہ دیگر نو دیہاتوں کے وہ لوگ جو خطرے میں تھے آٹھ اکتوبر کے زلزے کے بعد خیمہ بستیوں میں منتقل ہوگئے تھے۔

راجہ عباس کا کہنا ہے کہ بتیس دیہاتوں میں بسنے والوں میں سے آٹھ ہزار چھ سو پینتیس افراد پر مشتمل چودہ سو بیاسی خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان دیہاتوں میں زلزے کے باعث زمین کی صورت حال ایسی ہوگئی ہے کہ بارش کی وجہ سے وہاں تودے گرنے کا شدید خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دیہاتوں کی حال ہی میں جیو لوجیکل سروے آف پاکستان نے نشاندہی کی تھی اور کہا تھا کہ یہ دیہات مٹی کی تودوں کے زد میں ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جن لوگوں سے گاؤں خالی کرائے جارہے ہیں ان کو پہلے سے موجود قریبی خیمہ بستیوں میں منتقل کیا جارہا ہے اور وہاں ان کے لئے نئے خیمے نصب کیے جارہے ہیں یا لوگوں کی سہولت کے مطابق ان کو اپنے دیہاتوں کے قریب محفوظ جگہ پر منتقل کیا جارہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مون سون ختم ہونے کے بعد خالی کرائے جانے والے علاقوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور اگر یہ علاقے محفوظ قرار دیے گئے تو اس صورت میں لوگوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔ بصورت دیگر ان لوگوں کو اگلے سال مارچ تک ان عارضی خمیوں بستیوں میں ہی رہنا پڑے گا۔

اس دوران حکام کا کہنا ہے کہ حکومت ان متاثرین کی آباد کاری کے لئے متبادل بندوبست کرے گی۔

زلزلہچھ ماہ کے بعد بھی
زلزلہ: ابتدائی امدادی کے 30 ہزارچیک باؤنس
تعمیر نو کی نگرانی
برطانیہ زلزلہ امداد کا نگرانی نظام وضع کرےگا۔
’زلزلے کے یتیم‘’زلزلے کے یتیم‘
مستقبل کیا ہوگا؟خصوصی ویڈیو
زلزلہ زدگانزلزلہ زدگان کے لیے
بحالی کا نیا صوبائی منصوبہ
زلزلہ سے تباہ عمارتزلزلہ انجینئرنگ مرکز
پشاور مرکز کی توسیع اور فنڈز کی منظوری
اسی بارے میں
بالاکوٹ سے بکریال
06 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد